یوکرین بحران کے سائے میں عالمی قائدین کی ڈی ڈے میں شرکت

کائن (فرانس) ۔ 6 جون (سیاست ڈاٹ کام) تاریخی ڈی ڈے کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر فرانس میں عالمی قائدین اس کا جشن منانے کیلئے جمع ہوگئے ہیں۔ اسی دن فرانس پر جرمنی نے حملہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں دوسری عالمگیر جنگ کے خاتمہ کے دن قریب آ گئے تھے۔ موجودہ سال یوکرین کے بحران کے پس منظر میں اس تاریخی واقعہ کی 70 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔ شمالی فر

کائن (فرانس) ۔ 6 جون (سیاست ڈاٹ کام) تاریخی ڈی ڈے کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر فرانس میں عالمی قائدین اس کا جشن منانے کیلئے جمع ہوگئے ہیں۔ اسی دن فرانس پر جرمنی نے حملہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں دوسری عالمگیر جنگ کے خاتمہ کے دن قریب آ گئے تھے۔ موجودہ سال یوکرین کے بحران کے پس منظر میں اس تاریخی واقعہ کی 70 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔ شمالی فرانس کے ساحلوں پر تقریبات منعقد کی گئیں۔ تاریخ میں یہ سب سے بڑا سمندری حملہ تھا جو 1944ء میں کیا گیا تھا۔ آج منائی جانے والی تقریب میں سربراہان مملکت، شاہی خاندانوں کے افراد اور وزرائے اعظم سینکڑوں معمر افراد کے ساتھ جن کی عمریں 90 سال سے زیادہ تھیں، اس تقریب کے موقع پر دوڑمیں شرکت کرتے ہوئے نظر آئے۔ ان عمر رسیدہ افراد میں نازی فلسفہ سے یوروپ میں نجات دلانے کیلئے اپنی جانیں داؤ پر لگا دی تھیں۔ آج کا دن انتشار اور آتشزنی کے واقعات کے ساتھ شروع ہوا اور خون اور آنسوؤں کے بہنے پر ختم ہوا تھا۔ یہ درد بھرے آنسو تھے لیکن آج وہ اس تقریب کے مناتے وقت خوشی کے آنسو بہا رہے تھے۔

صدر فرانس فرینکوئی اولاند نے تقریب افتتاح سے خطاب کیا۔ اہم شخصیتوں میں جنہوں نے تقریب میں شرکت کی، برطانیہ کی ملیکہ ایلزبتھ دوم جن کی عمر 88 سال ہے اور جو بہت کم بیرون ملک دوروں پر جاتی ہے، شریک تھیں۔ دیگر اہم شخصیات میں صدر امریکہ بارک اوباما اور صدر روس ولادیمیر پوٹن بھی موجود تھے۔ دونوں ظہرانے میں ایک ساتھ شامل ہوں گے۔ برطانیہ، امریکہ، فرانس، کینیڈا، روس اور پولینڈ کے تقریباً 1800 عمر رسیدہ افراد اس تقریب میں شریک ہیں۔ ڈی ڈے کے دن ہزاروں کامریڈس نے اپنی جانیں نچھاور کردی تھیں۔ ڈی ڈے تقاریب میں عالمی قائدین کی شرکت موجودہ سال یوکرین کے بحران کے سائے تلے ہورہی ہے۔

پوٹن نے مشترکہ مقصد کی تکمیل کے تحت باقی مغربی دنیا سے اپنے سفارتی کشیدہ تعلقات کو نظرانداز کردیا ہے۔ سردجنگ کے دور کے بعد سے موجودہ مشرق ۔ مغرب صف آرائی بدترین صورتحال ہے اور اندیشہ ہیکہ پوری تقریب پر اس کشیدگی کے اثرات نمایاں نظر آئیں گے۔ صدر روس پوٹن کے ساتھ مغربی ممالک کے سفارتی تعلقات منجمد کردیئے گئے ہیں جبکہ مارچ میں روس میں کریمیا کا اپنے ملک میں الحاق کرلیا ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کل رات دیر گئے فرانس میں آمد کے ساتھ صدر فرانس فرینکوئی اولاند سے ملاقات کی تھی۔ صدر امریکہ بارک اوباما کی آمد پر ایرپورٹ پر صدر فرانس فرینکوئی اولاند نے شخصی طور پر ان کا استقبال کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT