Sunday , September 23 2018
Home / دنیا / یوکرین میں جنگ بندی برائے نام: ناٹو

یوکرین میں جنگ بندی برائے نام: ناٹو

کیف۔ 21؍ستمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ ناٹو کے فوجی جنرل فلپ بریڈلو نے کہا کہ یوکرین کے حالات اچھے نہیں ہیں اور جنگ بندی برائے نام ہے۔ انھوں نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد جتنی بار گولہ باری ہوئی ہے، وہ دو ہفتے پہلے یعنی جنگ بندی سے قبل ہونے والی گولہ باری کے برابر ہے۔ بہرحال وہ نئے معاہدے کے بارے میں پُرامید ہیں۔ یوکرین، روس پر علیحدگی پ

کیف۔ 21؍ستمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ ناٹو کے فوجی جنرل فلپ بریڈلو نے کہا کہ یوکرین کے حالات اچھے نہیں ہیں اور جنگ بندی برائے نام ہے۔ انھوں نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد جتنی بار گولہ باری ہوئی ہے، وہ دو ہفتے پہلے یعنی جنگ بندی سے قبل ہونے والی گولہ باری کے برابر ہے۔ بہرحال وہ نئے معاہدے کے بارے میں پُرامید ہیں۔ یوکرین، روس پر علیحدگی پسندوں کو مسلح کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے جب کہ روس اس کی تردید کرتا آیا ہے۔ اپریل سے جاری اس جنگ میں اب تک 3 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ 5 ستمبر کو یوکرین اور روس نواز علیحدگی پسندوں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا، تاہم اس کی بار بار خلاف ورزی ہورہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ زمین پر حقیقی صورتِ حال مختلف ہے۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے یوکرین میں موجود کچھ روسی فوجی ملک لوٹ آئے تھے، لیکن روس،

یوکرین سے مقابلہ کے لئے کسی بھی وقت فوجی روانہ کرنے کے موقف میں ہے۔ بالٹک ممالک سمیت روس کے پڑوسی ممالک میں ناٹو اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جو سویت بلاک میں ہوا کرتے تھے۔ جنرل بریڈلو نے بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں دستخط کئے گئے جنگ بندی کے نو نکاتی میمورنڈم کی تعریف کی ہے۔ اہم نکات میں بھاری اسلحہ خانے کو 15 کیلومیٹر پیچھے لے جانا، جارحانہ کارروائی پر پابندی، سکیوریٹی زون پر سے جنگی طیاروں کے پرواز پر پابندی، بیرونی جنگجوؤں کی واپسی، وغیرہ شامل ہیں۔ واضح رہے کہ یہ معاہدہ گزشتہ دیر رات یوکرین، روس، مشرقی علاقے کے علیحدگی پسندوں اور سکیوریٹی اور تعاون کی یوروپی تنظیم (او ایس سی ای) کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کے بعد طئے ہوا۔ اس معاہدے میں 30 کیلو میٹر کے بفر زون پر رضامندی، مشرقی یوکرین کے فضائی حدود سے فوجی طیاروں کی پرواز پر پابندی اور غیرملکی جنگجوؤں کی واپسی جیسے نکات شامل ہیں۔ بہر حال روس ہمیشہ سے یوکرین میں فوج بھیجنے یا باغیوں کو مسلح کرنے کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT