Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / یوپی میں زعفرانی بریگیڈ کو ذات پات پر مبنی تشدد پھیلانے کی آزادی

یوپی میں زعفرانی بریگیڈ کو ذات پات پر مبنی تشدد پھیلانے کی آزادی

انتخابی فتح کیلئے فرقہ وارانہ ماحول بگاڑنے کے بعد بی جے پی اور آر ایس ایس طبقاتی تشدد میںملوث : مایاوتی
لکھنؤ ۔ 24 مئی (سیاست ڈاٹ کام) بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کو آج سخت ترین تنقیدی حملوں کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس میں شامل ذات پات پر مبنی نفرت و امتیاز رکھنے والے عناصر کو ریاست میں سماجی ہم آہنگی و بھائی چارگی کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے سرکاری مشنری کا غلط اور بیجا استعمال کرنے کی بھرپور آزادی دیدی گئی ہے۔ سہارنپور میں گذشتہ روز تشدد کی تازہ لہر پھوٹ پڑنے کے بعد ایک نوجوان کی ہلاکت پر مایاوتی نے الزام عائد کیا کہ ریاستی انتظامیہ کی غفلت و لاپرواہی کی وجہ بی جے پی کے حامی اب اس علاقہ میں تشدد کی لہر برپا کرتے ہوئے دلتوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ بی ایس پی کی سربراہ نے مزید کہاکہ ’’سیاسی فائدہ اور انتخابی فتح کے حصول کیلئے فرقہ وارانہ ماحول کو درہم برہم کرنے کے بعد آر ایس ایس اور بی جے پی میں شامل شرپسند اور مجرم عناصر اب ذات پات پر مبنی تشدد پھیلانے کے درپے ہیں‘‘۔ مایاوتی نے ادعا کیا کہ بے قصوروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ ریاستی نظم ونسق، بی جے پی اور آر ایس ایس کے ساتھ سازباز کرچکا ہے۔ بی ایس پی سربراہ نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو زندگی بھر ممتاز دلت شخصیات کی مذمت کرتے رہے وہی اب ووٹوں کیلئے خود کو دلتوں کے مسیحا ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں‘‘۔ مایاوتی نے کہا کہ اترپردیش میں جب سے بی جے پی اقتدار پر فائز ہوئی ہے امن و قانون کی صورتحال بالکل اسی طرح درہم برہم ہوچکی ہے۔ جس طرح دیگر بی جے پی زیراقتدار ریاستوں میں ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ ’’عوام کی ہراسانی کیلئے زعفرانی بریگیڈ کو فرقہ پرستی اور ذات پات پر مبنی تشدد بھڑکانہ کیلئے مکمل آزادی دیدی گئی ہے چنانچہ اب ہر کسی کو چوکس و خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT