Tuesday , December 11 2018

یٰسین ملک اور سوامی اگنی ویش کوریالی سے روک دیا گیا

سرینگر 18 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) جے کے ایل ایف صدرنشین یٰسین ملک اور سماجی کارکن سوامی اگنی ویش کو اُس وقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں نربل کی سمت احتجاجی مارچ کی قیادت کی کوشش کررہے تھے۔ یہاں سکیوریٹی فورسیس کی فائرنگ میں دو نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس نے اِن دونوں کو میسوما میں

سرینگر 18 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) جے کے ایل ایف صدرنشین یٰسین ملک اور سماجی کارکن سوامی اگنی ویش کو اُس وقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں نربل کی سمت احتجاجی مارچ کی قیادت کی کوشش کررہے تھے۔ یہاں سکیوریٹی فورسیس کی فائرنگ میں دو نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس نے اِن دونوں کو میسوما میں احتیاطی اقدام کے طور پر تحویل میں لے لیا اور اُنھیں نربل کی سمت مارچ سے روک دیا۔ گزشتہ ہفتہ جنوبی کشمیر کے ترال علاقہ میں فوجی کارروائی کے دوران دو نوجوان ہلاک ہوگئے تھے۔ اِس واقعہ کے خلاف آج احتجاج کرنے والے عوام پر سکیوریٹی فورسیس نے فائرنگ کردی جس میں سہیل احمد صوفی ہلاک اور دیگر دو زخمی ہوگئے۔ سوامی اگنی ویش نے آج صبح یٰسین ملک کے ساتھ ملکر کشمیری نقل مقام کرنے والے پنڈتوں کے لئے علیحدہ بستیوں کی تجویز کے خلاف نصف گھنٹے کی بھوک ہڑتال میں حصہ لیا۔

اِس موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے یٰسین ملک نے کہاکہ کشمیری عوام نقل مقام کرنے والے پنڈتوں کے لئے علیحدہ کالونیوں کے قیام کے نام پر عوام کو تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم کسی قیمت اِن کالونیوں کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہمیں ملکر جینا اور ملکر مرنا ہوگا۔ یٰسین ملک نے کہاکہ پنڈت برادری کو واپسی کے لئے حکومت کی بجائے کشمیری عوام سے بات کرنی چاہئے۔ اگر پنڈت بھائیوں کو کوئی مشکل درپیش ہے تو وہ ہم سے راست بات کریں۔ یہاں کشمیر کے عوام یا سیول سوسائٹی موجود ہے۔ اُنھیں چاہئے کہ حکومت پر تکیہ کرنے کے بجائے ہم سے بات کریں۔ ہم پرامن، محبت اور بھائی چارگی کا ماحول دوبارہ قائم کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ عسکریت پسندی کے دور سے قبل یہاں کا ماحول تھا۔ اُنھوں نے فائرنگ میں نوجوان کی ہلاکت کی مذمت کی۔
اُنھوں نے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا اور کہاکہ کشمیر میں تشدد پر مبنی تحریک سے ہٹ کر عدم تشدد پر مبنی جمہوری تحریک اختیار کرنے کے باوجود اگر یہی طرز عمل برقرار رہا تو پھر نوجوان کیا دہشت گردی کا راستہ اختیار نہیں کریں گے؟ سوامی اگنی ویش نے کہاکہ کشمیر کو سیکولر کردار اور کشمیریت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ نقل مقام کرنے والے پنڈتوں کی واپسی کا معاملہ حکومت کو عوام پر چھوڑ دینا چاہئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت کچھ نہ کرے۔ ہم اپنے طور پر سب کچھ کرلیں گے۔ تمام مذہبی قائدین کو مل کر پنڈت برادری سے اُن کی واپسی کے بارے میں بات کرنا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ عوام کو مذہب کے نام پر جس طرح تقسیم کیا جارہا ہے وہ سلسلہ ختم کیا جائے اور عوام کے دلوں کو جوڑتے ہوئے محبت کو عام کیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT