Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / یکساں سیول کوڈ کے نفاذ پر مسلمانوں کے منہ توڑ جواب کا انتباہ

یکساں سیول کوڈ کے نفاذ پر مسلمانوں کے منہ توڑ جواب کا انتباہ

کل ہند تنظیم علمائے اسلام کا بیان اور احتجاجی مظاہرہ ، فرقہ پرست اقدام سے دستبرداری کا مطالبہ

نئی دہلی ۔ /28 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) طلاق ثلاثہ اور یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کے خلاف مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سنی مسلمانوں کی ایک تنظیم نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ یو پی انتخابات کے پیش نظر ایسا کررہی ہے اور انتباہ دیا کہ مسلم طبقہ اگر یکساں سیول کوڈ مسلط کیا جائے تو منہ توڑ جواب دے گا ۔ لاکمیشن مسلمانوں کے پرسنل لاء مداخلت کررہا ہے تاکہ آر ایس ایس کی ایماء پر یو پی انتخابات کے پیش نظر رائے دہندوں کی صف آرائی ہوسکے ۔ مزید کوئی اقدام کا 2017 ء کے انتخابات میں منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔ صدر تنظیم مفتی محمد اشفاق حسین قادری کے بیان میں کہا گیا ہے کہ لاء کمیشن اپنے اقدام سے فوری دستبرداری اختیار کرلے ۔ بعد ازاں تنظیم نے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی منعقد کیا ۔ مظاہرین نے دیگر اقلیتی طبقات جیسے جین ، سکھ ، پارسی اور عیسائی طبقات پر بھی زور دیا کہ وہ احتجاج میں شامل ہوجائیں ۔

کیونکہ ان کے حقوق بھی کچل دیئے جائیں گے ۔ یکساں سیول کوڈ سے پرسنل لاز متاثر ہوں گے ۔ صرف مسلمانوں کے نہیں بلکہ ان طبقات کے بھی اس لئے انہیں چاہئیے کہ ہمارے ساتھ شامل ہوجائیں ۔ جنرل سکریٹری مولانا شہاب الدین رضوی نے کہا کہ غالباً پہلی بار ایسا اقدام کیا گیا ہے ۔ /7 اکٹوبر کو لاء کمیشن نے عوام سے رائے طلب کی ہے کہ کیا طلاق ثلاثہ کو منسوخ کیا جائے اور کیا یکساں سیول کوڈ کو اختیاری قرار دیا جائے ۔ سپریم کورٹ میں اپنے حلف نامے میں اسی دن مرکز نے بھی طلاق ثلاثہ ، نکاح حلالہ اور مسلمانوں میں کثیر زوجگی کی مخالفت کی ۔ حکومت نے کہا کہ طلاق ثلاثہ کو مذہب کا لازمی حصہ نہیں سمجھا جاسکتا اور صنفی مساوات اور سیکولرازم کی بنیاد پر ان کا جائزہ لینے پر زور دیا ۔ وزارت قانون انصاف نے اپنے حلف نامہ میں دستوری اصولوں کا جیسے صنفی مساوات ، سیکولرازم ، بین الاقوامی معاہدوں ، مذہبی عمل اور ازدواجی قانون جو مختلف مسلم ممالک میں رائج ہے حوالہ دیتے ہوئے یہ دلیل دی کہ طلاق ثلاثہ اور کثرت ازدواج سپریم کورٹ کے دائرے کار میں شامل کی جانی چاہئیے تاکہ وہ اس کا از سر نو جائزہ لے سکے ۔

TOPPOPULARRECENT