Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / یو جی سی سے یونیورسٹیز کے خدوخال تبدیل کرنے کی مساعی

یو جی سی سے یونیورسٹیز کے خدوخال تبدیل کرنے کی مساعی

تعلیمی اداروں سے درخواستوں کی طلبی کا آغاز، معیار کے مطابق اختیارات دینے کا امکان

حیدرآباد ۔ 17 ستمبر (سیاست نیوز) ملکی یونیورسٹیوں کے خدوخال تبدیل کرنے کیلئے مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل نے اقدامات کا آغاز کردیا ہے اور اس کے حصہ کے طور پر 20 جدید انسٹیٹیوٹ آف ایمننس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ یو جی سی نے اس ضمن میں سرکاری و غیرسرکاری تعلیمی اداروں سے درخواستوں کی طلبی کا اعلان کیا ہے۔ درخواستوں کی تنقیح کے بعد 10 سرکاری اور 10 غیر سرکاری اداروں کو منتخب کرکے جملہ 20 اداروں کو عالمی سطح کی قدروں کی تکمیل کرنے والے انسٹیٹیوٹ آف ایمیننس کی حیثیت سے ترقی دی جائے گی۔ اس پراجکٹ کو مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل ایک چیلنج کے طور پر قبول کررہی ہے۔ اس پراجکٹ کے تحت سرکاری زیرانتظام یونیورسٹیز میں آئندہ دس برس کے عرصہ میں 10 ہزار کروڑ روپیوں کی لاگت سے ترقیاتی اقدامات کئے جائیں گے اور یہ خرچ یونیورسٹیز کو دیئے جانے والے سالانہ گرانٹ سے علحدہ ہوگا۔ یو جی سی کے اعلان کے مطابق یونیورسٹیز کا انتخاب 90 دنوں میں مکمل ہوگا اور آئندہ برس مارچ یا اپریل میں منتخب یونیورسٹیز کی فہرست جاری کی جائے گی۔ ایچ آر ڈی سکریٹری کیول کمار شرما کے مطابق یونیورسٹیز کو تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تمام تفصیلات یو جی سی ویب سائیٹ میں دستیاب ہیں۔ درخواست داخل کرنے والے ادارے دی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ریاگنگ فریم ورک این آئی آر ایف) میں ٹاپ کے اندر فہرست میں ہونا چاہئے یا ٹائمس ہائی ایئر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹیز ریاکنگ میں ٹاپ 500 کے اندر ہو یا کیو لیس یونیورسٹی ریاکنگ شنگھائی ریاکنگ اکاڈمک ریاکنگ آف ورلڈ یونیورسٹیز ضابطہ میں شامل ادارے پی یو جی سی میں درخواست داخل کرسکتے ہیں اور درخواست کے ساتھ آئندہ 15 برس کے عرصہ میں عالمی سطح کی ٹاپ 500 یونیورسٹیز میں شامل کرنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات سے متعلق تفصیلات بھی منسلک کرنا ہوگا اور فی الحال ٹاپ 500 کے اندر رینک والے ادارے آئندہ ٹاپ 100 میں شامل ہونے کیلئے کیا کیا اقدامات کررہے ہیں ان کی تفصیل بھی دینی ہوگی اور انسٹیٹیوٹ آف ایمیننس کی حیثیت سے منتخب اداروں کو خودمختاری درجہ دیا جائے گا اور دیگر یونیورسٹیز کے مقابلہ ان اداروں میں راست طور پر 30 فیصد غیرملکی طلبہ کے داخلہ کی اجازت دی جائے گی۔ علاوہ ازیں سرکاری زیرانتظام یونیورسٹیز کو 25 فیصد غیرفیکلٹی کے تقرر کا اختیار دیا جائے گا اور اس معاملہ میں خانگی یونیورسٹیز کیلئے کوئی قید نہیں ہوگی اور ان یونیورسٹیز کو اپنے طور پر نصاب تیار کرنے کی آزادی دی جائے گی۔ ساتھ ہی ساتھ یو جی سی کی مداخلت کے بغیر ذاتی طور پر فیس بھی مقرر کرسکتے ہیں۔ یو جی سی کی جانب سے نامزد ایمپاورلڈ ایکسپرڈ کمیٹی انسٹیٹیوٹ آف ایمیننس کے انتخاب میں منہمک ہے۔ کیو ایس گراڈویٹ ایمپلائبلٹی ریانکنگس میں 8 بھارتی تعلیمی اداروں کو شامل کیا گیا ہے اور عالمی سطح پر 495 یونیورسٹیز پر مشتمل فہرست تیار کی گئی ہے۔ ہر سال یونیورسٹیز سے فراغت حاصل کرنے والوں کی قابلیت اور مختلف ملازمتوں کیلئے منتخب ہونے والوں کی تعداد کے حساب سے کیو ایس گرائجویٹ ایمپلائبلٹی ریانکنگس کا اعلان کیا جاتا ہے اور اس فہرست میں یو ایس کی اسٹان فورڈ یونیورسٹی اول نمبر پر ہے اور اس فہرست میں مقام حاصل کرنے والی 8 یونیورسٹیز میں آئی آئی ٹی ممبی، آئی آئی ٹی دہلی، 200-191 کے اندر اپنا مقام بنایا ہے بقیہ میں آئی آئی ٹی مدراس، یونیورسٹی آف دلی، یونیورسٹی آف ممبئی، آئی آئی ٹی کھڑک پور، انڈین انسٹیٹیوٹ آف بنگلور اور آئی آئی ٹی کانپور شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT