Friday , April 20 2018
Home / شہر کی خبریں / یو پی کے ضمنی انتخابی نتائج ‘ بی جے پی کیلئے ’ برے دن ‘ کی شروعات ؟

یو پی کے ضمنی انتخابی نتائج ‘ بی جے پی کیلئے ’ برے دن ‘ کی شروعات ؟

اپوزیشن کے ساتھ این ڈی اے کی حلیفوں کے بھی حوصلے بلند، تلگودیشم این ڈی اے سے بھی علیحدہ ہوجائیگی

حیدرآباد 15 مارچ ( سیاست نیوز ) اترپردیش کے دو لوک سبھا حلقوں گورکھپور اور پھولپور کے ضمنی انتخابات میں میں بی جے پی کی شکست ایسا لگتا ہے کہ نہ صرف اس کی اپوزیشن جماعتوں کے بلکہ اس کی حلیفوں کے حوصلے بلند کرنے لگی ہے ۔ ایسی ہی ایک تبدیلی میں تلگودیشم پارٹی نے آندھرا پردیش کو خصوصی موقف دینے کے مسئلہ پر این ڈی اے سے بھی علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ واضح رہے کہ کل ضمنی انتخابات کے نتائج میں بی جے پی کو یو پی کے دونوں ہی لوک سبھا حلقوں گورکھپور اور پھولپور میں شکست ہوئی تھی ۔ یہ دونوں حلقے بی جے پی کے ریاستی چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ اور ڈپٹی چیف منسٹر کیشو پرساد موریہ کے تھے جہاں سے ان دونوں نے بھاری اکثریت سے 2014 میں کامیابی حاصل کی تھی تاہم ان دونوں حلقوں سے سماجوادی پارٹی امیدواروں نے ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کی ۔ ان نتائج کی خاص بات یہ رہی کہ کبھی ایک دوسرے کی حلیف اور پھر کٹر حریف رہنے والی جماعتوں سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی ایک دوسرے کو تائید حاصل رہی ۔ ان حلقوں سے سماجوادی پارٹی نے مقابلہ کیا تھا اور ایک غیر متوقع لیکن دور رس اثرات کے حامل فیصلے میں بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے اچانک ہی سماجوادی پارٹی امیدواروں کی تائید کا اعلان کردیا تھا ۔ بی جے پی نے اس تائید کو اہمیت دینے سے انکار کردیا تھا اور اس کو یقین تھا کہ ان دونوں حلقوں سے اس کے امیدوار بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرینگے تاہم مایاوتی کے فیصلے نے جہاں بی جے پی کی امیدوں پر پانی پھیر دیا وہیں انتخابی نتائج نے نہ صرف اپوزیشن جماعتوں میں ایک نیا جوش پیدا کرنے کاکام کیا ہے بلکہ این ڈی اے کی حلیف جماعتوں میں بھی علم بغاوت بلند کرنے کا حوصلہ پیدا کردیا ہے ۔ ایسی ہی ایک تبدیلی میں تلگودیشم پارٹی نے اب این ڈی اے سے بھی علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ تلگودیشم پارٹی کل جمعہ کو این ڈی اے سے اپنی علیحدگی کے فیصلے کا باضابطہ اعلان کرے گی ۔ تلگودیشم پارٹی نے آندھرا پردیش کو خصوصی موقف دینے سے انکار کے مسئلہ کو این ڈی اے سے علیحدگی کی وجہ قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تلگودیشم نے تاہم اس مسئلہ پر مرکزی حکومت سے علیحدگی اختیار کی تھی لیکن این ڈی اے میں برقراری کا فیصلہ کیا تھا ۔ تاہم کل ہی گورکھپور ‘ پھولپور اور بہار کے اراریہ لوک سبھا حلقہ کے نتائج کے اعلان کے بعد اب تلگودیشم نے این ڈی اے سے بھی علیحدگی اختیار کرلینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ عذر کے طور پر آندھرا پردیش کے خصوصی موقف کا مسئلہ پیش کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کی اسے تائید ملتی رہے ۔ تلگودیشم کے موقف میں ایک اہم تبدیلی یہ بھی آئی ہے کہ خود پارٹی سربراہ چندرا بابو نائیڈو نے اب وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقیدیں کرنے کا بھی آغاز کردیا ہے ۔ چندرا بابو نائیڈو نے اپنے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ٹیلی کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ نریند رمودی حکومت نے ریاست سے سنگین ناانصافی کی ہے ۔ پارٹی اور پارٹی صدر کے رویہ میں یہ تبدیلی یقینی طور پر پھولپور اور گورکھپور انتخابی نتائج کے بعد دیکھنے میں آئی ہے ۔ اس صورتحال میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد بی جے پی کیلئے عملا ’ برے دن ‘ کا آغاز ہوگیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT