Wednesday , December 13 2017
Home / ہندوستان / یو پی حکومت شیعہ اور سنی وقف بورڈس کے انضمام کیلئے تیار

یو پی حکومت شیعہ اور سنی وقف بورڈس کے انضمام کیلئے تیار

سنی وقف بورڈ کے صدرنشین کی جانب سے خیرمقدم ‘ صدر نشین شیعہ وقف بورڈ کو اعتراض
لکھنو۔22اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام) حکومت یو پی ایک یو پی مسلم وقف بورڈ کے قیام پر غور کررہی ہے جو شیعہ اور سنی وقف بورڈس کے انضمام کے ذریعہ وجود میں آئے گا ۔ اس کا مقصد رقم کے بیجا خرچ کو روکنا ہے ۔ وزیر مملکت برائے اوقاف محسن رضا نے الزام عائدکیا کہ سنی اور شیعہ وقف بورڈس دونوں کرپشن میں ملوث ہیں اور حکومت کو انہیں جلد ہی تحلیل کرنا ہوگا ‘ حالانکہ کارروائیوں کو ابھی قطعیت نہیں دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یو پی مسلم وقف بورڈ جب تشکیل پائے گا تو اس کے ارکان نے سنی اور شیعہ دونوں برادریوں کے افراد شامل ہوں گے اور اس کے صدرنشین کا انتخاب ان کے درمیان سے کیا جائے گا ۔ حکومت کو کئی مکتوبات وصول ہوچکے ہیں جن میں سنی اور شیعہ وقف بورڈس کے انضمام کے بارے میں مختلف گوشوں سے تجاویز پیش کی گئی ہیں ۔ انضمام کے بعد حکومت اس کی منظوری حاصل کرے گی ۔ متعلقہ محکموں سے اس کی منظوری حاصل کی جائے گی ۔ محکمہ قانون تجویز پر نظرثانی کرے گا اور حکومت اس پر غور کرے گی کہ یو پی مسلم وقف بورڈ قائم کیا جائے یا نہیں ۔

محسن رضا کے بموجب علحدہ وقف بورڈ رکھنا ریاست کیلئے قانونی نہیں ہے ۔ وقف قانون 1995ء کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شیعہ یا سنی کو کم از کم 15فیصد حصہ وقف شعبوں میں رکھنا چاہیئے تاکہ علحدہ بورڈس قائم کئے جاسکیں ۔ انہوں نے کہا کہ لیکن یو پی میں ایسا نہیں ہے ‘ یہاں شیعہ صرف پانچ ہزار یونٹس رکھتے ہیں جبکہ وقف یونٹس کی جملہ تعداد 24ہزار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ یا سنی کو جملہ وقف یونٹس کا 15فیصد مختص کیا جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سنٹرل وقف کونسل کے بموجب شیعہ وقف بورڈ کو صرف 3ہزار یونٹس مختص کئے جاسکتے ہیں ‘ انہیں علحدہ شیعہ بورڈ قائم کرنے کی اجازت دینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اس تبدیلی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شیعہ وقف بورڈ کے صدرنشین وسیم رضوی نے کہا کہ علحدہ صدرنشین ‘ سی ای او اور دیگر ارکان عملہ پر زبردست اخراجات ہورہے ہیں اور یہ رقم کا فضول خرچ ہے ۔ محسن رضا نے اپنا تبصرہ دیتے ہوئے اس کا انکشاف کیا ۔ وسیم رضوی نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ علحدہ سنی اور شیعہ وقف بورڈس کی کوئی گنجائش نہیں ہے جو 2015ء میں پانچ سال کیلئے قائم کئے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کو تحلیل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ میعاد کے اختتام تک کچھ نہیں کیا جاسکتا ۔ حکومت وقف یونٹس کی تعداد کے بارے میں چھان بین کرسکتی ہے ۔ ان کی انکم میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔ رضوی نے الزام عائد کیا کہ شیعہ وقف بورڈ کی آمدنی جملہ آمدنی کے 15فیصد سے زیادہ ہے تاہم یو پی سنی وقف بورڈ کے صدرنشین ظفرفاروقی نے کہا کہ وہ اس اقدام کا خیرمقدم کریں گے کہ دونوں بورڈس کیلئے انضمام کے ذریعہ ایک کردیا جائے لیکن انہوں نے کہا کہ انہیں حیرت ہے کہ حکومت اپنے فیصلہ کو تبدیل کیوں کررہی ہے حالانکہ یہ فیصلہ 1999ء میں کلیان سنگھ زیرقیادت بی جے پی حکومت نے کیا تھا ۔ کلیان سنگھ نے علحدہ علحدہ شیعہ اور سنی وقف بورڈ قائم کئے تھے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ حکومت سابق حکومت کے فیصلہ کی توثیق نہیں کرسکتی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT