Friday , June 22 2018
Home / ہندوستان / یوپی میں لو جہاد تنازعہ کا نیا موڑ

یوپی میں لو جہاد تنازعہ کا نیا موڑ

’میں اپنی مرضی سے گئی ہوں، والدین سے زندگی کو خطرہ ‘ ،لڑکی نے بیان بدل دیا

’میں اپنی مرضی سے گئی ہوں، والدین سے زندگی کو خطرہ ‘ ،لڑکی نے بیان بدل دیا
میرٹھ ۔ 13 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ’’لو جہاد‘‘ تنازعہ نے آج ایک نیا موڑ اختیار کرلیا جب 22 سالہ مقامی لڑکی نے اپنا سابقہ بیان واپس لے لیا کہ اس کی اجتماعی عصمت ریزی کی گئی تھی اور اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ واضح رہیکہ لو جہاد مسئلہ کو حالیہ اترپردیش ضمنی انتخابات میں اٹھاتے ہوئے بی جے پی نے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی۔ لڑکی کے والد نے کل گمشدگی رپورٹ درج کرائی اور پولیس اسے تلاش کررہی تھی کہ لڑکی خود ویمن پولیس اسٹیشن سے رجوع ہوئی اور دعویٰ کیا کہ اس کی زندگی کو والدین سے خطرہ لاحق ہے۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس (رورل) کیپٹن ایم ایس بیگ نے یہ بات بتائی۔ لڑکی نے کہا کہ وہ مبینہ طور پر اپنی مرضی سے لڑکے کے ساتھ فرار ہوئی ہیں۔ یہ لڑکا ایک مسلمان ہے۔ اس لڑکی کا بیان مجسٹریٹ کے روبرو قلمبند کرائے گئے بیان سے بالکل برعکس ہے۔ تاہم لڑکی کے والد نے اس کے دعویٰ کو قبول نہیں کیا اور کہا کہ اسے بیان بدلنے پر مجبور کیا گیا ہے اور اسے دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ ریاستی بی جے پی صدر لکشمی کانت باجپائی نے سماج وادی پارٹی حکومت پر پولیس کو مجرمین کے تحفظ کی ہدایت دینے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے اس واقعہ کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی نے ضمنی انتخابات میں لو جہاد تنازعہ کو زیادہ سے زیادہ اچھالنے کی کوشش کی لیکن اسے کوئی فائدہ نہیں ہوا اور 11 کے منجملہ 3 نشستوں پر شکست اٹھانی پڑی۔ بعدازاں پارٹی نے لو جہاد مہم سے خود کو دور کرلیا تھا۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ یوگی ادتیہ ناتھ اس مہم میں پیش پیش تھے۔ لڑکی نے آج پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے گھر سے اس لئے فرار ہوگئی کیونکہ اس کی زندگی کو خطرہ لاحق تھا اور اس نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اسے زدوکوب کیا گیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ ایگزیکیٹیو مجسٹریٹ کے روبرو بیان قلمبند کرانے کے بعد اس لڑکی کو تحفظ کیلئے ناری نکیتن بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑکی خود آج صبح 8 بجے مہیلا پولیس اسٹیشن پہنچی اور کہا کہ وہ اپنی خوشی اور مرضی سے لڑکے کے ساتھ گئی ہے۔ تاہم اس مقدمہ میں پہلے ہی چارج شیٹ پیش کی جاچکی ہے اور یہ عدالت میں زیرتصفیہ ہے۔ ایس ایس پی میرٹھ اومکار سنگھ نے کہا کہ لڑکی نے خاتون پولیس عہدیدار کو بتایا کہ اس کی زندگی کو والدین خطرہ لاحق ہے۔ اس بنیاد پر ہم نے لڑکی کا ایگزیکیٹیو مجسٹریٹ کے روبرو بیان قلمبند کرایا اور اب وہ ناری نکیتن میں ہے۔ اجتماعی عصمت ریزی اور جبری مذہبی تبدیلی کے الزام پر اس معاملہ نے اگست میں سیاسی تنازعہ پیدا کردیا تھا اور بی جے پی قائدین نے انتخابات میں اس موضوع کو اچھالتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ لڑکی کے بیان کے بعد ملزم لڑکے کو گرفتار کیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT