Tuesday , December 12 2017
Home / مضامین / یو پی کی معصوم سانسیں ، یوگی کا زوال

یو پی کی معصوم سانسیں ، یوگی کا زوال

 

محمد غوث علی خاموشؔ
اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کی حکمرانی نے یہ ثابت کردیا کہ یہ صرف گاؤ شالہ کی بہتر طریقہ سے نگرانی کرسکتے ہیں کیونکہ ان ہی کے اپنے حلقہ گورکھپور سرکاری دواخانہ بابا رگھو داس میڈیکل کالج میں ملک کا بدترین لاپرواہی والا جو واقعہ پیش آیا ۔ جہاں صرف سات دنوں میں 72 معصوم بچوں نے دم توڑ دیا اور وجہ صرف ریاستی حکومت کی غیر معمولی لاپرواہی ، زندگی اور موت کے درمیان تڑپ رہے 156 معصوم بچوں کو آکسیجن کی شدید ضرورت ہونے کے باوجود صرف اسلئے آکسیجن سربراہ نہ ہوسکا کہ آکسیجن سبراہ کرنے والے کنٹراکٹر کو یوگی کی سرکاری 75 لاکھ روپئے باقی ہے اور اس باقی رقم کو ادا کرنے تک آکسیجن سربراہ نہ کرنے کی کنٹراکٹر نے ٹھان لی جبکہ اس دواخانہ کی پہلی ضرورت آکسیجن ہے اس لئے کئی مرتبہ ڈاکٹروں نے بھی توجہ دلائی ۔ مگر یوگی سرکار نے بقایا جات ادا کرتے ہوئے آکسیجن سلینڈروںکی سربراہی بحال کرنا ضروری نہ سمجھا کیونکہ یوگی کے سرکار چلانے والے طریقہ کچھ مختلف جو ہیں، یوگی سرکار گائے تحفظ کیلئے 40 کروڑ روپئے کا فنڈ جاری کرتی ہے مگر 75 لاکھ روپئے کا آکسیجن بقایا جات ادا کر کے انسانی زندگیوں کا تحفظ ضروری نہیں سمجھتی ، اس لئے تو صرف ایک ہی دن میں 38 معصوم بچوں کی سانسیں تھم گئیں اور دوسرے دن 30 افراد صرف آکسیجن نہ ملنے پر ہی موت کی نیند سوگئے اور اس بات کی تصدیق ضلع کلکٹر نے بعد تحقیقات کے کرچکی ہے ۔ اس بدترین واقعہ کے بعد یوگی سرکار کے پیروں تلے زمین نکل گئی لیکن انہیں بچانے والے طاقتور ہاتھ جو ملک میں موجود ہیں، اس لئے حکومت کو رسوا ہونے سے بچانے کی خاطر میڈیکل کالج کے پرنسپال و دیگر ڈاکٹروں کو معطل کردیا اور اپنی نااہلی لاپرواہی پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کی اس لئے کہ آکسیجن سلینڈروں کیلئے لین دین والا کام پرنسپال وڈاکٹرس کا نہیں ہے پھر بھی حکومت نے ڈاکٹروں کو خدمات سے محروم تو کردیا مگر اموات کا سلسلہ روک نہ سکی اور ڈاکٹر کفیل احمدکو نوڈل آفیسر کی طرح خدمات سے معطل کرتے ہوئے یوگی نے کمزور حکمرانی کا ثبوت دیا ہے ۔ اترپردیش میں مختلف امراض سے متاثر بچوں میں 47% فیصد بچے دماغی بخار میں مبتلا ہیں اور اس بیماری کی وجہ ناقص صفائی کے انتظامات جگہ جگہ خنزیروں کی کثرت ، خنزیر کو کاٹا ہوا مچھر اگر کسی معصوم کو کاٹ لے تو ایسی بیما ریوں کا شکار ہوتے ہیں اور ایسے متاثرہ بچوں کا فیصد ریاست میں 47 ہے، تو کیا اترپردیش میں سوچھ بھارت پر عمل آوری صفر ہے یا پھر مودی کے اس مشن کی یوگی سرکاری کو پرواہ ہی نہیں۔ کٹر پسند سنگھ پریوار وادی وزیر اعلیٰ رہنے کے باوجود سوچھ بھارت ابھیان سے عدم دلچسپ کسی تعجب سے کم نہیں ۔ ورون گاندھی کو ہوش آیا بھی تو بہت کچھ لٹ جانے کے بعد ، اترپردیش میں معصوم اموات پر بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے توگورکھپور واقعہ کو تو ایسے حقیر بتایا کہ بڑے ملک میں ایسے چھو ٹے واقعات ہوتے ہیں اور اس طرح کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ، امیت شاہ نے یوگی کی حکومت کو اس بیان سے جو آکسیجن دینے کی کوشش کی ہے اس سے بے حسی کا صاف اظہار بھی ہوگیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے وزیراعظم کی بڑی بڑی باتیں اور ان کی حکومت والی ریاست میں معصوم زندگیوں سے لاپرواہی کہنے اور عمل کرنے میں بہت بڑا فرق ہے ، اب یہ عوام کوآہستہ آہستہ محسوس ضرور ہونے لگاہے جس کا اظہار صوبہ کے عوام نے یوگی کی آمد پر سیاہ جھنڈیوں کو لہراتے کیا ہے ، یہ یوگی کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے، جب یہ اپنی ہی ریاست میں اپنے ہی حلقہ میں اس قدر لاپرواہ ہوں گے تو ریاست کا مستقبل کیا ہوگا ؟ صرف مذہبی جنون کے ہتھکنڈوں سے حکمرانی نہیںہوتی اس کیلئے عوامی خدمت کا بے لوث جذبہ ہونا ہوتا ہے جو یوگی کے پاس نہیں ہے ، مودی کے بلند بانگ دعوے نیا ہندوستان بنانے کا خواب ، اس پر یوگی کی محو خواب والی حکومت ، مودی کو ایک گہری سوچ میں ضرور ڈال دیا ہے اور یہ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ گائے میں دلچسپ رنگ نرنجن شخص کو بڑی ریاست کا وزیر اعلیٰ بناکر خود اپنی گردن پر ننگی تلوار تو نہیں رکھ لی ۔ یوگی نے لاپرواہی کر کے مودی کی رفتار کو بریک ضرور لگایا ہے ، یوگی جیسی لاپرواہی رہی تو نیا ہندوستان کہاں ممکن ہوگا ۔ یوگی کو یو پی کے تمام گاؤ شالوں کی ہی ذمہ داری دیدی جاتی تو ٹھیک تھا ، خوامخواہ انہیں وزیر اعلیٰ بناکر مودی نے 16 کروڑ عوام والی ریاست کو خطرہ میں ڈال دیا ہے کیونکہ یوگی کی عوامی خدمت کے جذبہ کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ مہا پرش یوگی کے گائے تحفظ کیلئے 40 کروڑ روپئے جاری کئے تو انسانی جان بچانے میں کام آنے والے آکسیجن کیلئے صرف 68 لاکھ روپئے جاری کئے ۔ یہ ہے ان کی حکمرانی ۔ جہاں انسانوں کی زندگی کے زیادہ گائے کا تحفظ ضروری ہے اور ایسا ہی ہوتاہے جب جانوروں میں دلچسپی رکھنے و الی شخصیت کو انسانوں پر حکومت کی ذ مہ داری سونپی جاتی ہے ۔ اترپردیش کے عوام کو اب ہوش سے کام لینا ہوگا کہ مذہبی جنون و جذبات بھڑکانے والی حکومت سے ریاست کو آج کیا ملا ہے جس کی تازہ مثال گورکھپور کا داغ ہے جو یوگی سرکار نے ملک کے ماتھے پر لگادیا ہے جو مودی کیلئے مستقبل میں مشکلائت پیدا کرسکتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے بی جے پی نے ملک کے لئے اچھے دن کی بات کرتے کرتے خود کے برے دن شروع کرلئے ۔ اس لئے تو احمد پٹیل کی کامیابی سے گجرات میں جھٹکہ لگا تو یوپی کے گورکھپور میں لاپرواہی کا بدنما داغ بی جے پی کے حصہ میں آیا ۔ عزائم جب ناپاک ہوں تو کوئی حکمت عملی کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ یوگی حکومت کوبھی ایسا ہی ہوا ہے اور معصوم سانسوں نے یوگی کی سیاسی محل کی بنیادوں کو ہلاکر رکھ دیا ہے ، جس کو یوگی کا زوال کہا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT