Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / یو پی سے ایس پی اور بی ایس پی کی بیخ کنی

یو پی سے ایس پی اور بی ایس پی کی بیخ کنی

کانگریس دورحکومت میں کئی اسکامس ، امیت شاہ کا بیان
الہ آباد ۔ 31 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اسکام سے داغدار یو پی اے حکومت اور کسی بھی الزام سے پاک این ڈی اے زیرقیادت مرکزی حکومت کے درمیان تقابل کرتے ہوئے قومی صدر بی جے پی امیت شاہ نے آج کہا کہ ان کی پارٹی اترپردیش اسمبلی انتخابات 2017ء میں سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی کی بیخ کنی کردے گی۔ دو دن قبل نائب صدر کانگریس نے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے جاننا چاہا تھا کہ مودی حکومت نے کونسے کارنامے انجام دیئے ہیں۔ امیت شاہ نے موجودہ حکومت کے کارناموں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ10  سال کی مدت میں کانگریس برسراقتدار تھی جبکہ موجودہ حکومت صرف دو سال سے برسراقتدار ہے۔ اس کے دوران کانگریس نے ملک کو ایک وزیراعظم دیا جو ہر اہم مسئلہ پر اظہارخیال کرتا تھا جب کانگریس برسراقتدار تھی تو لاکھوں کروڑوں روپئے کے اسکام منظرعام پر آئے جبکہ مودی حکومت کا ریکارڈ کسی بھی الزام سے پاک ہے اور اس نے اپنے اقتدار کے دو سال مکمل کرلئے ہیں۔ صدر بی جے پی نے کسان سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2014ء کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج سے بی جے پی کو جو فوائد حاصل ہوئے وہ اس نے یو پی کی ترقی کیلئے خرچ کئے ہیں۔ ریاست میں 20 ہزار دیہات ہیں جہاں برقی توانائی موجود نہیں ہے۔ ان کی حکومت برسراقتدار آنے کے بعد دو سال کے اندر ان دیہاتوں میں سے 8 ہزار دیہاتوں کو برقی توانائی فراہم کردی گئی ہے اور باقی دیہاتوں کو 2018ء تک برقی توانائی حاصل ہوجائے گی۔ تاہم مودی حکومت کی کئی کوششوں سے نتائج حاصل نہیں ہورہے تھے

کیونکہ اکھیلیش یادو حکومت اس کے ساتھ تعاون نہ کرنے کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ بی جے پی زیراقتدار ریاستوں سے یو پی 10 سال سے زیادہ پیچھے ہے۔ برقی توانائی یا تو مایاوتی کی بی ایس پی کے ہاتھوں میں تھی جو بڑے پیمانے پر کرپشن کیلئے شہرت رکھتی ہیں یا سماج وادی پارٹی کے ہاتھوں میں جو غنڈوں کی سرپرستی کیلئے بدنام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اچھی طرح واقف ہے کہ ریاست کیلئے ان دونوں پارٹیوں نے کیا کیا ہے۔ گذشتہ لوک سبھا انتخابات میں شاندارکامیابی حاصل ہوسکتی تھی لیکن بی جے پی کو صرف 71 نشستیں حاصل ہوئیں جس کی وجہ سے بی جے پی پارلیمنٹ میں قطعی اکثریت سے محروم رہی۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی دونوں کی ریاست سے بیخ کنی کریں۔ آئندہ سال کے اوائل سے بی جے پی کو موقع ملے گا کہ وہ اپنے ادھورے کاموں کی تکمیل کرسکے۔ پارٹی کے سینئر قائدین بشمول قومی سکریٹری سدھارتھ ناتھ سنگھ صدر پردیش بی جے پی کیشو پرساد موریا اور کئی لوک سبھا ارکان اس جلسہ عام میں شریک تھے۔ بی ایس پی کے رکن اسمبلی پروین پٹیل بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ پٹیل جھانسی کے بی ایس پی رکن اسمبلی 2007ء سے 2012ء تک رہ چکے ہیں جبکہ بی ایس پی ریاست میں برسراقتدار تھی۔ انہوں نے دو اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کیا لیکن ناکام رہے۔ پٹیل برادری ضلع الہ آباد میں قابل لحاظ آبادی رکھتی ہے۔ امیت شاہ کا دورہ الہ آباد ان کے پارٹی کے قومی صدر بننے کے بعد اولین دورہ ہے۔ وہ دو سال قبل پارٹی کے صدر مقرر کئے گئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT