Saturday , May 26 2018
Home / ہندوستان / یکساں سیول کوڈ پر بی جے پی نے لاء کمیشن کے سوالبند کا جواب نہیں دیا

یکساں سیول کوڈ پر بی جے پی نے لاء کمیشن کے سوالبند کا جواب نہیں دیا

نئی دہلی ۔ /4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) یکساں سیول کوڈ کے نازک احساس موضوع پر لاء کمیشن کی طرف سے اکٹوبر 2016 ء میں جاری کردہ سوالبند پر بی جے پی تاحال کوئی جواب نہیں دی ہے لیکن اکثر اپوزیشن جماعتیں اپنے جواب داخل کردی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اس مسئلہ کو لاکمیشن سے رجوع کرنے کا الزام دراصل حکمراں جماعت کے سیاسی ایجنڈہ کا حصہ ہے ۔ لاء کمیشن کے ذرائع نے کہا کہ یکساں سیول کوڈ پر بی جے پی ہنوز کوئی جواب نہیں دی ہے ۔ حالانکہ مہلت ختم ہوچکی ہے ۔ کمیشن ہنوز جوابات حاصل کرنے تیار ہے جس کے پیش نظر ہنوز ایک رپورٹ کو قطعیت دینے کا عمل شروع نہیں کی ہے ۔ سوالبند کا جواب دیتے ہوئے کانگریس ، بی ایس پی اور ٹی ایم سی جیسی جماعتوں نے باور کیا جاتا ہے کہ یہ کہنے سے گریز کیا ہے کہ آیا وہ یکساں سیول کوڈ کی تائید کرتے ہیں یا نہیں ۔ تاہم ان جماعتوں ، اس مسئلہ کو لاء کمیشن سے رجوع کرنے حکومت کے فیصلہ کو حکمراں جماعت کے سیاسی مفادات کی تکمیل سے متعلق ایجنڈہ کا ایک حصہ قرار دیا ۔ بی ایس پی نے جو یکساں سیول کوڈ پر جواب داخل کرنے والی پہلی جماعت تھی وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کے ساتھ الزام عائد کیا کہ عوام پر آر ایس ایس کا ایجنڈہ مسلط کیا جارہا ہے ۔ سوالبند کا جواب دینے لاء کمیشن کی خواہش پر بی ایس پی نے جواب دیا کہ یہ پارٹی اس مسئلہ پر مایاوتی کی طرف سے /25 اکٹوبر 2016 ء کو لکھنؤ میں جاری کردہ بیان منسلک کررہی ہے ۔ بی ایس پی نے کمیشن کی طرف سے پوچھے گئے 16 سوالات کا جواب دینے کے بجائے صحافتی بیان میں اس سوالبند کا جواب ہے ۔ این سی پی نے طلاق ثلاثہ کی مخالفت کی لیکن مجموعی طور پر علحدہ پرسنل لاء کی تائید کی ہے ۔ کمیشن کے ذرائع اس سوالبند پر تاحال 45,000 جوابات موصول ہوئے ہیں اور /21 ڈسمبر 2016 ء کو مہلت ختم ہونے کے باوجود اس کا سلسلہ جاری ہے ۔ لاء کمیشن کے چیرمین جسٹس بی ایس چوہان نے حال ہی میں کہا تھا کہ جامع یکساں سیول کوڈ کی تیاری میں مشکل درپیش رہنے کی صورت میں یہ کمیشن مذہب واری اساس پر مختلف عائیلی قوانین میں ترمیم کرسکتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’’یکساں سیول کوڈ اس کمیشن کے زیر غور اہم پراجکٹوں میں شامل ہے ۔ کمیشن کو موصولہ جوابات کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔
مہلت کے اختتام کے بعد موصول ہونے والے جوابات پر بھی غورکیا جائے گا ‘‘ ۔
تاہم جسٹس چوہان نے یہ واضح کردیا کہ یکساں سیول کوڈ کے ذریعہ دستور کی کسی بھی دفعہ کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی ۔

TOPPOPULARRECENT