Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / یکساں سیول کوڈ کی مخالفت میں اٹھنے والی آواز خوش آئند

یکساں سیول کوڈ کی مخالفت میں اٹھنے والی آواز خوش آئند

جوش و جذبات کے بجائے دستخطی مہم میں شدت کا مشورہ، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے دینی و ملی جماعتوں کے اجلاس سے علماء کا خطاب

حیدرآباد۔20اکٹوبر (سیاست نیوز) مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی کوششوں کے خلاف جاری دستخطی مہم کے ذریعہ حاصل ہونے والی تمام دستخطوں کے ساتھ صدر جمہوریہ ہند سے نمائندگی کی جائے گی۔ملک میں شرعی قوانین میں مداخلت کے نام پر جاری شدید جذبات و احساسات اور بعض گوشوں سے سیاسی بالا دستی کی برقراری کے لئے کئے جانے والے اقدامات کو دیکھتے ہوئے مسلم پرسنل لاء بورڈنے آج مختلف تنظیموں کے ذمہ داروں کا ایک اہم اجلاس منعقد کرتے ہوئے مسلم تنظیموں کے ذمہ داران اور فکر مند شہریوں سے اپیل کی کہ وہ تحفظ شریعت یا دفاع شریعت کیلئے جلسے ‘ دھرنے یا عام خطابات نہ کریں بلکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے شروع کردہ دستخطی مہم کی حد تک خود کو محدود رکھیں۔ مسلم پرسنل لا بورڈکی جانب سے منعقدہ دینی و ملی جماعتوںکے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا۔اس اجلاس میں مولانا ارشد مدنی صدر جمعیت علماء ہند مولانا جلال الدین عمری امیر جماعت اسلامی ہند، مولانا قاری محمد عثمان صاحب صدر جمعیت علماء ہند، مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی صاحب ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث، ڈاکٹر محمد منظور عالم جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل، جناب نوید حامد صاحب صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، جناب کمال فاروقی صاحب رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جناب ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس صاحب رکن مجلس عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، مولانا اسرارالحق قاسمی صاحب رکن مجلس عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، مولانا فضل الرحمن صاحب (جمعیت علماء ہند)، مولانا عبدالوہاب خلجی صاحب نائب صدر آل انڈیا ملی کونسل، جناب نصرت علی صاحب نائب امیر جماعت اسلامی ہند، مولانا انعام الحق مدنی صاحب جمعیۃ اہل حدیث، مولانا عبیداللہ خاں اعظمی سابق ایم پی اور مولانا محمد ولی رحمانی صاحب جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے شرکت کی۔اجلاس میںاس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے جو تحریر روانہ کی گئی ہے وہ بڑی تعداد میں دستخط کرواکر بورڈ کے آفس کو روانہ کردیں تمام مسلمان دستخطی مہم میں بھرپور حصہ لیں، دستخط شدہ تمام کاغذوں کو صدر جمہوریہ ہند کو مناسب وقت پر حوالے کیا جائے گا۔اس اجلاس نے ملک میں موجود دیگر طبقات بالخصوص قبائیلی ‘ دلت ‘ عیسائی ‘ سکھ ‘ بدھ مت کے ماننے والے اور جین برادری کی جانب سے یکساں سیول کوڈ کی مخالفت کی اطلاعات پر خوشنودی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ طور پر یکساں سیول کوڈ کی مخالفت میں اٹھنے والی آواز خوش آئند ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپیل کی کہ اس سلسلہ میں جوش و جذبات کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ پوری طاقت بورڈ کی جانب سے فراہم کردہ فارم پر دستخط کروانے پر لگائیں تاکہ بڑی تعداد میں یہ فارم پر کرائے جاسکیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT