یو پی اسمبلی میں کاٹجو کی سرزنش کی تحریک منظور

لکھنو 13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام )اتر پردیش اسمبلی نے آج متفقہ طور پر سرزنش کی ایک تحریک سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجو کے خلاف مہاتما گاندھی اور سبھاش چندر بوس کے خلاف ان کے تبصرے کی بنیاد پر منظور کردی۔ آج ایوان کا اجلاس جیسے ہی شروع ہوا کانگریس ارکان نے یہ مسئلہ اٹھایا اور ریاستی وزیر امور مقننہ محمد اعظم خان نے کہا کہ بابائے قوم

لکھنو 13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام )اتر پردیش اسمبلی نے آج متفقہ طور پر سرزنش کی ایک تحریک سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کاٹجو کے خلاف مہاتما گاندھی اور سبھاش چندر بوس کے خلاف ان کے تبصرے کی بنیاد پر منظور کردی۔ آج ایوان کا اجلاس جیسے ہی شروع ہوا کانگریس ارکان نے یہ مسئلہ اٹھایا اور ریاستی وزیر امور مقننہ محمد اعظم خان نے کہا کہ بابائے قوم پر ایسا تبصرہ پورے ملک کی توہین ہے اور اگر اس کو برداشت کیا جائے تو یہ جمہوریت کی خلاف ورزی ہوگی ۔ قائد اپوزیشن اور بی ایس پی قائد سوامی پرساد موریا‘بی جے پی قائد سریش کمار کھنہ ‘کانگریس مقننہ پارٹی کے قائد پردیپ ماتھر اور آر ایل ڈی دلویر سنگھ نے تحریک سرزنش کی تائید کی

اور کہا کہ اسے متفقہ طور پر منظور کیا جاتا ہے ۔ اپنے بلاگ میں کاٹجو نے گاندھی جی کو برطانیہ کا ایجنٹ اور بوس کو جاپانی شہری قرار دیا تھا۔ موریا نے کہا کہ گاندھی اور بوس کے خلاف تبصرہ پورے ملک کی توہین ہے اور اس سے سابق صدر نشین پریس کونسل آف انڈیا کی ’’بکواس ذہنیت ‘‘ ظاہر ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبصرہ کسی کمیشن کی صدر نشینی حاصل کرنے کیلئے کیا گیا ہے ۔ وقفہ سوالات کے دوران اسپیکر ماتا پرساد پانڈے نے اعظم خان سے خواہش کی کہ وہ تحریک کا مسودہ تیار کریں اور اسے پیش کریں ۔اس وقت تک کارروائی پروگرام کے مطابق جاری رہے گی۔ اعظم خان نے بعد میں تحریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کا احساس ہے کہ یہ کارروائی جمہوریت کیلئے خطرہ ہے اور اس کے پیچھے پوشیدہ عزائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک بات ہے کہ انتقال کے بعد ایسے الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔اس لئے وہ ایوان میں قرار داد سرزنش پیش کررہے ہیں ۔ ارکان نے سیاسی وابستگی سے قطع نظر تحریک کی متفقہ تائید کی اور ندائی ووٹ کے ذریعہ اسے منظور کرلیا گیا ۔

TOPPOPULARRECENT