Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / یو پی میں این آئی اے مسلم عہدیدار کو گولی ماردی گئی

یو پی میں این آئی اے مسلم عہدیدار کو گولی ماردی گئی

اہلیہ بھی زخمی ، حملہ آوروں کی کمسن بچوں کے روبرو قریبی فاصلہ سے فائرنگ
بجنور / نئی دہلی ۔/3 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے) کے مسلم عہدیدار کو آج دو نامعلوم موٹر سیکل سواروں نے صبح کی اولین ساعتوں میں گولی مارکر ہلاک کردیا ۔ وہ انڈین مجاہدین سے متعلق دہشت گردی کے کئی مقدمات کی تحقیقات میں مصروف تھے۔وہ اترپردیش کے ٹاؤن بجنور کے قریب شادی کی تقریب میں شرکت کرکے واپس ہورہے تھے ۔ اس حملہ میں ان کی اہلیہ زخمی ہوگیئں ۔ حملہ آوروں نے محمد تنزیل احمد پر 24 اور ان کی اہلیہ فرزانہ کو چار گولیاں ماری ۔ ان کی 14 سالہ لڑکی اور 12 سالہ لڑکا کار کی عقبی نشست سے یہ اندونہاک واقعہ دیکھ رہے تھے ۔ پولیس نے بتایا کہ ویاگن آر کار میں یہ خاندان سفر کررہا تھا کہ انہیں حملہ کا نشانہ بنایا گیا ۔ تاہم ان دو بچوں کو کوئی گزند نہیں پہنچی ۔ بتایا جاتا ہے کہ محمد تنزیل احمد ضلع بجنور کے ساہسپور گاؤں میں واقع اپنے گھر واپس ہورہے تھے ۔

انہوں نے اس ضلع میں واقع ایک قریبی گاؤں میں رشتہ دار کی شادی کی تقریب میں شرکت کی تھی جو دہلی سے تقریباً 150 کیلو میٹر دور واقع ہے ۔ پولیس نے  محمد تنزیل احمد کی ہلاکت کو ’’منصوبہ بند‘‘ حملہ قرار دیا اور دہشت گردی کے پہلو کو بھی مسترد نہیں کیا ہے ۔ وہ پہلے این آئی اے انٹلیجنس  ونگ میں انسپکٹر تھے  اور بعد میں انہیں انوسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ پر تعینات کیا گیا تھا ۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے لکھنؤ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں واقعہ کے بارے میں اطلاع ملی ہے ۔ ہم جو کچھ بھی ضروری ہو کریں گے ۔ اس سلسلہ میں این آئی اے عہدیداروں سے بات کی جارہی ہے ۔ پولیس کو شبہ ہے کہ حملہ آور محمد تنزیل احمد کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہوئے تھے ۔ انہوں نے اس کارروائی میں کم از کم ایک 9 ایم ایم کی پستول استعمال کی ۔ اترپردیش پولیس کے آئی جی (لا اینڈ آرڈر) بھگوان سروپ نے بتایا کہ تنزیل احمد پردو موٹر سیکل سواروں نے حملہ کیا ۔ یہ واقعہ 12.45 بجے شب پیش آیا ۔ 45 سالہ تنزیل احمد فبروری 2009 ء میں این آئی اے کی تشکیل کے بعد سے مسلسل اسی سے وابستہ رہے ۔ وہ کئی مقدمات بالخصوص ممنوعہ انڈین مجاہدین دہشت گرد تنظیم کی تحقیقات کررہے تھے ۔ ان کے اعلیٰ عہدیداروں نے تنزیل احمد کو انٹلیجنس معلومات اکٹھی کرنے اور تحقیقات میں پیشہ ورانہ مہارت کا حامل قرار دیا ہے ۔ پولیس ہر پہلو سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے ۔ یہ عہدیدار پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات سے بھی منسلک تھے۔

TOPPOPULARRECENT