Thursday , January 18 2018
Home / دنیا / یوکرین کے بحری اڈہ پر روس کی حامی فورس کا قبضہ

یوکرین کے بحری اڈہ پر روس کی حامی فورس کا قبضہ

کیئف ؍ واشنگٹن ، 20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کریمیا کے تنازعہ پر ایک طرف روس اورعالمی طاقتوں میں ٹھن گئی تو دوسری طرف یوکرین کے بحری اڈے پر روسی حامی فورس نے قبضہ کرلیا ہے۔ نیٹو اور امریکہ کی جانب سے روسی اقدام پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ روس کی حامی فورسز نے کریمیا کے شہر سواسٹوپل میں واقع یوکرین کے بحری اڈے پر قبضہ کر کے وہاں روسی جھنڈا ل

کیئف ؍ واشنگٹن ، 20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کریمیا کے تنازعہ پر ایک طرف روس اورعالمی طاقتوں میں ٹھن گئی تو دوسری طرف یوکرین کے بحری اڈے پر روسی حامی فورس نے قبضہ کرلیا ہے۔ نیٹو اور امریکہ کی جانب سے روسی اقدام پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ روس کی حامی فورسز نے کریمیا کے شہر سواسٹوپل میں واقع یوکرین کے بحری اڈے پر قبضہ کر کے وہاں روسی جھنڈا لہرا دیا ہے، جس کے بعد کئی یوکرینی اہلکار بحری اڈہ چھوڑ گئے ہیں۔یوکرین کی بحریہ کے سربراہ سرہئی ہیدک کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ نیٹو چیف اینڈرس راسموسین نے کہا ہے کہ روس بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے،

ان کا کہنا تھا کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یوکرین کا یہ بحران یورپی سلامتی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ دوسری جانب وائٹ ہاوس نے خبردار کیا ہے کہ روس کو کریمیا میں مداخلت کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ یوکرین نے اپنے یورپی اتحادیوں سے مشترکہ فوجی مشقوں کی درخواست کی ہے، جبکہ کریمیا سے چند سو میل دور بحیرۂ اسود میں امریکی بحریہ نے جنگی مشقیں دوبارہ شروع کر دی ہیں، تاہم امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ یوکرین میں فوجی مداخلت نہیں کریں گے۔ یوکرین کے معاملے پر روس سے جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہوگی۔ انہوں نے روس پر سفارتی دباؤ بڑھانے پر زور دیا۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن عالمی طاقتوں کے انتباہ کو مسلسل نظرانداز کر رہے ہیں۔

کریمیا سے یوکرینی افواج کا انخلاء
یوکرین نے کریمیا سے اپنی افواج کا انخلاء شروع کر دیا ہے۔ کیئف حکام کے مطابق روس کی جانب سے جزیرہ نما کریمیا پر گرفت مضبوط کرنے کے بعد فوجی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو علاقہ چھوڑنے کیلئے کہا گیا ہے۔ روس کے ساتھ روابط منقطع بھی کرلئے گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT