Wednesday , June 20 2018
Home / Top Stories / یو پی اے حکومت میںمنموہن سنگھ واحد سوپر وزیر اعظم

یو پی اے حکومت میںمنموہن سنگھ واحد سوپر وزیر اعظم

امیتھی/ سلطان پور 15 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) پرینکا گاندھی نے آج کہا کہ یو پی اے حکومت میں منموہن سنگھ واحد سوپر وزیر اعظم ہیں جبکہ سنجئے برواکی تصنیف میں ان کے سیاسی اختیارات پر کئی اعتراضات کئے گئے ہیں۔ اپنے بھائی راہول گاندھی کے انتخابی حلقہ میں مہم چلاتے ہوئے 42 سالہ پرینکا نے سونیا گاندھی کے یو پی اے حکومت میںریمورٹ کنٹرول اور منم

امیتھی/ سلطان پور 15 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) پرینکا گاندھی نے آج کہا کہ یو پی اے حکومت میں منموہن سنگھ واحد سوپر وزیر اعظم ہیں جبکہ سنجئے برواکی تصنیف میں ان کے سیاسی اختیارات پر کئی اعتراضات کئے گئے ہیں۔ اپنے بھائی راہول گاندھی کے انتخابی حلقہ میں مہم چلاتے ہوئے 42 سالہ پرینکا نے سونیا گاندھی کے یو پی اے حکومت میںریمورٹ کنٹرول اور منموہن سنگھ کا دوسرا مقام ہونے کے سنجئے بروا کی کتاب میں دعوے پر اپوزیشن کی تنقید کے پس منظر میں ان کا یہ تبصرہ اہمیت رکھتا ہے وہ ایک پریس کانفرنس میں سوالوں کے جواب دے رہی تھیں۔

ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا سونیاگاندھی سوپر وزیر اعظم تھیں انہوں نے کہا کہ یو پی اے حکومت میں منموہن سنگھ واحد سوپر وزیراعظم تھے اپنے چچرے بھائی ورون گاندھی کو آوارہ قرار دینے پر اُن کی جوابی تنقید کے بعد پرینکا گاندھی نے اُن پر تازہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا انتخابات نظریات کی جنگ ہیں خاندان کی چائے پر ملاقات نہیں۔وہ واضح طور پر ورون گاندھی کے بی جے پی کے امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں مقابلہ کا حوالہ دے رہی تھی۔ انہو ںنے کہا کہ انہیں ورون گاندھی کے بارے میں اپنے سابقہ تصبرہ پر کوئی الجھن نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے اس موقف کا ادعا کیا کہ یہ ان کا اپنا نقطہ نظر ہے۔صدر کانگریس سونیا گاندھی کی عوام سے اپیل پر بی جے پی کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ یہ تنقید اس لئے ہے کہ سونیا گاندھی نے جو کچھ کہا وہ بالکل واضح تھا جو بی جے پی کو پسند نہیں آیا ۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات ہندوستان کے قلب کیلئے جنگ ہے کیا انہیں یہ بات سنائی نہیں دیتی ۔

سلطان پور سے موصولہ اطلاع کے بموجب ورون گاندھی نے اپنی تایا زاد بہن پرینکا گاندھی پر تازہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پرینکا نے ’’شائستگی کی حد پار کرلی ہے ‘‘ ان کا تبصرہ جس میں مجھے آوارہ قرار دیا گیا ہے شائستگی اور فراخدلی کے برعکس ہے ۔ اسے ان کی کمزور ی سمجھا جاسکتا ہے۔ 34 سالہ بی جے پی قائد نے اپنے بیان میں کہا کہ گذشتہ 10 سال میں کیا وہ صرف خاندان کی ایک رکن تھیں یا اپنی پارٹی کی سینئر قائد اس کے باوجود میں نے اپنی تقریروں میں کبھی بھی شائستگی کی حدود پار نہیں کیں۔ جب راستے کی بات آتی ہے تو ان کے خیال میں میرے ذاتی راستہ سے زیادہ اہمیت قوم کا راستہ ہے ۔ اگر میں اپنی طرز زندگی میں تعمیر قوم کیلئے تعمیری کردار ادا کرسکتا ہوں تو میں اپنی زندگی کوبا معنی اور درست راستہ پر تصور کروں گا ۔ پرینکا گاندھی کے تبصرہ پر ورون کی والدہ منیکا گاندھی نے بھی رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ورون کے بارے میں فیصلہ ملک کرے گا۔

TOPPOPULARRECENT