Saturday , November 18 2017
Home / مضامین / یکساں سیول کوڈ کا فتنہ اور مسلم پرسنل لا بورڈ

یکساں سیول کوڈ کا فتنہ اور مسلم پرسنل لا بورڈ

محمد نصیرالدین
’’اسلام ‘‘ چند رسوم و رواج کا مجموعہ نہیں ہے اور نہ ہی انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کا کوئی مجموعہ ہے ۔ دنیا کے سارے مسلمانوں کا ایمان اور عقیدہ ہے کہ ’’اسلام‘‘ خالق کائنات کی مرضی و منشاء اور ہدایت پر مبنی ایک مکمل نظام حیات ہے ۔ مسلمانوں کیلئے اس نظام حیات کی پیروی اور پابندی انتہائی ضروری اور لازمی ہے۔ جب کوئی بندہ توحید رسالت اور آخرت کی گواہی دے کر دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے تو وہ اپنی مرضی پسند اور خواہش سے خود بخود دستبردار ہوجاتا ہے اور اس بات کا عہد کرتا ہے کہ اس کی ساری زندگی خالق کائنات کی مرضی کے مطابق گزارے گا اور وہ خالق کائنات کی مرضی کے خلاف کسی بھی قانون اور ہدایت کو نہ تسلیم کرے گا اور نہ ہی کسی حکم پر عمل کرے گا ! برصغیر ہند و پاک میں جب مسلمان داخل ہو ئے تو شریعت اسلامی بھی ساتھ لائے۔ مسلمان انفرادی طور پر بھی اور معاشرتی زندگی میں احکام شریعت کی پابندی کرنے لگے۔ اسی طرح طویل مسلم حکمرانی کے دورمیں ہر چند کہ مثالی اسلامی حکومت معرض وجود میں نہیں آئی لیکن رعایا کے ساتھ اسلامی اصولوں کی بنیدا پر انصاف و مساوات کا سلوک ہوتا رہا۔ حکمراںاور اہل ایمان خود تو شریعت کے احکام کی پابندی کرتے لیکن غیر مسلم رعایا کو اس بات کی آزادی رہی کہ وہ اپنی انفرادی اور عائیلی زندگی میں اپنے اپنے عقائد روایات اور رسوم و رواج کے مطابق زندگی گزاریں۔ بعد ازاں انگریزوں کے دور حکومت میں بھی رعایا کو یہ آزادی میسر تھی کہ وہ اپنی شخصی اور معاشرتی زندگی میں اپنے اپنے مذہب اور عقیدہ کے مطابق زندگی بسر کریں۔
آزادی ہند کے بعد معماران دستور نے اسی روایت کے مطابق مذہبی آزادی کو بنیادی حقوق میں شامل کیا کہ ہر ہندوستانی شہری اپنی پسند کے مطابق مذہب اختیار کرے اور اپنی نجی اور معاشرتی زندگی میں اپنی پسند اور مرضی کے مطابق رویہ اختیار کرے۔ نہ کسی دوسرے گروہ کو اور نہ ہی حکومت کو اس آزادی میں مداخلت کا اختیار رہے گا لیکن تدوین دستور کے موقع پر معماران دستور بدقسمتی سے چند متعصب ، مفاد پرست اور ناعاقبت اندیش افراد کے جھانسے اور بدنیتی کا شکار ہوگئے اور دفعہ 44 کے رہنمایانہ اصول میں ’’یونیفارم سیول کوڈ ‘‘ کے نفاذ کو بھی شامل کردیا۔ ایک ایسا قانون جس سے فرد کی آزادی اور اختیار کو سلب کردیا جاسکتا ہے ، ایک ایسا قانون جس کی بنیاد الٰہی قوانین اور ہدایت کے انکار پر ہو، ایک ایسا قانون جو فرد کے ایمان اور عقیدہ کو بے معنی بنادیتا ہو، ایک ایسا قانون جس کی بنیاد انکار آخرت پر ہو ، ایک ایسا قانون جو انسان کو نعوذ باللہ ہادی امی  کی اطاعت سے آزاد کرادے، ایک ایسا قانون جو ناپاک بوند سے بنے انسان کی ذہنی اختراع اور اپج ہو، ایک ایسا قانون جو معاشرہ میں آوارگی جنسی انار کی اور بے راہ روی کی بنیاد اور ذریعہ ہو اور ایک ایسا قانون جو صالح سماج اور معاشرہ کی بیخ کنی کردیتا ہو !
