Tuesday , June 19 2018
Home / سیاسیات / یو پی میں بی جے پی کی اقتدار پر واپسی یقینی: کلراج مشرا

یو پی میں بی جے پی کی اقتدار پر واپسی یقینی: کلراج مشرا

نئی دہلی 21 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی تاریخی کامیابی کو نریندر مودی کا ’’کرشمہ‘‘ قرار دیتے ہوئے بی جے پی کے سینئر قائد کلراج مشرا نے کہاکہ ریاست میں پارٹی کی اقتدار پر واپسی یقینی ہے۔ تاہم اُنھوں نے اکھلیش یادو حکومت سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے سے گریز کیا۔ سماج وادی پارٹی کو 403 رکنی اسمبلی میں 225 ن

نئی دہلی 21 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی تاریخی کامیابی کو نریندر مودی کا ’’کرشمہ‘‘ قرار دیتے ہوئے بی جے پی کے سینئر قائد کلراج مشرا نے کہاکہ ریاست میں پارٹی کی اقتدار پر واپسی یقینی ہے۔ تاہم اُنھوں نے اکھلیش یادو حکومت سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے سے گریز کیا۔ سماج وادی پارٹی کو 403 رکنی اسمبلی میں 225 نشستیں حاصل ہونے کے بعد پارٹی یو پی میں برسر اقتدار آئی ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو 80 نشستوں میں سے 73 حاصل ہوئیں جبکہ ملائم سنگھ یادو اور اُن کے ارکان خاندان صرف 5 نشستیں حاصل کرسکے۔ مایاوتی زیرقیادت بی ایس پی ایک بھی نشست پر کامیاب نہیں ہوئی۔ کلراج مشرا نے انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ اُنھیں نتائج پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ یہ نتائج اُن کے لئے غیر متوقع نہیں تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ایسا ہوسکتا ہے اور اُنھوں نے اِس کی پیش قیاسی بھی کی تھی، جب بھی لوگوں نے اُن سے حاصل ہونے والی نشستوں کی تعداد دریافت کی تو اُنھوں نے کہا تھا کہ حالیہ انتخابات ذات پات کی تمام حدود توڑ دیں گے اور بی جے پی زبردست کامیابی حاصل کرے گی۔ کلراج مشرا نے دیوریا میں بی ایس پی امیدوار نیاز احمد کو شکست دی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ 2000-2002 ء سے یوپی میں بی جے پی حکومت قائم نہیں ہوئی۔ اُنھوں نے کہاکہ پورا کامیابی کا سہرا نریندر مودی کی کرشماتی قیادت کے سر ہے جس نے پارٹی کا احیاء کر دکھایا۔ 73 سالہ قائد نے کہاکہ مودی کی ترقی کا ایجنڈہ مقبول عام ہوگیا اور اِس کے نتیجہ میں قطعی اکثریت حاصل ہوئی۔ لوگوں کو یقین آگیا تھا کہ اگر مودی برسر اقتدار آئیں تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہوجائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ اُنھوں نے اپنی زندگی میں انتخابی کامیابی کے اتنے جلوس کبھی نہیں دیکھے تھے۔ اِس سوال پر کہ کیا اُن کے خیال میں اکھلیش یادو حکومت کو مستعفی ہوجانا چاہئے، اُنھوں نے جواب دیا کہ یہ سماج وادی پارٹی کا داخلہ معاملہ ہے۔ اُنھیں اسمبلی میں قطعی اکثریت حاصل ہے اِس لئے استعفے کا مطالبہ نامناسب ہوگا۔ جہاں تک اخلاقی ذمہ داری کا سوال ہے یہ اُن کی پارٹی کا داخلی معاملہ ہے۔ سماج وادی پارٹی کواپنے قیام کے بعد پہلی بار اتنی شرمناک شکست ہوئی۔ اکھلیش یادو کو اِس پر بھی غور کرنا چاہئے۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ سماج وادی پارٹی نے یوپی کے عوام کو بیوقوف بنایا اور بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی کو اُن کے تکبر کی وجہ سے شکست ہوئی۔ اُنھوں نے سماج وادی پارٹی پر خوشامد کی سیاست کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔

TOPPOPULARRECENT