Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / یوپی میں سدھارتھ نگر کی ندیوں میں طغیانی ، بہار بدستور متاثر

یوپی میں سدھارتھ نگر کی ندیوں میں طغیانی ، بہار بدستور متاثر

سیمانچل کے سیلاب زدہ علاقوں میں معمولی بہتری، 17اضلاع متاثر، دربھنگہ ۔سمستی پور ریل سرویس بند

سدھارتھ نگر19 اگست (سیاست ڈاٹ کام ) نیپال سے پانی چھوڑے جانے سے اترپردیش کے ضلع سدھارتھ نگر میں راپتی، بوڑھی راپتی، کوڑا اور گھوگھی ندیوں اور جمار نالے کی طغیانی نے تباہی مچا رکھی ہے ۔ سرکاری ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ بوڑھی راپتی ندی خطرے کے نشان سے 3 میٹر اوپر، راپتی 70 سینٹی میٹر اوپر، کوڑا نڈی 1 میٹر اوپر اور گوگھی ندی 65 سینٹی میٹر اوپر بہنے سے ضلع کے باسی، اٹوا، ڈومریا گنج ، شہرت گڑھ اور نوگڑھ تحصیل کے 500 سے زیادہ گاؤں سیلاب کی زد میں آ گئے ہیں جہاں ڈھائی سو سے زیادہ گاؤں سیلاب کے پانی سے چاروں طرف سے گھرے ہوئے ہیں۔ذرائع نے بتایا کی راپتی ندی کے پانی کی سطح میں اضافہ سے ضلع میں سیلاب کی حالت اور بگڑنے کا خدشہ ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کل باسي اور اٹوا تحصیل میں سیلاب کے پانی میں ڈوب کر دو لوگوں کی موت ہونے سے ضلع میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 6 ہو گئی ہے ۔ کشتیوں کی کمی کی وجہ سے سیلاب متاثرہ گاؤں میں امدادی کام شروع نہیں ہو پا رہے ہیں جس سے نمٹنے کے لئے ضلع انتظامیہ نے حکومت سے امدادی کارروائیوں کے لئے 50 اضافی کشتیوں کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کل وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے ضلع کے دورے سے پہلے سیلاب میں پھنسے لوگوں کو نکالنے اور امدادی سامان کی تقسیم میں تیزی لانے کے لئے فضائیہ کے ہیلی کاپٹر کو لگایا تھا ، مگر اس سے امدادی سامان گرانے کے باوجود سیلاب میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کا کام نہیں ہو سکا ۔جس سے سیلاب متاثرہ گاؤں کے باشندوں نے مکان کی چھتوں، درختوں اور اونچے مقامات پر پناہ لے رکھی ہے ۔ علاقے میں پی اے سی کی دو ٹیمیں ، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی دو یونٹوں کے علاوہ 92 کشتی اور 12 موٹر کشتی بھی راحت کے کام میں لگی ہیں۔ اُدھر بہار اور نیپال کے نشیبی و پانی سے بھرے علاقوں میں بارش کی رفتار کم ہونے سے جہاں سیمانچل کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں لاکھوں متاثر ین راحت محسوس کر رہے ہیں وہیں گوپال گنج سمیت ریاست کے 17 اضلاع میںسیلاب کے حالات اب بھی پہلے کی طرح ہیں۔محکمہ آفات مینجمنٹ کے سرکاری ذرائع نے آج یہاں بتایا کہ ریاست کے پورنیہ، کشن گنج، ارریا، کٹیہار، مدھے پورا، سپول، مشرقی چمپارن، مغربی چمپارن، دربھنگہ، مدھوبنی، سیتامڑھی، شیوہر، مظفر پور، گوپال گنج کے ساتھ ساتھ سہرسہ سمیت 17 اضلاع میں سیلاب کی صورتحال اب بھی خطرناک ہے ۔ دریں اثناء بہار میں مشرقی وسطی ریلوے کے سمستی پورزون کے حیا گھاٹ۔تھلوارہ اسٹیشن کے درمیان بنی ریلوے پل نمبر16 پر سیلاب کا پانی چڑھ جانے کی وجہ آج دوپہر سے سمستی پور۔دربھنگہ روٹ کی ٹرینوں کی آمدورفت بند ہوگئی ہے۔ سینئرزونل کمرشیل مینیجر و میڈیا انچارج وریندر کمار نے بتایا کہ زون کے حیا گھاٹ۔تھلوارہ اسٹیشن کے درمیان پل نمبر16 پر آج دوپہر اچانک باگمتی ندی کا پانی چڑھ گیا۔

TOPPOPULARRECENT