Thursday , July 19 2018
Home / اداریہ / یو پی ‘ بی جے پی کیلئے مشکلات کا آغاز

یو پی ‘ بی جے پی کیلئے مشکلات کا آغاز

اترپردیش ملک کی سیاسی اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ریاست ہے ۔ یہاں جس پارٹی کو انتخابات میں کامیابی ملتی ہے اس کیلئے دہلی کے اقتدار کا راستہ آسان ہوجاتا ہے ۔ اسی اہمیت کو سمجھتے ہوئے بی جے پی نے اترپردیش میں گذشتہ لوک سبھا انتخابات سے دو سال پہلے سے کوششوں کا آغاز کیا تھا اور ہر بوتھ کی سطح تک اس نے حکمت علی تیار کی تھی ۔ ریاست میں پہلے بی ایس پی اور پھر سماجوادی پارٹی کا پانچ سال تک اقتدار رہا تھا ۔ ان دونوں حکومتوں میں بی جے پی اقتدار سے باہر رہنے کی وجہ سے اس کی کوششوں کو عوام نے قدرے توجہ کے ساتھ آگے بھی بڑھایا تھا ۔ بی جے پی کی سیاسی توڑ جوڑ اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلا نے کی کوششوں نے بھی اسے رائے دہندوں کو فرقہ ورانہ خطوط پر تقسیم کرنے میں مدد کی تھی ۔ بی جے پی نے ریاست میں پہلے کیرانہ کا مسئلہ چھیڑا جہاں سے ہندووں کی نقل مقامی کی بے بنیاد باتوں کو ہوا دی گئی ۔ اس کے بعد مظفر نگر کے فسادات کروائے گئے ۔ معمولی باتوں کو انتہائی اشتعال انگیز انداز میں فرقہ وارنہ منافرت کے ساتھ پیش کرتے ہوئے عوام کی توجہ کو حقیقی مسائل سے ہٹادیا گیا تھا ۔ اس کے علاوہ حکومتوں سے ناراض عوام نے بی جے پی کو ووٹ دیا تھا ۔ تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ جس اترپردیش نے بی جے پی کیلئے دہلی کے اقتدار کا راستہ آسان کیا تھا وہی اترپردیش اب بی جے پی کیلئے مشکلات پیدا کرنے میں بھی آگے ہوسکتا ہے ۔ ریاست میں گورکھپور اور پھولپور کے ضمنی انتخابی نتائج پر تقریبا ہر گوشے سے یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی کے اتحاد کی وجہ سے ہوا ہے ۔ یقینی طور پر دونوں جماعتوں کے اتحاد سے رائے دہندوں کو ایک مثبت پیام ملا ہے اور یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ اس گئی گذری حالت میں بھی بہوجن سماج پارٹی اپنے ووٹ جس پارٹی کو چاہے منتقل کرنے کی طاقت رکھتی ہے ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہاں بی جے پی نے امیدواروں کے انتخاب میں غلطی کی تھی ۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سنجیدگی سے مقابلہ نہیں کیا گیا لیکن جو باتیں آئندہ انتخابات پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہیں ان کو فراموش کردیا گیا ہے اور بہت کم گوشوں نے اس پہلو پر غور کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ یہ اہمیت کا حامل پہلو ہے ۔
اس بات سے انکار کی گنجائش نہیں ہوسکتی کہ ایس پی ۔ بی ایس پی اتحاد نے ہی اس کامیابی میں اہم رول ادا کیا ہے لیکن جو دوسرے عوامل ہیں انہیں بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ ان میں زرعی بحران کو زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔ یوگی حکومت نے کسانوں کے قرض معاف کرنے کا جو اعلان کیا تھا اس پر پوری طر ح سے عمل آوری نہیں ہوئی ہے ۔ بعض گوشوں کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کو مذاق بناکر رکھ دیا گیا تھا ۔ کسانوں کے چند سو روپئے کے قر ض معاف کرتے ہوئے انہیں بیوقوف بنانے کی کوشش کی گئی اور اس پر کسان برادری میں کافی برہمی پائی جاتی ہے ۔ علاوہ ازیں نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری بھی ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔ نریندر مودی حکومت نے نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ کرتے ہوئے اس کو فراموش کردیا ہے اور انہیں پکوڑے بیچنے کا مشورہ دینے لگی ہے ۔ اس بات پر بھی نوجوان بے چین ہیں۔ اس کے علاوہ ریاست میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بھی بہتر نہیں ہو پائی ہے ۔ بی جے پی نے سماجوادی پارٹی حکومت میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کو زیادہ نشانہ بنایا تھا لیکن اب اپنے اقتدار کے ایک سال میں بھی وہ حالت کو سدھارنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔ ریاست میں مجرمین کے انکاؤنٹر کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس سے بھی ریاست کے عوام میں بے چینی کی کیفیت پائی جاتی ہے ۔ حکومت ان انکاؤنٹرس کو روکنے کی بجائے ان کے ذریعہ مخالفین کو دھمکانے میں مصروف ہے ۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی وجہ سے چھوٹی صنعتوں کا جو نقصان ہوا ہے وہ بھی ناقابل تلاشی ہے اور عوام کو اس کا احساس ہونا شروع ہوا ہے ۔
ضمنی انتخابات کے نتائج میں ان پہلووں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف ایس پی ۔ بی ایس پی اتحاد کو اہمیت دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ان مسائل کو موثر انداز میں اجاگر کرتے ہوئے اگر عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو مستقبل میں ہونے والے انتخابات ‘ چاہے وہ عام انتخابات ہوں یا پھر اسمبلی انتخابات ہوں ‘ ریاست میں ایک الگ ہی سیاسی تصویر پیش کرسکتے ہیں۔ تمام اپوزیشن جماعتوں کی اب تک کی ناکامی یہی رہی کہ وہ عوام کی ناراضگی اور برہمی کو حقیقی معنوں میں اظہار کا موقع فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ یہ جماعتیں اگر عوام کو اپنے غصہ اور ناراضگی کے اظہار کا کوئی موثر اور جامع پلیٹ فارم فراہم کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو جس یو پی نے بی جے پی کو مرکزی اقتدار کی راہ دکھائی تھی وہی یو پی اسے روکنے میں بھی کامیاب ہوسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT