Saturday , December 15 2018

یو پی کے راجیہ سبھا انتخابات میں بھی بی جے پی کو پریشانی ؟

ناراض حلیف جماعت ایس بی ایس پی کا موقف کے اظہار سے گریز ‘ اتحادی روایت کو پورا نہ کرنے کا الزام

لکھنو 18 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) گورکھپور اور پھولپور میں حالیہ لوک سبھا ضمنی انتخابات میں غیر متوقع شکست کے بعد اترپردیش میں برسر اقتدار بی جے پی کیلئے راجیہ سبھا انتخابات میں بھی کچھ پریشانی لاحق ہوسکتی ہے کیونکہ اس کی ایک ناراض حلیف جماعت نے ابھی تک اپنے موقف کو واضح نہیں کیا ہے ۔ ریاست میں راجیہ سبھا کی 10 نشستوں کیلئے انتخابات 23 مئی کو ہونے والے ہیں۔ بی جے پی کے پاس آٹھ ارکان کے انتخاب کیلئے درکار تائید موجود ہے ۔ اس کے علاوہ نویں نشست پر کامیابی کیلئے اسے اپنی حلیف جماعت سوہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کی تائید بہت ضروری ہے ۔ اس پارٹی کے یو پی اسمبلی میں چار ارکان ہیں۔ یہ چار ارکان نویں امیدوار کی کامیابی میں اہمیت رکھتے ہیں۔ سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ وہ 10 کے منجملہ دو نشستوں سے کامیابی حاصل کرینگے ۔ سوہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی ( ایس بی ایس پی ) کے سربراہ اوم پرکاش راجبھار نے بتایا کہ وہ ابھی سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ راجیہ سبھا انتخابات میں بی جے پی کی تائید کرینگے یا کسی اور جماعت کی ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی اس مسئلہ پر پارٹی نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے یہ ادعا بھی کیا کہ بی جے پی نے امیدوار کے انتخاب سے قبل ان کی پارٹی سے کوئی مشاورت نہیں کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی اب بھی بی جے پی سے مفاہمت میںہے لیکن پارٹی نے راجیہ سبھا انتخابات اور اس سے قبل لوک سبھا کے ضمنی انتخابات ( گورکھپور اور پھولپور ) کیلئے ہم سے کوئی مشاورت نہیں کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ شہری مجالس مقامی انتخابات میں بھی بی جے پی نے اپنے امیدوار نامزد کئے تھے لیکن کیا انہوں نے اتحادی فریضہ کو پورا کیا ہے ؟ ۔ لوک سبھا ضمنی انتخاب میں بھی انہوں نے اپنے امیدواروں کا اعلان کردیا لیکن حلیفوں سے مشورہ تک نہیں کیا کہ ان کا رول کیا ہوسکتا ہے ۔ چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے بی جے پی نے اضافی امیدوار کھڑے کئے ہیں کیونکہ اس کے پاس 28 فاضل ووٹ ہیں۔ ایسے میں ایک اور امیدوار کی کامیابی کیلئے اسے مزید نو ووٹوں کی ضرورت ہے ۔ ایس بی ایس پی سربراہ کا کہنا تھا کہ جب تک بی جے پی قائدین میں کوئی ان سے رابطہ نہیں کرتا اس وقت تک بات چیت کیسے ہوسکتی ہے ۔ کیا وہ خود وہاں جائیں اور ان سے کہیں کہ وہ بی جے پی کے حق میں ووٹ دینگے ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ امیدواروں کا انتخاب کرنا بی جے پی کا کام ہے حلیفوں کا نہیں لیکن رسمی طور پر تعلقات کو دیکھتے ہوئے انہیں ہم سے پوچھنا چاہئے تھا کہ آیا ہم انتخابی مہم میں حصہ لیں گے یا نہیں ۔
کسی بھی لیڈر نے ہم سے پوچھا نہیں ہے ۔ اس پس منظر میں وہ ابھی سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ راجیہ سبھا انتخابات کیلئے وہ بی جے پی کے حق میں ووٹ استعمال کرینگے یا نہیں۔ انہوں نے اس سوال کا راست جواب نہیں دیا کہ ان کی پارٹی کراس ووٹنگ میں حصہ لے گی ۔ مسٹر راج بھار آدتیہ ناتھ کابینہ میں وزیر بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی خود ان سے کوئی رابطہ نہیں کرتی ہے تو کیا وہ خود سے جا کر کہیں کہ ان کا ووٹ حاصل کرلیا جائے ۔ بی جے پی کی ایک اور حلیف جماعت اپنا دل نے تاہم یہ واضح کردیا ہے کہ اس کے نو ارکان اسمبلی این ڈی اے کی بڑی حصہ دار بی جے پی کے حق میں ووٹ ڈالیں گے ۔ انہوں نے ایس بی ایس پی کی ناراضگی کے اظہار کو زیادہ اہمیت نہیں دی اور کہا کہ حلیف جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کرلیا جائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT