Friday , October 19 2018
Home / مذہبی صفحہ / ’’یوگا‘‘ورزش ہے یا ہندوانہ طریقہ ء عبادت؟

’’یوگا‘‘ورزش ہے یا ہندوانہ طریقہ ء عبادت؟

یوگا کوئی جسمانی ورزش ہے یا کسی خاص مذہب کا طرزعبادت اس سلسلہ میں مختلف آراء سامنے آتی رہتی ہیںOxford dictionaryمیں یوگا کی ایک تعریف یوں کی گئی ہے ’’ہندوتعلیمات کے مطابق وہ ایک ایسی مشق ہے جس کے ذریعہ انسان کواپنے جسم وذہن پر کنٹرول کرنا سکھایا جاتاہے اوراس میں یہ عقیدہ بھی کارفرماہے کہ یوگا کرنے والا ایک آفاقی روح کا حصہ بن جاتاہے‘‘۔ دوسری تعریف یہ کی گئی ہے ’’یوگاجسمانی ورزش کا طریقہ ہے جس سے جسم اورسانس دونوں کوقابومیں رکھا جاسکتاہے اوردل ودماغ کو نشاط حاصل ہوتاہے‘‘ ۔ مودی سرکارنے اسے جسمانی ورزش کے طورپرپیش کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ ہندومذہبی پیشوائوں نے اس کوعبادت کا درجہ دیا ہے۔سادھوی پراچی نے یہ کہا تھا کہ یوگا کا مذہب سے تعلق نہیں اور کچھ لوگوں نے مشورہ دیا تھا کہ یوگا میں مسلمان شریک ہوسکتے ہیں اگر ان کو ’’اوم‘‘ کہنے پر اعتراض ہے تو وہ یوگا کرتے ہوئے ’’اللہ‘‘ کا نام لے لیں، شاید کہنے والے کی زبان ابھی سوکھنے بھی نہیں پائی تھی کہ وشواہندوپریشد کے ایک لیڈر نے یوگا کی حقیقت سے پردہ ہٹایا اور کہا کہ یوگا کے دوران لفظ اللہ کا استعمال نہ صرف ہندوؤں کی بلکہ لارڈ شیوا کی توہین ہے اور انہوں نے برملا اعلان کیا ’’اوم‘‘کہنا اور’’سوریہ نمسکار‘‘ کا عمل یوگا کا اٹوٹ حصہ ہے، جنہیں اوم اور سوریہ نمسکار سے الرجی ہے انہیں بیماریوںکے ساتھ رہنا چاہئے ۔اسلام توحید خالص بے آمیزپاکیزہ احکام واعمال کا داعی ہے،جبکہ یوگا ہندومذہبی تعلیمات کی روسے عبادت ہے جو اسلامی نقطئہ نظر سے خالص شرکیہ عمل ہے،اگریوگا سے ’’اوم،سوریہ نمسکارکے علاوہ اس میں پڑھے جانے والے مشرکانہ اشلوک کونکال کرصرف ورزش کی حیثیت سے یوگا کا عمل کیا جائے تب بھی مشرکانہ رسوم ورواجات سے منسلک ہونے کی وجہ جائز نہیں مانا جاسکتا۔اس کے مفضی الی الشرک (شرک تک پہنچانے والا) ہونے میں توکوئی کلام ہی نہیں،چونکہ یوگا میں ہندومذہبی رواج کا ایک اہم جز’’سوریہ نمسکار‘‘ ہے ،یوگا کرنے والے مشرق کی جانب آنکھ بندکرکے دونوں ہاتھوں کو جوڑکر سورج کوپرنام کرتے ہیں،بی کے ایس اینگرنے ویدوں کے حوالوں سے لکھا ہے کہ ’’پرانیا ماں(یوگا کی خاص ہیئت ترکیبی کے ساتھ سورج کی طرف دھیان دینے ) سے جسم وعقل کی تمام ناپاک چیزیں خارج ہوجاتی ہیں اورمقدس آگ کے شعلے انہیں توانائی بخشتے ہیں اور ناپاکی کودورکرکے پاک کردیتے ہیں،تب کہیں جاکر ایک شخص دھرانا( توجہ کوکسی شیٔ کی طرف تسلسل کے ساتھ مرکوزرکھنے) اوردھیانا(لولگانے کیلئے مراقبہ کرنے) کے قابل ہوتاہے ،اس مقام تک پہنچنے کے لئے طویل مدت درکارہوتی ہے‘‘(لائٹ آف یوگا:۴۶۱) اس تناظرمیں یوگا کوورزش سمجھنا ناقابل فہم ہے ،جسمانی ورزش انسان کی ذاتی ضرورت اورپسندہے ،ہرانسان شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی پسندکے مطابق ورزش کے طوروطریق یا ورزشی کھیل کود اختیارکرنے میں آزادہے ۔کھیل کودکی جہاںاسلام نے اجازت دی ہے وہیں اس کے حدودمتعین کئے ہیں، ان حدودسے تجاوزکو نہ تو اسلام گوارہ کرتاہے اورنہ یہ بات کسی مسلم کوزیباہے ۔اسلام کوآئے ہوئے چودہ صدیاں بیت چکی ہیں ،ملت اسلامیہ الحمدللہ ’’یوگا ‘‘کے بغیرصحتمند تندرست وتواناہے ، تاریخ گواہ ہے صحت وتوانائی بنائے رکھنے میں نہ کبھی یوگا کی ضرورت پڑی ہے اورنہ مستقبل میں اس کی کوئی ضرورت پڑسکتی ہے،اسلامی اعتقادات،اسکی عبادات اوراس کے اعمال واشغال ہی صحت وتوانائی کوبرقراررکھنے کیلئے کافی ہیں۔ ہندوستانی شہریوں کی کئی ایک بنیادی ضروریات ہیں ان کی تکمیل حکومت کا اہم ترین فریضہ ہے،خاص طورپردلت اورمسلم اقلیت ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں کسمپرسی کاشکارہیں،تحصیل علم کے راستے مسدودہیں ،غریب اورمتوسط درجہ کے شہریوں کیلئے علاج ومعالجہ کا کوئی خاص انتظام نہیں ہے ،کارپوریٹ دواخانوں میں لوٹ مارمچی ہے، غریب توغریب ہیں متوسط درجہ کے شہری بھی علاج کیلئے ایسے دواخانوں کا رخ کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے،بھوک مری میں بھی ہندوستان اورملکوں سے آگے ہے، لیکن حکومت کے سامنے ایسے کوئی اہداف نہیں ہیں جس سے ملک وقوم کوکوئی خاص فائدہ حاصل ہو،بالخصوص دلت ومسلم اقلیت کے غریبوں اورمتوسط درجہ کے عوام کیلئے کوئی ایسی مخلصانہ کوشش و منصوبہ بندی نہیں ہے جس کی وجہ ان کے مصائب ومشکلات کااچھا حل نکل سکے۔ہونا تویہ چاہیئے تھا کہ تعلیم ،علاج ومعالجہ،روزگارجیسے اہم امورکی تکمیل کیلئے کوئی منصوبہ بندی کی جاتی ،اس پرعمل آوری کویقینی بنایا جاتااور اس کا نتیجہ خیزحل ڈھونڈ نکالا جاتا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ان اہم مقاصدسے صرف نظر کرتے ہوئے ۲۱؍جون ۲۰۱۵؁ء کوباضابطہ ’’عالمی یوگا دیوس‘‘منایا گیا،طرفہ تماشہ یہ کہ اب دنیا بھرکے ایک سونوے ممالک میں ہرسال’’ یوم یوگا‘‘ منایا جائے گا۔کوشش یہ ہے کہ سارے طبقات اس میں شریک ہوں اوراس کوعام کرنے کیلئے ملک کے تعلیمی اداروں میں بطورنصاب اس کو شامل کیا جائے ،کس قدرافسوس کا مقام ہے کہ بعض مسلم ممالک بھی ہندومذہب اوران کی تہذیب وثقافت کی خصوصی شناخت رکھنے والے ’’یوگا ‘‘کے فروغ میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔اورتواورمسلم ممالک میں حرمین شریفین کی خدمت سے مشرف سعودی مملکت میں بھی اس کی اجازت دیدی گئی ہے جبکہ سعودی مملکت میں ہرقسم کے باطل مذاہب کی نمائندہ عبادتیں ممنوع تھیں،اوریہ (یوگا)بھی قدیم ہندوروحانی روایت ہونے کی وجہ ممنوع تھا۔عرب یوگا فائونڈیشن کی سربراہ نوف مروئی نے بتایا ملک کے کئی بڑے شہروں بشمول مکہ ومدینہ یوگا سنٹرس قائم ہوچکے ہیں ’’ سیاست ePaper ۲؍اکٹوبر ۲۰۱۸؁ء ‘‘ ۔حضرت سیدنا عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ تورات کا ایک مجموعہ خدمت نبوی ﷺمیں لے آئے اورعرض کرنے لگے کہ بنی زریق کے ایک شخص سے یہ مجموعہ مجھے ملاہے،اس صورتحال سے آنحضورﷺکے چہرہ انور پر غصہ وناراضگی کے آثارنمایاں ہوگئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کوجب اس کا احساس ہواتومعافی مانگی پھرآپ ﷺنے فرمایاکہ اس وقت موسی علیہ السلام بھی زندہ ہوتے توبجزمیری پیروی وہ اتباع کے ان کیلئے کوئی گنجائش نہ ہوتی (مسنداحمد: ۳؍۳۸۷) یوگاغیرمسلم تہذیب کی خصوصی شناخت ہے،ہندو مذہبی پیشوا،سادھوسنت ،رشی منی وغیرہ ویدوں اوربھگوت گیتا کے حوالوں سے اس کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔وہ تواس کوہندومذہبی خصوصی عبادت ہی مانتے ہیں ،ان کا ماننا ہے کہ یوگا سے روحانیت الہی کی نعمت حاصل ہوتی ہے جس سے نفس اطمینان پاتے ہیں،یوگاکے دوران کئی اشلوک پڑھے جاتے ہیں جن کی زبان سنسکرت ہے اوراس کے ماہرین نے اس کا جو مفہوم پیش کیا ہے اس سے اسلام کے بنیادی اعتقادات پرضرب پڑتی ہے،اسلامی اعتقاد کی روسے خالق ومخلوق دونوں الگ ہیں ،حلول وتجسیم جیسے غیراسلامی افکارکی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں،یوگا میں پڑھے جانے والے اشلوک ایسے کئی غیراسلامی افکارواعتقاد ات کامجموعہ ہیں۔ ورزش کے عنوان سے یوگا کی اشاعت سے مقصودیہی معلوم ہوتاہے کہ پہلے خوشنما عنوان سے مسلمانوں کواس سے جوڑدیا جائے اورآگے کے مرحلہ کیلئے کوئی اور دھوکہ دہی پرمبنی مؤثر تدبیراختیارکی جائے تاکہ مسلمانوں اورخاص طورپرمسلمانوں کی نسل نوکوجواعتقادات ،ایمانیات اوراعمال صالحہ کی بنیادی روح سے محروم ہے کواسلام سے برگشتہ کیا جائے ۔یوگا کی ہیئت ترکیبی ،اس کے اشلوک جوتوحید،رسالت ،کتاب اللہ اوریوم آخرت وغیرہ جیسے اہم بنیادی اسلامی اعتقادات کے مغائر اورسوریہ نمسکاروغیرہ جیسے شرکیہ عمل سے واضح ہے کہ یوگا ہندومذہب کا طریقہ عبادت ہے،اوراس کی بنیادوں کا ہندومذہب سے گہرا تعلق ہے۔ ارشادباری ہے’’جو لوگ طاغوت (شیطان) کی پرستش و عبادت سے اجتناب کرتے ہیں اور اللہ سبحانہ سے رجوع رہتے ہیں ان کے لئے خوشخبری ہے ،میرے بندوں کوخوشخبری سنادیجئے، جو اس کلام (الہی)کو پوری توجہ وانہماک کے ساتھ سنتے ہیں پھر اس کے اچھے اچھے احکام پرچلتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کواللہ سبحانہ نے ہدایت سے سرفرازفرمایا ہے اوریہی عقل ودانش والے ہیں‘‘ (زمر:۱۷،۱۸) یوگااسلامی تعلیمات کی روح سے ہرگزمیل نہیں کھاتا اور اسلام کا مزاج ہرگزاس بات کوگوارہ نہیں کر تا کہ کفریہ شرکیہ ہیئت واشلوک پرمبنی یوگا کے عمل کوورزش ہی کی حیثیت سے کیوں نہ ہو اختیارکیا جائے، اس لئے ایسے طوروطریق جو اسلامی اعتقادات واحکام اوربنیادی تعلیمات کے مغائرہوں ان کواختیارکرنا یا ورزش کے عنوان سے ان کے جوازکی راہ نکالنا جذبہ ایمانی واسلامی کے زوال کا باعث ہوگی۔ہمارے ملک میں چونکہ با طل افکارکا غلبہ ہے ،غیراسلامی کلچرفروغ پارہاہے اورباطل طاقتیں بزوروجبر باطل کورواج دینے میں غیر آئینی بلکہ غیر انسانی رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں امت مسلمہ کا فرض ہے کہ وہ خود باطل افکارواعمال سے اپنی اوراپنی ملت کی حفاظت کرے اورباطل پرست اغیارکوتوحیدخالص اوربے آمیز اسلام کے پیغام سے روشناس کرانے کی انتھک کوشش وجدوجہدکرے تاکہ وہ راہ حق وصواب اختیارکرکے اپنے آپ کوجہنم کا ایندھن بننے سے بچاسکیں۔

TOPPOPULARRECENT