’’یونیفارم سیول کوڈ‘‘ کے نام نہاد علمبردار اور نام لیوا دستور کے رہنمایانہ اصول کی دہائی دیتے ہیں۔ اگر ان رہنمایانہ اصول کا انہیں اتنا ہی پاس ہے تو ’’نشہ بندی‘‘ کے تئیں ان کی مجرمانہ بے حسی اور خاموشی کس چیز کی غماز ہے ! عورت کی مظلومیت کا رونا رونے والے عورت کے ساتھ انصاف کی دہائی دینے والے عورت کو کام کرنے والی مشین و مردوں کی جنسی تسکین کا ذریعہ بناکراور عورت کی عزت و نا موس کو ختم کر کے اسکو کپڑوں سے محروم کر کے مختلف پروڈکٹس کی تشہیر کا ذریعہ بناکر آخر وہ کس انصاف کی بات کرتے ہیں ؟ بیوگی اور طلاق کا شکار لاکھوں خواتین کی سسکیاں انہیں سنائی نہیں دیتیں۔ شوہروں کی بے اعتنائی مردوں کی جنسی آوارگی ، ہوس پرستی اور ناجائز جنسی تعلقات کا شکار خواتین کی آہیں انہیں نظر نہیں آئیں‘‘۔ ہوٹلوں، بازاروں ، بس اور ریلوے اسٹیشنوں اور مختلف تفریحی مراکز پر دو وقت کی روٹی کیلئے اپنی عصمت و عفت اور عزت و ناموس کا سودا کرنے والی خواتین کی بازآبادکاری کا انہیں کبھی خیال نہیں آتا۔ دفاتر ، فیکٹریز MNC’s اور دیگر کام کے مراکز پر جنسی ہراسانی اور استحصال کے خلاف ان کی زبانیں نہیں کھلتیں۔ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کی جنسی ہوس اور نفس پرستی کا شکار خواتین کیلئے ان کے پاس دو ہمدردی کے بول نہیں ملتے۔ ایسے بے ضمیر اور مفاد پرست عناصر مسلم خواتین کو انصاف اور برابری دلانے کے نام پر یکساں سیول کوڈ کی تائید میں کھڑے ہیں۔
اسلام جس نے عورت کی عصمت عفت اور عظمت کو چار چاند لگادیئے۔ حصول تعلیم کو فرض قرار دیا ۔ معاشی جدوجہد سے بے فکر کردیا ۔ نسل نو کی تربیت کا عظیم الشان فریضہ سپرد کیا، والدین اور والدین کی عدم موجودگی میں بھائیوں پر کفالت کی ذمہ داری سونپی ۔ شادی کے موقع پر رضامندی کو لازمی قرار دیا ۔ بے راہ روی ، حرام کاری میں مصروف ، ظالم و جابر بدکردار اور بے اعتنائی برتنے والے شوہر سے تنگ آکر خودکشی کرنے کے بجائے علحدہ ہونے کی نعمت غیر مرقبہ ’’خلع‘‘ سے نوازا۔ والدین کی جائیداد میں حصہ دار بنایا۔ شوہر پر لازم قرار دیا کہ وہ اپنی بیوی کی تمام ضروریات کی بہ احسن تکمیل کرے ورنہ گناہ گار ہوگا ۔ شوہر کسی معقول وجہ سے دوسری شادی کا ارادہ کرے تو اس کیلئے شرط قرار دی کہ وہ دونوں کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرے۔ طلاق ثلاثہ کی اس حکمت کے ساتھ اجازت دی کہ وقتی جذبات ، ناراضگی ، تناؤ اور غصہ کی حالت میں ایک یا دو مرتبہ طلاق بھی دیدے تو پھر دونوں کے باہم ملنے کی گنجائش باقی رہے گی تاکہ ایک خاندان اجڑنے نہ پائے۔
’’یکساں سیول کوڈ‘‘ کے علمبردار مسلم پرسنل لا میں تبدیلی کی باتیں کرتے ہوئے دیگر مسلم ممالک کا حوالہ دے رہے ہیں لیکن وہ نادان یہ بات کیوں نہیں سمجھتے کہ مسلمان صرف اور صرف احکام الٰہی  کا ہے پابند۔ نہ کسی مسلم ملک کا وہ پابند ہے اور نہ ہی کسی عالم ، دانشور اور سیاستداں کے مشورہ کو وہ شریعت کے مقابلہ میں قبول کرسکتا ہے ۔ نکاح ، مہر ، طلاق ، خلع، عدت، رضاعت ، وراثت اور وصیت وغیرہ کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے واضح اور قطعی احکام نازل فرمادیئے ہیں اور کوئی بھی ایمان کا دعویداران سے انحراف کی جراء ت نہیں کرسکتا، خود خالق کائنات نے اس سلسلہ میں زبردست انتباہ دیا ہے ۔ ’’یہ احکام اللہ کی قائم کی ہوئی حدیں ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی قائم کی ہوئی حدوں سے تجاوز کرتا ہے تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں‘‘ ( البقرہ)
وہ لوگ جو خدا پر نہ یقین رکھتے ہیں نہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہادی برحق مانتے ہیں اور نہ ہی قرآن مجید کو کتاب ہدایت تسلیم کرتے ہیں۔ بھلا وہ احکام شریعت کی عظمت اور بلندی کو کیا سمجھ پائیں گے ۔ وہ اور ان کے متعبین کو  اس بات سے کس نے روکا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو جیسے چاہیں ، جس طرح چاہیں بسر کریں۔ چاہے تو قدیم سنسکرتی کی پیروی کریں چاہے تو مغرب کی بے راہ اور بے لگام تہذیب کو اپنائیں یا پھر چوپایوں کی طرح بے لگام ہوجائیں۔ اہل ایمان کو یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہئے کہ علمبرداران ’’یکساں سیول کوڈ ‘‘ کے نزدیک ’’سیول کوڈ‘‘ کا نفاذ اصل مقصد نہیں ہے بلکہ یونیفارم سیول کوڈ کی آڑ میں وہ مسلمانوں کو دین سے بے دخل کرنا اور ارتداد کو ہوا دینا چاہتے ہیں، اسلامی شریعت کو اہل ایمان کی زندگیوں سے نکال باہر کرنا چاہتے ہیں، اسلام سے انحراف کو شہ دینا ان کا اصل مقصد ہے اور ملی شناخت اور دین سے وابستگی کا خاتمہ ان کا اصل مقصود ہے۔ ’’یکساں سیول کوڈ ‘‘ کے نفاذ کا مطالبہ محض کوئی مطالبہ نہیں ہے بلکہ ملت اسلامیہ کے خاتمہ کی ایک گہری سازش کا حصہ ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اندرون ملت چند امور کو انجام دیا جائے ۔ اولاً یہ کہ اہل ایمان کے اندر مسلم پرسنل لا کی اہمیت افادیت اور  ضرورت و حکمت کے متعلق بیداری و شعور پیدا کیا جائے ۔ دوسری طرف تعلیم یافتہ طبقہ کو ذہنی فکری اور علمی انتشار سے بچانے کیلئے ’’مسلم پرسنل لا‘‘ کے متعلق ایک مبسوط اور جامع کتابچہ تیار کر کے ان کی علمی پختگی کو الجھنوں سے آزاد کیا جائے ۔ تیسری طرف شادی یا نکاح سے قبل لڑکی اور لڑکے کی مناسب کونسلنگ کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ مابعد نکاح مختلف امور و مسائل سے قبل از وقت واقف ہو اور کوئی ایسی حرکت نہ کرے جس سے دشمنوں کو شریعت کے خلاف گفتگو کا موقع ہاتھ لگے۔ چوتھی طرف نظام قضاء کو مستحکم اور مضبوط کیا جائے تاکہ معاشری امور و معاملات میں کسی کو دیگر عدالتوں میں جا کر فریاد کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
’’یکساں سیول کوڈ‘’ سے متعلق دفعہ 44 آزادی سے لیکر آج تک مسلمانوں کے دین و ایمان کیلئے ایک لٹکتی ہوئی تلوار ہے ۔ اس خطرناک دفعہ کی تنسیخ یا کم از کم مسلمانوں کو اس سے مستثنیٰ قرار دینے کے مطالبہ کو لیکر مسلم پرسنل لا بورڈ کو نہایت حکیمانہ اور منظم انداز میں زبردست جدوجہد کرنی چاہئے ۔ اس سلسلہ میں انتہائی احترام کے ساتھ چند گزارشات پیش خدمت ہیں ۔ امید کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے زعماً ان پر غور و فکر کریں گے ۔
– 1  سب سے پہلے اس حقیقت کو آشکارا کرنے کی ضرورت ہے کہ یونیفارم سیول کوڈ کے نفاذ سے محض مسلم طبقہ کے مذہبی حقوق ہی متاثر نہیں ہوں گے بلکہ عیسائی ، سکھ ، بدھ ، جین اور دیگر مذہبی اکائیوں کے مذہبی حقوق پر ضرب پڑے گی۔
– 2  بورڈ یونیفارم سیول کوڈ مخالف مہم میں دیگر تمام چھوٹی بڑی مذہبی اکائیوں کو بھی شامل کرنے کی کوشش کرے اور یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کرے کہ یکساں سیول کوڈ سے صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ تمام دیگر مذہبی طبقات بھی مطمئن نہیں ہیں ۔
– 3  مسلم پرسنل لا بورڈ میں ملت کے تمام طبقات گروہوں اور اہل فکر و نظر اصحاب کی شمولیت پر توجہ دی جائے تاکہ چند ایک مخصوص افراد پر مشتمل ادارہ بننے کے بجائے واقعی ملت کا ایک نمائندہ ادارہ بن سکے۔
– 4  مسلم پرسنل لا بورڈ کی ر یاستی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں تاکہ ریاستی کمیٹیاں مرکزی بورڈ کے فیصلوں اور ہدایات کی روشنی میں تحفظ شریعت کو پر زور انداز میں چلا سکے۔ ریاستی کمیٹیوں میں مزید اس بات کی کوشش کی جائے کہ تمام سیاسی ، سماجی اور مذہبی گروہوں اور طبقات کو نمائندگی ملے اور مختلف شعبہ ہائے حیات کی حرکیاتی شخصیات صحافی حضرات اور با اثر افراد کو شامل کیا جائے تاکہ ریاستی کمیٹیاں زیادہ حرکیاتی بن سکیں اور ملی اتحاد اور یگانگت کی بے مثال تصویر کے ساتھ بورڈ متحدہ جدوجہد کی تاریخ ساز جدوجہد کرسکے ۔
– 5 ’’ مسلم پرسنل لا ‘‘ کی اہمیت افادیت مصلحت اور حکمت کو واضح کرتے ہوئے ملک کی تمام زبانوں میں کتابچے شائع کئے جائیں اور ملک کے ایک ایک باشندہ تک پہنچایا جائے تاکہ اہل دطن جان سکیں کہ یونیفارم سیول کوڈ سے اختلاف کی اصل وجہ کیا ہے ۔
– 6 تمام ارکان پارلیمنٹ ، قانون سازی کے منصب پر فائز افراد ، ممتاز قانون داں اور تمام سیاسی سماجی اور مذہبی گروہوں سے بڑے پیمانے پر ملاقاتیں کی جائیں اور مسلمانوں کے نقطہ نظر کو ان کے سامنے واضح انداز میں رکھا جائے اور مسلمانوں کے نقطہ نظر کو پیش کیا جائے۔
– 7  اس مہم کو طویل مدتی مہم میں تبدیل کیا جائے اور ملک کے تمام انصاف پسند شہریوں سے روابط پیدا کرتے ہوئے موجودہ حکومت کے خلاف رائے عامہ ہموار کی جائے تاکہ آنے والے الیکشن میں موجودہ فاشسٹ حکومت کا خاتمہ ہوسکے۔
ان سب کوششوں سے اہم اور توجہ طلب یہ امر ہے کہ مسلمان عہد کریں کہ وہ ہر حال میں شریعت کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں گے ۔ شریعت کی پابندی کریں گے اور دین کے احکامات پر بلا چوں و چراں عمل پیرا ہوں گے ۔ اگر مسلمان اس بات کا عہد کر لیں تو کوئی کوڈ بھی اثر انداز نہیں ہوسکتا اور اسی راہ سے مخالفین کی کوششوں کو بے اثر بنایا جاسکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مدد اور نصرت سے نوازے ۔ آمین ۔
زمین دشمن فلک دشمن گل و خار چمن دشمن
مسلمانوں کی حیرت ہے تن آسانی نہیں جاتی

TOPPOPULARRECENT