Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / یوپی کے چیف منسٹر کی حیثیت سے آدتیہ ناتھ کی حلف برداری، کابینہ میں2 ڈپٹی چیف منسٹرس اور ایک مسلم وزیر شامل

یوپی کے چیف منسٹر کی حیثیت سے آدتیہ ناتھ کی حلف برداری، کابینہ میں2 ڈپٹی چیف منسٹرس اور ایک مسلم وزیر شامل

لکھنؤ۔ 19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوتوا کا متنازعہ چہرہ سمجھے جانے والے یوگی آدتیہ ناتھ کو آج اُترپردیش کے 21 ویں چیف منسٹر کو حیثیت سے حلف دلایا گیا اور ریاست میں بی جے پی کے وہ چوتھے چیف منسٹر بھی ہیں۔ ان کی حلف برداری کے ساتھ یوپی میں گزشتہ 15 سال سے بی جے پی کی اقتدار سے دُور بھی ختم ہوگئی۔ گورنر رام نائیک نے کانشی رام سمرتی ایوان میں منعقدہ ایک عظیم تقریب میں نئے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کے علاوہ بی جے پی کی ریاستی یونٹ کے سربراہ کیشو پراس سوریہ اور ان پارٹی کے قومی نائب صدر دنیش شرما کو ڈپٹی چیف منسٹرس کی حیثیت سے حلف دلایا۔ یہ دونوں 44 سالہ آدتیہ کے نائبین ہوں گے۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ چیف منسٹر اور دونوں چیف منسٹرس میں کوئی بھی فی الحال ابھی کے رکن نہیں ہیں۔ گورکھپور سے پانچ مرتبہ لوک سبھا کے رکن منتخب ہوچکے آدتیہ ناتھ کو کوئی انتظامی تجربہ نہیں ہے جنہیں بی جے پی ارکان اسمبلی نے حیرت انگیز اقدام کے طور پر لیجسلیچر پارٹی کا قائد منتخب کرلیا تھا۔ وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ، بی جے پی کے صدر امیت شاہ، سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی بھی آج منعقدہ حلف برداری تقریب میں شرکت کی جس میں سبکدوش چیف منسٹر اکھیلیش یادو، ایس پی کے سرپرست ملائم سنگھ یادو، دیگر کئی ریاستوں کے بی جے پی چیف منسٹرس بھی موجود تھے۔ بی جے پی کی قیادت سے آدتیہ ناتھ کے تعلقات تلخ و ترش رہے ہیں، لیکن اس کلیدی عہدہ کے لئے ان کے انتخاب نے کئی تجزیہ نگاروں کو حیرت اور مخمصہ میں ڈال دیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پایا جانے لگا ہے کہ چیف منسٹر کا فیصلہ کرنے کے معاملے میں آر ایس ایس نے بی جے پی پر غلبہ حاصل کرتے ہوئے اپنی مرضی مسلط کی ہے۔ آدتیہ ناتھ اپنی تقاریر سے اکثر تنازعات کے شکار بھی ہوتے رہے ہیں۔ گورکھپور مٹ کے سربراہ آدتیہ ناتھ نے 2005ء میں ’’تشہیری مہم‘‘ کی قیادت کی تھی جس کا مقصد عیسائیوں کو تبدیلی مذہب کے ذریعہ ہندو بنانا تھا۔ 2015ء میں آدتیہ ناتھ نے کہا تھا کہ ’’یوگا کی مخالفت کرنے والوں کو ہندوستان سے چلے جانا چاہئے، ورنہ ان سب کو بحر ہند میں غرق کردیا جانا چاہئے‘‘۔ 2007ء کے دوران گورکھپور میں فسادات کیلئے اُکسانے کے الزام کے تحت آدتیہ کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ اپوزیشن جماعتیں اگرچہ آدتیہ پر ایک تفریق پرور اور انتشار پسند سیاسی چہرہ ہونے کا الزام عائد کیا کرتی ہیں، لیکن انہیں یوپی میں قابل لحاظ مقبولیت حاصل ہے اور وہ بالخصوص پاکستان اور اسلام کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے کیلئے مشہور ہیں۔ ایودھیا ے متنازعہ مقام پر رام مندر کی تعمیر کے ایک کٹر حامی آدتیہ ناتھ نے حالیہ اسمبلی انتخابات کے دوران مشرقی یوپی میں بی جے پی کی ہندوتوا مہم کی قیادت کی تھی آدتیہ ناتھ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ وہ مودی کے نعرہ ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ پر عمل کریں گے اور ملک کی کثیرآباد ریاست کی ہمہ گیر ترقی کو یقینی بنائیں گے۔ آدتیہ ناتھ نے راج بھون میں میڈیا سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’مجھے یقین ہے کہ ریاست ترقی کے راستہ پر گامزن ہوگی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بہتر حکمرانی کی فراہمی کیلئے وہ ممکنہ مساعی کریں گے۔ گورنر نے آدتیہ ناتھ کابینہ کے 22 وزراء کو بھی حلف دلایا۔ اترپردیش میں مایاوتی کو چار مرتبہ چیف منسٹر کے عہدہ فائز رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ملائم سنگھ تین مرتبہ چیف منسٹر رہے ہیں۔ مایاوتی اور اکھیلیش یادو ایسے دو چیف منسٹرس ہیں جنہوں نے اپنی پانچ سالہ میعاد پوری کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT