Sunday , June 24 2018
Home / دنیا / یوکرین جنگ بندی کے بعد خلاف ورزی کا فریقین کو اعتراف

یوکرین جنگ بندی کے بعد خلاف ورزی کا فریقین کو اعتراف

کیف۔ 15؍فروری (سیاست ڈاٹ کام)۔ مشرقی یوکرین میں آج آدھی رات کے بعد جنگ بندی کا اعلان کردیا گیا، لیکن اس کی اُمیدیں اُس وقت موہوم ہوگئی، کیونکہ اب تک خانۂ جنگی میں 5,300 افراد ہلاک ہوچکے تھے، لیکن جنگ بندی کے آغاز کے اندرون دو گھنٹے دونوں فریقین میں دوبارہ جھڑپیں شروع ہوگئیں جس کا الزام دونوں نے ایک دوسرے پر عائد کیا ہے۔ آئندہ دنوں

کیف۔ 15؍فروری (سیاست ڈاٹ کام)۔ مشرقی یوکرین میں آج آدھی رات کے بعد جنگ بندی کا اعلان کردیا گیا، لیکن اس کی اُمیدیں اُس وقت موہوم ہوگئی، کیونکہ اب تک خانۂ جنگی میں 5,300 افراد ہلاک ہوچکے تھے، لیکن جنگ بندی کے آغاز کے اندرون دو گھنٹے دونوں فریقین میں دوبارہ جھڑپیں شروع ہوگئیں جس کا الزام دونوں نے ایک دوسرے پر عائد کیا ہے۔ آئندہ دنوں میں بین الاقوامی توجہ کا مرکز، دفاعی ریلوے کا جنکشن، دیبالٹ سیف ہوگا جہاں حکومت یوکرین کی فوج نے گزشتہ کئی ہفتوں سے شدید حملوں کے خلاف دفاع کیا ہے۔

یہ حملے روس حامی علیحدگی پسندوں کی جانب سے کئے گئے تھے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے بموجب مشرقی یوکرین کی جانب سے جھڑپوں کی جھلکیاں ثبوتوں کے ساتھ پیش کی جارہی ہیں۔ روس کے عسکریت پسند کثیر تعداد میں توپ خانے اور کثیر جہتی راکٹ لانچرس کے ساتھ دیبالٹ سیف کے اطراف تعینات کئے گئے ہیں اور یوکرینی فوجوں پر شلباری کررہے ہیں۔ امریکی دفتر خارجہ کی خاتون ترجمان جین ساکی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ یہ روسی فوج ہے، علیحدگی پسند نہیں۔ صدر یوکرین پیٹرو پوروشنکوف نے ایک بیان جاری کیا ہے

جس میں جنگ بندی کا حکم دیا گیا ہے اور اسے ملک گیر سطح پر افواج کے لئے نشر بھی کیا گیا ہے کہ وہ آدھی رات کے بعد فائرنگ بند کردیں، لیکن جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات جلد ہی فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر عائد کئے جانے لگے۔ یوکرین کی فوج کے سربراہ ویلنٹین نالی وائی چنکوف نے کہا کہ ایک دراندازی کی اطلاع ملی ہے جو جنگ بندی کے نفاذ کے پانچ منٹ بعد ہوئی تھی۔ توپ خانہ نے اس علاقہ پر فائرنگ کی تھی جس کا جواب دیا گیا۔ دریں اثناء باغیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ یوکرین توپ خانہ کو آدھی رات کے کچھ ہی دیر بعد تعینات کرچکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT