Friday , January 19 2018
Home / سیاسیات / یوپی کے 14 پارلیمانی حلقوں میں آج چوتھے مرحلے کی رائے دہی

یوپی کے 14 پارلیمانی حلقوں میں آج چوتھے مرحلے کی رائے دہی

لکھنو ۔ 29 اپریل ۔ (سیاست ڈاٹ کام ) اُترپردیش میں لوک سبھا کے الیکشن کے چوتھے مرحلے میں 14 پارلیمانی سیٹوں میں 30 اپریل چہارشنبہ کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ انتخابی مہم کے آخری دن تقریباً سب ہی امیدواروں نے روڈ شو کرکے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ۔ لکھنو ، رائے بریلی میں دو زبردست روڈ شو ہوئے ۔ لکھنو میں اترپردیش کے وزیراعلیٰ اور اترپردیش سماج وا

لکھنو ۔ 29 اپریل ۔ (سیاست ڈاٹ کام ) اُترپردیش میں لوک سبھا کے الیکشن کے چوتھے مرحلے میں 14 پارلیمانی سیٹوں میں 30 اپریل چہارشنبہ کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ انتخابی مہم کے آخری دن تقریباً سب ہی امیدواروں نے روڈ شو کرکے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ۔ لکھنو ، رائے بریلی میں دو زبردست روڈ شو ہوئے ۔ لکھنو میں اترپردیش کے وزیراعلیٰ اور اترپردیش سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو تیز دھوپ میں چلچلاتی گرمی کی پرواہ کئے بغیر جب راجدھانی کی سڑکوں پر اپنے امیدوار ابھیشیک مسرا کے لئے ووٹ مانگنے کیلئے نکلے تو اکھلیش یادو کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے لکھنو کی عوام اُمڈ آئی ۔ لکھنو کے جی پی او پارک حضرت گنج سے اکھلیش یادو کا روڈ شو شروع ہوا تو اس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے ۔ روڈ شو میں اکھلیش یادو پیجیرو گاڑی کی چھت پر سماج وادی پارٹی کی ٹوپی لگائے

اپنی پارٹی کے امیدوار ابھیشیک مسرا ، ریاستی وزیر برائے جیل راجیندر چودھری کے ساتھ بیٹھے تھے ۔ وزیراعلیٰ کو اپنا روڈ شو مکمل کرنے میں تقریباً چار گھنٹے لگے ۔ یہ روڈ شو نئے لکھنو سے لے کر پرانے لکھنو تک کیاگیا ۔ ان کا روڈ شو چوک پارک میں جاکر ختم ہوا جہاں وزیراعلیٰ ، ریاستی وزیر شیوپال یادو نے انتہائی مختصر اور عجلت میں عوام سے خطاب کیا کیونکہ انتخابی مہم کا وقت 6 بجے تک کا ہی تھا ۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ اکھلیش یا دو نے بارہ بنکی میں اپنی پارٹی کے امیدوار کے حق میں ایک بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنی حکومت کی حصولیابیوں کے ساتھ بی جے پی کے وزیراعظم کے دعویدار نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کے گجرات ماڈل کو ہندوستان کو منقسم کرنے والا ماڈل اور ان کو ہندوستان کو منقسم کرنے والا شخص قرار دیا۔ فی الحال لکھنو کا الیکشن سالہائے گزشتہ کے مقابلے میں خاصا سخت ہوگیا ہے اگر سیکولر ذہن رکھنے والوں نے ٹھوس حکمت عملی کے تحت ووٹ ڈالے تو لکھنو کی سیٹ ایک مرتبہ پھر سیکولر طاقتوں کے قبضہ میں آسکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT