Sunday , July 22 2018
Home / Top Stories / یو پی : راجیہ سبھا انتخابات میں 10ویں نشست پر سب سے بڑا تجسس

یو پی : راجیہ سبھا انتخابات میں 10ویں نشست پر سب سے بڑا تجسس

نریش اگروال کی بی جے پی میں شمولیت سے ایس پی ۔ بی ایس پی کو پریشانی، نتن اگروال کی کراس ووٹنگ پر خدشہ برقرار

یو پی میں 10میں سے بی جے پی کے 8 اور ایس پی کی 1نشست پر کامیابی یقینی
اکھلیش یادو کے عشائیہ میںآزاد رکن اسمبلی راجہ بھیا کی شرکت
نریش اگروال کے فرزند نتن اگروال کی وفاداری پر سب کی نگاہیں مرکوز

لکھنو۔22مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) راجیہ سبھا کی 59 نشستوں کیلئے 23مارچ کو ہونے والے انتخابات ایک بار پھر ملک کی سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ کردیا ہے ۔ اس میں سب سے زیادہ دلچسپ یو پی میںمنعقد ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات ہیں جہاں سے اس بار مجموعی طور پر 10 ارکان راجیہ سبھا کا انتخاب عمل میں آئے گا ۔ تاہم سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ 10ویں نشست کیلئے ہی سب کیلئے لمحہ آخر تک تجسس برقرار ہے ۔ دراصل یہاں پر صرف ایک رکن اسمبلی کی کراس ووٹنگ یا وفاداری تبدیل کرنے کے سبب دسویں نشست متعلقہ پارٹی کے حق میں جاسکتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق 10میں سے 8نشستوں پر بی جے پی کی کامیابی یقینی ہے جب کہ ایک نشست پر سماج وادی پارٹی کی جیت پکی ہے ۔ تاہم دسویں نشست کیلئے ابھی تک تجسس برقرار ہے ۔ دراصل اس نشست پر ایس پی ۔ کانگریس جہاں بی ایس پی کو کامیاب بنانے میں مصروف ہیں وہیں بی جے پی نے بھی نویں امیدوار کو کھڑا کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ چہارشنبہ کی رات لکھنو میں اکھلیش یادو نے اپنے عشائیہ میں اپنی عددی طاقت کا اندازہ کرچکے ہیں تو یوگی کی رہائش گاہ پر بھی حلیفوں کی میٹنگ منعقد ہوئی ہے ۔ دراصل یو پی کی 10ویں سیٹ کیلئے بی ایس پی امیدوار بھیم راؤ ا مبیڈکر اور بی جے پی کے انیل اگروال کے درمیان مقابلہ ہے ۔ لوک سبھا ضمنی انتخابات میں اپنی دونوں نشستیں گنوا چکی بی جے پی ہر حال میں اس نشست پر کامیاب ہونا چاہتی ہے ۔ وہیں دوسری طرف ایس پی ‘ بی ایس پی اورکانگریس نے بی ایس پی امیدوار کو کامیاب بنانے کیلئے پورے زورلگا رکھا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ایک رکن اسمبلی پر نظر بنی ہوئی ہے اور مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کیلئے ڈنر اور جوڑ توڑ کی سیاست جیسے تمام ممکنہ اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ دراصل دسویں نشست کیلئے یہ مسئلہ اُس وقت پیدا ہوا جب نریش اگروال سماج وادی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوگئے ۔ راجیہ سبھا کے انتخابات میں مطلوبہ تعداد کے حساب سے ایک راجیہ سبھا امیدوار کی کامیابی کیلئے 37ارکان اسمبلی کی ضرورت ہے ۔ بی جے پی کے پاس 311 اور حلیف جماعتوں کے 13ارکان اسمبلی ملاکر ان کے پاس مجموعی طور پر 324 ارکان کی تائید حاصل ہے ۔ جب کہ ایس پی کے پاس جملہ 47‘ بی ایس پی کے 19 ‘ کانگریس کے 7 ‘ آر ایل ڈی کا ایک ‘ آزاد ارکان 3 اور دیگر 3ارکان اسمبلی کے ساتھ مجموعی طور پر 80 ارکان کی تائید حاصل ہے ۔ بی جے پی کے 8 متوقع کامیاب امیدواروں کے بعد ان کے پاس 28ارکان بچتے ہیں جب کہ ایس پی سے جیہ بچن کے منتخب ہونے کے بعد ایس پی کے پاس صرف 10ارکان بچتے ہیں ۔ اس میں بی ایس پی کے 19‘کانگریس کے 9 اور آر ایل ڈی کے 1 ارکان کو ملا دیا جائے تو یہ تعداد 37 تک ہوجاتی ہے ۔ایسی صورتحال میں بی ایس پی کے امیدوار بھیم راؤ امبیڈکر کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی مگر یہیں پر نریش اگروال فیکٹراس راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے ۔ چونکہ نریش اگروال بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد اس بات کے خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں کہ ایس پی کے رکن اسمبلی نریش اگروال کے بیٹے نتن اگراول کراس ووٹنگ کرسکتے ہیں۔چونکہ یوگی آدتیہ ناتھ کی رہائش گاہ پر دیئے گئے عشائیہ میں شرکت کرتے ہوئے نتن اگروال اس کا اشارہ بھی دے چکے ہیں ۔ مگر دوسری طرف آزاد رکن اسمبلی راجہ بھیا اکھلیش یادو کے عشائیہ میں نظرآئے جو بدلتی سیاسی صورتحال کی عکاسی کررہے تھے ۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ اس کا 9واں امیدوار بھی یقینی طور پر مطلوبہ ووٹس حاصل کرتے ہوئے یقینی طور پر کامیابی حاصل کرے گا ۔ حالانکہ ایسا ہونے کیلئے بی جے پی کو مزید 9ارکان اسمبلی کی تائید کی ضرورت ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT