Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / یوپی میں 49 اسمبلی نشستوں کیلئے آج رائے دہی

یوپی میں 49 اسمبلی نشستوں کیلئے آج رائے دہی

بی ایس پی کی تمام ، ایس پی کی 40 اور کانگریس کی 9 نشستوں سے قسمت آزمائی، حفاظتی انتظامات میںشدت
لکھنؤ 3 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) یوپی کی 49 نشستوں کے لئے کل رائے دہی مقرر ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سرپرست ملائم سنگھ یادو کی اعظم گڑھ لوک سبھا نشست مرکز توجہ بنی ہوئی ہے۔ اس کے لئے بھی چھٹویں مرحلہ کے دوران رائے دہی ہوگی۔ حفاظتی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں۔ گورکھپور لوک سبھا انتخابی حلقہ کی اسمبلی نشست سے بی جے پی کے شعلہ بیان قائدین یوگی آدتیہ ناتھ اور حلقہ مئو سے گینگسٹر سے رکن اسمبلی بننے والے مختار انصاری جو جیل سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، مقابلہ میں ہیں۔ یہ آخری مرحلہ سے پہلے والا رائے دہی کا مرحلہ ہے۔ تمام اسمبلی حلقے نیپال کی سرحد سے متصل ہیں۔ اِن علاقوں میں تقریباً ایک کروڑ 72 لاکھ رائے دہندے ہیں جن میں 94 لاکھ 60 ہزار مرد اور 77 لاکھ 84 ہزار خواتین ہیں جو 635 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ جن اضلاع میں کل رائے دہی ہوگی وہ مئو ، گورکھپور، مہاراج گنج، خوشی نگر، دیوریا، اعظم گڑھ اور بلیا ہیں۔ اعظم گڑھ لوک سبھا حلقہ میں 10 اسمبلی نشستیں ہیں، ملائم سنگھ یادو نے اپنے پارلیمانی حلقہ میں اِس بار ایک بھی جلسہ عام سے خطاب نہیں کیا۔ مرکزی وزیر کلراج مشرا لوک سبھا میں دیوریا کی نمائندگی کرتے ہیں، اِس حلقہ سے امیدوار اور اُس کے علاوہ آدتیہ ناتھ کی قسمت بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ بی جے پی 45 اور اُس کی حلیف اپنا دل ایک نشست پر مقابلہ کررہے ہیں۔ بی جے پی کی ایک اور حلیف شیلدیو بھارتیہ سماج پارٹی 3 نشستوں پر مقابلہ کررہی ہے۔ بی ایس پی نے تمام 49 نشستوں، سماج وادی پارٹی نے 40 نشستوں اور کانگریس نے 9 نشستوں پر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اِس مرحلہ میں نامور امیدوار بی ایس پی سے انحراف کرنے والے سوامی پرساد موریا، خوشی نگر سے سابق ریاستی صدر بی جے پی سوریہ پرتاپ شاہ ، دیوریا سے سماج وادی پارٹی کے شیام بہادر یادو، گورنر رام نریش یادو کے فرزند، پھولپور پوائی سے سماج وادی پارٹی سے انحراف کرنے والے امبیکا چودھری اور ناردھ رائے بی ایس پی کے ٹکٹ پر مقابلہ کررہے ہیں۔ سب سے زیادہ امیدواروں کی تعداد 23 گورکھپور سے مقابلہ میں ہے اور سب سے کم 7 امیدوار محمد آباد ، گوہنا سے مقابلہ میں ہے۔ مرکزی نیم فوجی تنظیم کا عملہ انتخابی حلقوں کو پہلے ہی پہنچ چکا ہے اور حساس علاقوں میں فلیگ مارچ کررہا ہے۔ پولیس نے اپنی طلایہ گردی میں سرحدی اضلاع میں شدت پیدا کردی ہے۔

قابل اعتراض ویڈیو کی وجہ سے یوپی کے ٹاؤن میں کرفیو
لکھم پور کھیری (یوپی) 3 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) لکھم پور کھیری شہر میں ایک قابل اعتراض ویڈیو پر جھڑپوں کے بعد کرفیو نافذ کردیا گیا۔ یہ ویڈیو مبینہ طور پر دو طلباء نے شائع کیا تھا۔ کرفیو کل رات نافذ کیا گیا جبکہ شہر میں کشیدگی پھیل گئی کیوں کہ مذہبی جذبات مجروح کرنے والا ایک ویڈیو سوشیل میڈیا پر شائع کیا گیا تھا۔ پولیس نے دو طلباء کو گرفتار کرلیا جنھوں نے مبینہ طور پر یہ ویڈیو شائع کیا تھا۔ تاہم احتجاج کا آغاز کل شام سے ہوگیا تھا۔ بازار بند کردیئے گئے۔ جھڑپوں اور فائرنگ کی اطلاعات ملیں جس کے بعد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آکاش دیپ نے تاحکم ثانی اِس علاقہ میں کرفیو نافذ کردیا۔ بعدازاں اُنھوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صورتحال پر قابو پالیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT