Monday , April 23 2018
Home / اداریہ / یو پی میں پولیس انکاونٹرس

یو پی میں پولیس انکاونٹرس

اترپردیش کی 10 ماہ پرانی آدتیہ ناتھ یوگی حکومت نے پولیس کو بیجا اختیارات دے کر اندھا دھند انکاونٹرس کا محاذ کھول دیا ہے ۔ چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف لینے والے آدتیہ ناتھ یوگی کو اپنی ریاست میں لا اینڈ آرڈر کی برقراری کے لیے قانون کے مروج اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے ۔ دستوری عہدہ کا حلف لیتے ہوئے یہ عہد کیا جاتا ہے کہ ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ کیا جائے گا ۔ اترپردیش جیسی ہندوستان کی کثیر آبادی والی ریاست میں جرائم کی کثرت بھی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ مگر گذشتہ 10 ماہ سے ریاست یو پی کے ہر کونے میں انکاونٹر کے ذریعہ خوف کا ماحول پیدا کیا گیا ہے ۔ پولیس اور مجرموں کے درمیان تصادم کے واقعات افسوسناک ہیں ۔ اس طرح کے تصادم میں اب تک 1142 انکاونٹر ہوئے ہیں ۔ مجرموں کے حملوں میں 34 پولیس ملازم بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 2744 افراد کو گرفتار کیا گیا ۔ اترپردیش ایک بڑی رقبہ والی ریاست ہے جہاں مختلف زونس میں عوامی معیار زندگی اور طرز زندگی بھی مختلف ہوتا ہے ۔ ریاست کا مغربی علاقہ انکاونٹر کے واقعات میں سرفہرست بتایا جاتا ہے ۔ صرف میرٹھ میں 449 انکاونٹر اور 985 جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا گیا ۔ ریاست کی پولیس نے گولی کا جواب گولی سے دے کر جرائم پر قابو پانے کی حکمت عملی بنائی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ حکمت عملی چیف منسٹر آدتیہ ناتھ یوگی کی جانب سے تیار کی گئی ہے ۔ انہوں نے پولیس فورس کو کامل اختیارات دے کر اس محکمہ کو طاقتور بنانے کا مظاہرہ کیا ۔ بعض صورتوں میں انکاونٹرس ناگزیر ہوتا ہے لیکن اترپردیش میں جس طرح کے انکاونٹرس ہورہے ہیں ان میں سے بیشتر پر شبہات کا اظہار بھی کیا جارہا ہے ۔ مارچ 2017 سے جنوری 2018 کے درمیان 900 سے زائد انکاونٹرس کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ ان تعداد میں انکاونٹرس سے پولیس کی کارکردگی اور حکومت کی درپردہ پالیسیوں پر شبہات پیدا ہونا لازمی ہے ۔ گذشتہ ہفتہ کو نوئیڈا میں ایک جم ٹرینر کو صرف اس لیے گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے اس نے مبینہ طور پولیس کے ساتھ بحث کی تھی ۔ اکٹوبر میں پولیس نے ایک ہسٹری شیٹر سمیت گرجر کو ہلاک کیا لیکن شبہ یہ کیا جارہا ہے کہ اس نے سمیت گرجر کی جگہ کسی اور گرجر کو نشانہ بنایا ۔ پولیس کی جانب سے اپنے اختیارات کے بیجا استعمال کی شکایت اب قومی انسانی حقوق میں درج ہوچکی ہے ۔ انسانی زندگی گذارنے کی آزادی کو چھین لینے اور عوام کے جان کی دشمن بننے والی پولیس کو اپنی زیادتیوں کو فوری ختم کرنا ہوگا ۔ قومی انسانی حقوق کمیشن کے اس سلسلہ میں سخت قدم اٹھاتے ہوئے ریاست یو پی میں صرف مختصر وقفہ میں 900 سے زائد انکاونٹرس کی تفصیلی رپورٹ طلب کر کے اس کی صداقت کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ مرکز کی بی جے پی حکومت ہو یا ریاست یو پی کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کو قومی انسانی حقوق کمیشن کی نوٹسوں کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے ۔ انکاونٹرس کے واقعات پر عوام میں خوف پیدا ہورہا ہے ۔ سپریم کورٹ نے اس طرح کے انکاونٹر کا ماضی میں نوٹ لیا تھا جس کے بعد اس نے 16 رہنمایانہ اصول وضع کیے تھے مگر ریاستی حکومت اور اس کے لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے والے پولیس ملازمین اپنے اختیارات کا بیجا استعمال کرنے لگتے ہیں تو اسے قانون اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے ۔ اترپردیش کے حالیہ انکاونٹر واقعات کا سپریم کورٹ کو بھی نوٹ لینے کی ضرورت ہے ۔ اگر سپریم کورٹ اس معاملہ میں از خود قدم اٹھا کر حکومت یو پی اور پولیس سے جواب طلب کرے تو مستقبل میں طاقت کے بیجا استعمال کی کوششوں کو روکنے میں مدد ملے گی ۔ پولیس کو قانون پر عمل کرنے کا پابند بناکر مجرموں کے ساتھ حتمی فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے بلکہ مجرموں کو عدالتوں کے سامنے پیش کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے ۔ صرف انکاونٹرس کو ہی اپنی حتمی کارروائی متصور کر کے پولیس اندھا دھند فائرنگ کرنا شروع کرے گی تو انسانی حقوق کا سنگین مسئلہ پیدا ہوگا ۔ مقدمہ بازی کے بغیر مجرموں کو ختم کرنے کی کوشش ایک غیر منصفانہ عمل کہلاتا ہے ۔ بلا شبہ پولیس کا کام مشکل ہوتا ہے اور مجرموں سے مدبھیڑ میں وہ اپنی جان کی بازی لگاتی ہے لیکن اس ذمہ دارانہ کام کو صرف یکطرفہ طریقہ سے انجام دینے کی کوشش کی جائے تو پھر شہریوں کے تحفظ کا مسئلہ نازک ہوتا جائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT