Sunday , December 17 2017
Home / سیاسیات / یو پی کے بلدی انتخابات ، چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ کی کڑی آزمائش

یو پی کے بلدی انتخابات ، چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ کی کڑی آزمائش

کانگریس، سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کا اپنے بل بوتے پر مقابلے کا فیصلہ، عام آدمی پارٹی پہلی بار مقابلہ میں

لکھنو۔23 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش کے آئندہ اسمبلی انتخابات چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کی ایک کڑی آزمائش ثابت ہوں گے کیوں کہ ان سے نشاندہی ہوگی کہ پجاری سے سیاستداں بننے والے اس بات کو یقینی بنانے میں کامیاب رہے ہیں کہ بی جے پی اپنی مقبولیت کی سطح برقرار رکھتی ہے۔ جاریہ سال کے اوائل میں ہندتوا کی لہر پر سوار بی جے پی نے ریاستی اسمبلی میں تین چوتھائی اکثریت حاصل کرتے ہوئے 45 سالہ بھگوا لباس میں ملبوس آدتیہ ناتھ کے چیف منسٹر بننے کی راہ ہموار کی تھی۔ بلدی انتخابات نومبر۔ڈسمبر میں منعقد کیے جائیں گے اور انہیں ہندتوا قائد کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ کیوں کہ ان کے نتیجہ سے انکشاف ہوگا کہ رائے دہندوں کا رجحان 2019ء کے لوک سبھا انتخابات سے قبل کس طرح ہے۔ سیاسی مبصرین نے کہا کہ مجالس مقامی کے انتخابات کا اعلامیہ امکان ہے کہ جاریہ ماہ کے اواخر میں جاری کردیا جائے گا۔ مجالس مقامی کی رائے دہی کی بنیاد مقامی مسائل پر ہوتی ہے۔ بلدی انتخابات میں لوگ اپنے پرچہ رائے دہی داخل کرتے ہیں۔ عوام کو بی جے پی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف ناراضگی ظاہر کرنے کا ایک موقع ملے گا۔ سماج وادی پارٹی کے رکن کونسل راج پال کشیب نے کہا کہ آدتیہ ناتھ چیف منسٹر ہیں اور شہری بلدی انتخابات پہلی بار راست ان کی قیادت میں لڑے جارہے ہیں۔ ان انتخابات میں بی جے پی کی فتح کو ادتیہ ناتھ حکومت کے لیے منظوری سمجھا جائے گا۔ نتائج پارٹی کو اصلاح کا ایک موقع بھی فراہم کریں گے۔ وہ اپنی پالیسیوں اور حکومتوں کی اصلاح کرسکے گی۔ سیاسی مبصرین اور ماہرِ تعلیم منجولا اپادھیائے نے کہا کہ شہری انتخابات قبل ازیں جون یا جولائی میں مقرر تھے لیکن انہیں ملتوی کردیا گیا کیوں کہ فہرست رائے دہندگان اور بعض دیگر کارروائیاں مقررہ وقت پر مکمل نہیں کی جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی بھی ان انتخابات میں مقابلہ کی تیاری کررہی ہے۔ ہم جہاں سے بھی یہ محسوس کریں کہ تنظیمی بنیاد مضبوط ہے، مقابلہ کریں گے عام آدمی پارٹی قائد سنجئے سنگھ نے کہا کہ اروند کجریوال زیر قیادت پارٹی قبل ازیں یو پی سے مقابلہ نہیں کی ہے۔ اس نے اپنے تمام وسائل اور توجہ پنجاب پر مرکوز کی تھی۔ سماج وادی پارٹی اور کانگریس جنہوں نے 2017ء کے ریاستی انتخابات کے وقت اتحاد کیا تھا، فیصلہ کرچکے ہیں کہ ان انتخابات میں علیحدہ علیحدہ طور پر مقابلہ کریں گے۔ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے اپنی پارٹی سے کہہ دیا ہے کہ انتخابات میں شہری مجالس مقامی کے لیے کوئی اتحاد نہیں کیا جائے گا اور پارٹی ان انتخابات میں سائیکل کے انتخابی نشان پر مقابلہ کرے گی۔ کانگریس کے سینئر پارٹی قائد غلام نبی آزاد نے حال ہی میں کہا کہ ان کی پارٹی اپنے بلبوتے پر مجالس مقامی انتخابات میں مقابلہ کرے گی۔ بہوجن سماج پارٹی نے بھی اتحاد کے بغیر مقابلہ کا فیصلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT