Thursday , June 21 2018
Home / Top Stories / ’یوگی کے گڑھ‘ میں بی جے پی کو شکست، گورکھپور اور پھولپور میں ایس پی فاتح

’یوگی کے گڑھ‘ میں بی جے پی کو شکست، گورکھپور اور پھولپور میں ایس پی فاتح

ایس پی ۔ بی ایس پی اتحاد کو ہم نے کمتر جانا ، چیف منسٹر یوگی کا اعتراف
بی ایس پی کا ووٹ ایس پی کو منتقل ہونے کی امید نہ تھی: ڈپٹی سی ایم موریا
بی جے پی کا غرور ٹوٹا، ایس پی سربراہ اکھیلیش یادو کا ردعمل

نئی دہلی ؍ لکھنؤ ۔ 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے گورکھپور میں آج ’’سانپ اور نیولا‘‘ زبردست طاقتور ثابت ہوئے، جیسا کہ گورکھپور میں بی جے پی امیدوار کو سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے مقابل کراری شکست ہوگئی۔ یوپی کے بی جے پی چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ نے بی ایس پی اور ایس پی کو ’’سانپ اور نیولا‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کے پارلیمانی ضمنی چناؤ سے قبل اتحاد کی نکتہ چینی کی تھی۔ اول الذکر نے گورکھپور اور پھولپور کی لوک سبھا نشستوں کے چناؤ میں آخرالذکر کے امیدواروں کی حمایت کی اور دونوں جگہ ایس پی کے امیدوار پروین نشاداورناگیندر سنگھ پٹیل کامیاب ہوگئے۔ یوپی میں یہ نتائج بالخصوص ’’یوگی کے گڑھ‘‘ گورکھپور میں برسراقتدار پارٹی کے امیدوار کی شکست چیف منسٹر کیلئے بڑے جھٹکے کے مترادف ہے کیونکہ یہ حلقہ روایتی طور پر بی جے پی کے قبضہ میں رہا ہے۔ اس نشست کی ادتیہ ناتھ اور ان کے گرو اویدیا ناتھ گذشتہ 8 میعادوں سے نمائندگی کررہے تھے۔ اس پارلیمانی حلقہ میں ناکامی نے بی جے پی کے اعتماد کو متزلزل کردیا ہے جو تین شمال مشرقی ریاستوں بالخصوص تریپورہ میں حالیہ اسمبلی چناؤ کامیابیوں کے بعد بلند حوصلہ ہوچلی تھی۔ ایس پی ۔ بی ایس پی تجربہ کی کامیابی دونوں پارٹیوں کیلئے 2019ء کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے مقابلہ کی راہ ہموار کرسکتے ہیں اور اگر کانگریس ان دونوں پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ کرتی ہے تو ایک اور ’عظیم اتحاد‘ وجود میں آئے گا جس کا بی جے پی کو سامنا کرنا پڑے گا۔ چیف منسٹر یوگی نے نتائج کے اعلان کے فوری بعد اپنے ردعمل میں کہا کہ ہم نے ایس پی ۔ بی ایس پی اتحاد کو کمتر جانا۔ ’’ہم پھولپور اور گورکھپور کے عوام کے فیصلہ کو قبول کرتے ہیں۔ میں ضمنی چناؤ کے ونرس کو مبارکباد بھی پیش کرتا ہوں‘‘۔ جہاں گورکھپور نشست چیف منسٹر یوگی نے خالی کی تھی وہیں پھولپور ڈپٹی چیف منسٹر کے پی موریا کے سبب مخلوعہ ہوئی۔ موریا نے پارٹی کی شکست کے بعد کہا کہ ہم نے توقع نہیں کی تھی کہ بی ایس پی کا ووٹ اس طرح ایس پی کے حق میں منتقل ہوجائے گا۔ ایس پی سربراہ اکھیلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی کی آمریت اسے مہنگی پڑی اور برسراقتدار پارٹی کو دونوں بڑی لوک سبھا نشستوں کے چناؤ میں شکست ہوگئی۔ بی جے پی قائدین کو یوپی ضمنی چناؤ کے نتائج کی وضاحت کرنے میں واضح طور پر دقت پیش آرہی تھی۔ وہ یہ بتانے سے قاصر دکھائی دیئے کہ اس چناؤ میں پولنگ کا تناسب کیوں کمتر رہا۔

گورکھپور میں تقریباً 49 فیصد اور پھولپور میں لگ بھگ 38 فیصد پولنگ ریکارڈ ہوئی۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہیکہ ضمنی چناؤ کے نتائج بی جے پی کے خلاف 2019ء کے انتخابات میں وسیع تر اتحاد کیلئے رجحان قائم کرسکتے ہیں۔ سماج وادی پارٹی لیڈر طارق صدیقی نے کہاکہ ہم جانتے تھے کہ اس مرتبہ بی جے پی کیلئے انتخابی لڑائی آسان نہیں رہے گی اور نتائج نے یہی بات ثابت کی ہے۔ اس کے 2019ء الیکشن کیلئے وسیع تر اثرات پڑیں گے۔ الہ آباد کے شمالی اور جنوبی علاقہ کو بھی بی جے پی کا گڑھ مانا جاتا ہے لیکن وہاں بھی ترتیب وار 22 فیصد اور 31 فیصد رائے دہی درج ہوئی۔ اس کے برعکس سوراؤں ، پھولپور اور پھاپھا ماؤ نے دیگر پسماندہ طبقات اور مسلمانوں کی طرف سے پرجوش پولنگ دیکھنے میں آئی تھی۔

 

بہار میں آر جے ڈی کی لوک سبھا نشست برقرار
پٹنہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب آر جے ڈی نے بہار میں منعقدہ ضمنی چناؤ میں اراریا لوک سبھا نشست جیت لی ہے۔ راشٹریہ جنتادل کے محمد تسلیم الدین نے یہ نشست 2014ء کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی امیدوار پردیپ کمار سنگھ کو شکست دیکر جیتی تھی۔ گذشتہ سال تسلیم الدین کے انتقال کی وجہ سے یہ نشست کھالی ہوئی تھی۔ چنانچہ آر جے ڈی کے سرفراز عالم نے اس نشست پر پردیپ کمار سنگھ کو شکست دیکر پارٹی کا قبضہ برقرار رکھا ہے۔ بہار اسمبلی کیلئے بھی ضمنی چناؤ منعقد ہوئے تھے جس کے نتائج کا بھی آج اعلان ہوا۔ آر جے ڈی نے جہان آباد نشست پر قبضہ برقرار رکھا جبکہ بھابھوا حلقہ میں بی جے پی کو کامیابی ملی۔ جہان آباد میں آر جے ڈی کے سدے یادو نے جنتادل (یونائیٹیڈ) کے حریف ابھیرام شرما کو زائد از 30 ہزار ووٹوں کے فرق سے ہرایا۔ بھابھوا میں بی جے پی کی رنکی رانی پانڈے نے کانگریس حریف شمبھو سنگھ پٹیل کو 14 ہزار ووٹ سے شکست دی۔ لالو پرساد کی پارٹی آرجے ڈی نے اراریا اور جہان آباد نشستیں اپوزیشن کیمپ کی طرف سے لڑے تھے۔

TOPPOPULARRECENT