Friday , February 23 2018
Home / Top Stories / یوین میں نسل کشی کے متعلق ازربائجان کے وزیر اعظم تقریر کررہے تھے اور ان کی بیٹی سیلفی میں مصروف

یوین میں نسل کشی کے متعلق ازربائجان کے وزیر اعظم تقریر کررہے تھے اور ان کی بیٹی سیلفی میں مصروف

نیویارک سٹی۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ازر بائجان کے وزیر اعظم الہام علی یو جب خطاب کررہے تھے اور وہ ازربائجان کے پناہ گزین اور بے گھر افراد کے متعلق بول رہے تھے ان کی بیٹی مختلف انداز میں سیلفی لینے میں مصرو ف تھی۔مذکورہ 33سالہ نوجوان بیٹی کو پناہ گزین کے مسلئے پر بڑے پیمانے پر نسل کشی کی کوئی پرواہ نہیں ‘ اب اس سیلفی والے عمل کی وجہہ سے سوشیل میڈیا پر کافی برہمی کا انہیں سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

ڈیلی میل کے مطابق لائیلہ پہلی بار اپنے والد کی تقریر سننے والی تھی او حال میں اپنی53سالہ ماں کے پہلو میں بیٹھی ہوئی تھی۔ جیسے ہی صدر نے ازربائجان حقائق پیش کئے اور کہاکہ ارمینیا کی وجہہ سے ’’ ایک ملین سے زائد ازر بائجان پناہ گزین بن گئے ہیں اور اندرون ملک بے گھر ہیں‘‘۔ان کی بیٹی نے کیمرے پر چہرے بنانے کی شروع کردئے۔لائیلہ کی حرکت جنرل اسمبلی سے بین الاقوامی سطح پر پہنچ گئی۔

سوشیل میڈیا صارفین نے اندازہ لگایا کہ صدر جب پناہ گزینوں کی بات کررہے ہیں تو ان کی بیٹی کا رویہ غیر انسانی تھا۔ارمینیا نے ازر بائجانیوں کا کھوڈ جالا میں نسل کشی کی۔ مذکورہ نسل کشی کی دنیا کے بیس ممالک نے توثیق کی ہے۔ صدر ازر بائجان نے کہاکہ فبروری 26سال1992ارمنییا نے جنگی جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے 613پرامن رہائیشوں کو قتل کردیاتھا جس میں106خواتین اور63بچے شامل تھے۔

Top Stories

مولانا آزاد کی برسی پر تقریب کا انعقاد دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی‘ صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی اور نائب صدر جمہوریہ نے اپنا پیغام بھیجا نئی دہلی۔آزادہندو ستا ن کے پہلے وزیر اتعلیم مولانا آزاد کے ساٹھ ویں یوم وفات کے موقع پر آج ان کے مزار واقع مینابازار میں ایک تقریب کا انعقاد ائی سی سی آر کی جانب سے کیاگیا۔افسوس کی بات یہ رہی کہ اس مرتبہ بھی مولانا آزاد کی وفات کے موقع پر دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے کسی بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی۔ چونکہ جامع مسجد پر کناڈہ کے وزیراعظم کو آناتھا اس لئے تقریب کو بہت مختصر کردیا گیاتھا۔ اس دوران صدرجمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی کی گئی او رنائب صدر جمہوریہ ہند نے اپنا پیغام بھیجا۔ ائی سی سی آر کے ڈائریکٹر نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ جہاں تک مولانا آزاد کا تعلق ہے اور انہوں نے جو خدمات انجام دیں انہیں فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ ہندو مسلم میں اتحاد قائم کیااس کی مثال ملنا مشکل ہے انہوں نے بھائی چارہ کوفروغ دیا۔ انٹر فیتھ ہارمنی فاونڈیشن آف انڈیاکے چیرمن خواجہ افتخار احمد نے کہاکہ مولانا آزاد نے لڑکیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی۔ جب حکومت قائم ہونے کے بعد قلمدان کی تقسیم ہونے لگے تو مولانا آزاد نے تعلیم کا قلمدان لیاتاکہ لڑکیو ں کی تعلیم پر خاص دھیان دیاجاسکے۔ خاص طور سے مسلم لڑکیو ں کی تعلیم پر زیادہ دھیان دیاجائے۔کیونکہ مسلم لڑکیو ں کو پڑھنے کے زیادہ مواقع نہیں مل پاتے ۔ معروف سماجی کارکن فیروز بخت احمد مولانا سے منسوب ایک پروگرام میں پونے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے نمائندہ کو فون پر بتایا کہ مولانا آزاد کی تعلیمات کو قوم نے بھلادیا ہے۔ آج تک ان جیسا لیڈر پیدا نہیں ہوسکا اور افسوس کی بات ہے کہ مولانا آزاد کی برسی یا یوم پیدائش کے موقع پر دہلی یامرکزی حکومت کی جانب سے کوئی بڑا لیڈر شریک نہیں ہوتا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ حکومت نے مولانا آزاد کو بھلادیا ہے۔ اس دوران سی سی ائی آر کی ایک کمار مولانا ابولکلام آزاد فاونڈیشن کے چیرمن عمران خان سمیت کافی لوگ موجود تھے۔
TOPPOPULARRECENT