Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / یو پی کے کیلنڈرکا ڈھائی ماہ قبل اجراء‘ لکھنوحذف

یو پی کے کیلنڈرکا ڈھائی ماہ قبل اجراء‘ لکھنوحذف

سیاحتی کتابچہ سے تاج محل کو حذف کرنے کی تلافی کی کوشش‘ بی جے پی قائدین کے برعکس بیانات
لکھنو۔ 22اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام) حکومت اترپردیش نے جب اپنے سیاحتی کتابچہ سے شہر و آفاق محبت کی یادگار ’’ تاج محل ‘‘ کو حذف کردیا اور اس طرح یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی مسلم دشمنی کا واضح ثبوت دیا تو اس پر ایک تنازعہ اُٹھ کھڑا ہوا کیونکہ تاریخ ہند کے اوراق شاہد ہیں کہ تاج محل شاہ جہاں نے اپنی مرحوم بیوی ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کروایا تھا اور اس کے بیٹے اورنگ زیب نے اپنے والد شاہ جہاں کی قبر بھی اپنی مرحوم والدہ ممتاز محل کے پہلو ہی بنوائی ۔ اگلے ہی دن ان کی ریاست کے بدنام زمانہ رکن اسمبلی سنگیت سوم نے اپنے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ سے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے اسے اپنے باپ کو قید کرنے والے ’’ غدار‘‘ مغل شہنشاہ کی تعمیر کردہ عمارت قرار دیا ۔ جب اس پر بڑے پیمانہ پر شور برپا ہوگیا اور احتجاج کیا جائے گا تو یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ تاج محل بھلے ہی مغل شہنشاہ شاہ جہاں کا تعمیر کردہ ہو لیکن اس کی تعمیر تو ’’ ہندوستان کی سپوتوں ‘‘ کی تھی جن کا خون پسینہ اس کی تعمیر میں شامل ہے ۔ چنانچہ حکومت یو پی اس کے تحفظ اور دیکھ بھال کی پابند ہے ۔ دریں اثناء انہوں نے حکومت یو پی کے کیلنڈر میں تاج محل کو نمایاں جگہ دی لیکن ان کی مسلم دشمنی اس کیلنڈر سے اور بھی زیادہ ابھر کر سامنے آگئی کیونکہ انہوں نے کیلنڈر میں جہاں تاج محل کو جگہ دی وہیں لکھنو کو حذف کردیا ۔ یہ کیلنڈر بھی نئے سال کے آغاز سے ڈھائی ماہ قبل جاری کردیا گیا ۔ نوابان کے اودھ کے خانوادہ کے باحیات نواب جعفر میر عبداللہ نے کہا کہ لکھنو ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی ایک علامت ہے ۔ یہاں کئی انگنت امام باڑے ہیں اور کئی تاریخی مقامات واقع ہیں ۔ لکھنوی تہذیب آج کل ضرب المثل بن گئی ہے ۔ ایک ریٹائرڈ ڈاکٹر ایس اے کے کھچور نے کہا کہ سرکاری عہدیداروں نے شائد اپنے سیاسی آقاؤں کی خوشامد کیلئے لکھنو کو حکومت یو پی کے 12صفحات پر مشتمل کیلنڈر سے حذف کردیا ہے ۔ بھگوا پارٹی کی مسلم دشمنی اس سے بھی آشکار ہوگئی جب ایک اور انتہا پسند ہندو قائد نے تاج محل کا سابق نام ’’ تیجو محل ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ تاج محل جس اراضی پر تعمیر کیا گیا ہے وہ کیا شیو مندر تھا۔ ہریانہ کے ایک بی جے پی وزیر نے تاج محل کو ایک خوبصورت قبرستان قرار دیا ہے۔
دریں اثناء مرکز کی بی جے پی زیر قیادت حکومت کے ایک اور وزیر اننت کمار ہیگڈے نے شیر میسور ٹیپو سلطان کو جس نے زندگی انگریزوں سے جنگ کی مذہبی جنونی ‘ قاتل اور اجتماعی عصمت ریزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے کرناٹک کی ریاستی حکومت سے جو کانگریس زیر قیادت ہے اور ٹیپو سلطان شہید کی سالگرہ منارہی ہے اس تقریب میں انہیں مدعو نہ کرنے اور دعوت نامہ پر ان کا نام شائع نہ کرنے کی خواہش کی ہے ۔چیف منسٹر یو پی یوگی آدتیہ ناتھ نے تاج محل کو سیاحتی کتابچہ سے حذف کرنے کی تلافی کے طور پر تاج محل کے دورہ اور شاہ جہاں کے مزار پر آدھا گھنٹہ طویل حاضری دینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن عوام واقف ہوچکے ہیں کہ بی جے پی تاریخ کو مسخ کر کے اسے بھگو رنگ دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT