Thursday , June 21 2018
Home / سیاسیات / یو پی اسمبلی اسپیکر کو ایوان میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش

یو پی اسمبلی اسپیکر کو ایوان میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش

لکھنؤ۔/19جون، ( سیاست ڈاٹ کام ) اتر پردیش اسمبلی کے بجٹ سیشن کے پہلے روز شو رو غل کا منظر دیکھا گیا جہاں اپوزیشن ارکان نے ایس پی حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ یو پی میں لاء اینڈ آرڈر کی ناقص صورتحال پر اپوزیشن نے پہلے ہی ہنگامہ کرنے کا ذہن بنالیا تھا جس کے بعد دونوں ایوانوں میں وقفہ سوالات کو ملتوی کردیا گیا۔ اسمبلی کی کارروائی کے

لکھنؤ۔/19جون، ( سیاست ڈاٹ کام ) اتر پردیش اسمبلی کے بجٹ سیشن کے پہلے روز شو رو غل کا منظر دیکھا گیا جہاں اپوزیشن ارکان نے ایس پی حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ یو پی میں لاء اینڈ آرڈر کی ناقص صورتحال پر اپوزیشن نے پہلے ہی ہنگامہ کرنے کا ذہن بنالیا تھا جس کے بعد دونوں ایوانوں میں وقفہ سوالات کو ملتوی کردیا گیا۔ اسمبلی کی کارروائی کے آغاز سے قبل ہی بی جے پی ارکان بشمول ریاستی صدر لکشمی کانت باجپائی نے گیلری کے روبرو دھرنا دیا اور اس کے بعد اسپیکر ماتا پرساد پانڈے کو ان کی کرسی تک آگے بڑھنے نہیں دیا۔ اس کے بعد جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی ویسے ہی تمام اپوزیشن جماعتوں بی ایس پی، کانگریس، بی جے پی اور راشٹریہ لوک دل کے ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور اکھلیش حکومت کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صدر جمہوریہ کو سماج وادی پارٹی حکومت کو برخاست کردینا چاہیئے۔ یہی نہیں بلکہ اپوزیشن ارکان لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ پر مباحثہ کئے جانے کا مطالبہ بھی کررہے تھے۔

انہوں نے برقی بحران سے نمٹنے اور گنے کے کسانوں کی واجب الادا رقومات کی ادائیگی کا بھی مطالبہ کیا۔ بی ایس پی ارکان اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھامے ہوئے تھے جن پر ’’ قتل، عصمت ریزی و لوٹ مار۔ اکھلیش حکومت کو برخاست کیا جائے‘‘۔ جیسے نعرے تحریر کئے تھے۔ دریں اثناء اسپیکر ماتا پرساد نے اپوزیشن ارکان سے ایوان میں نظم و ضبط قائم کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ اپوزیشن ارکان نے ان معاملات پر مباحث کیلئے پہلے ہی تحریک پیش کی ہے لہذا انہیں اس معاملہ کو اب مناسب وقت پر ہی اٹھانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ارکان کا انہیں ( اسپیکر) ایوان میں داخل نہ ہونے دینا ایک غیر جمہوری حرکت ہے۔ اگر اپوزیشن کو کوئی معاملہ اٹھانا ہے تو وہ ایوان کے اندر جمہوری طریقہ سے ان معاملات کو اٹھاسکتے ہیں۔ جب ایوان میں شور و غل کا سلسلہ جاری رہا اور کسی نے بھی اسپیکر کی اپیل پر کوئی توجہ نہیں دی تو اسپیکر پانڈے نے ایوان کی کارروائی پورے وقفہ سوالات یعنی 12-20 بجے تک ملتوی کردی۔

TOPPOPULARRECENT