Wednesday , January 17 2018
Home / آپ کے سوال / یکطرفہ خلع

یکطرفہ خلع

سوال : میاں بیوی میں اختلاف ہوا اور جھگڑا بڑھتا گیا ، شوہر نے غصہ میں آکر کہا کہ اگر تم اپنی حرکتوں سے باز نہیں آؤ گی تو میں تم کو طلاق دیدونگا اور تمہارا میرا کوئی رشتہ باقی نہیں رہے گا ۔ بیوی اس پر اور طیش میں آئی اور کہنے لگی کہ مجھے تمہارے چھوڑنے چھڑانے کی ضرورت نہیں ، میں خود تمکو چھوڑدیتی ہوں اور میں اسی وقت تم سے خلع لے لیتی ہوں ۔ ہمارا خلع ہوگیا اور اب ہم دونوں میں کوئی رشتہ باقی نہیں ۔ اس کے بعد بیوی نادم ہے اور شوہر کے ساتھ ملکر زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ شرعاً کیا حکم ہے ؟
ایک قاری
جواب : شریعت اسلامی میں بیوی کو معاوضہ کی پیشکش کرکے خلع طلب کرنے کا اختیار ہے ، شوہر قبول کرلے تو خلع واقع ہوکر تفریق و علحدگی ہوجائیگی اور مقررہ معاوضہ ادا کرنا بیوی پر لازم ہوگا ۔ یکطرفہ خلع کا شریعت میں کوئی اعتبار نہیں ۔ بیوی اپنے طورپر خلع حاصل کرلینے کی شرعاً مجاز نہیں۔ اس لئے مذکورہ درسوال صورت میں خلع واقع نہیں ہوئی، دونوں میں رشتۂ نکاح باقی ہے ۔

قصر نماز
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کادادیال ناندیڑ ہے لیکن ان کے والد پربھنی میں مقیم ہے اور زید کی پیدائش بھی پربھنی میں ہوئی ۔ تو کیا صورۃ مذکورۃ میں ناندیڑ زید کا وطن اصلی کہلائیگا یا پربھنی ، اور شرع میں وطن اصلی ہونے کے لئے کیا چیزیں ضروری ہیں ۔ بینوا و توجروا

جواب : زید کی پیدائش و بود باد پربھنی ہے اور ناندیڑ میں اس کا کوئی گھر یا جائیداد نہیں ہے تو وہ ناندیڑ میں پندرہ دن سے کم رہنے کی نیت سے گیا ہے تو ’’مسافر‘‘ ہے ورنہ ’’مقیم‘‘ ۔ اور اگر ناندیڑ میں بھی اس کا گھر یا جائیداد ہے تو راستہ میں وہ مسافر ہوگا اور ناندیڑ پہنچنے پر مقیم ۔ اسی طرح واپسی میں ۔

مرحومہ بیوی کا زیور
سوال : ایک محترمہ کا انتقال ہوا ، ان کے ورثاء میں شوہر ، تین لڑکے ہیں ۔ مرحومہ کی جائیداد کی تقسیم باہمی رضامندی سے ہوگئی ہے ۔ البتہ مرحومہ کے زیورات سے متعلق شوہر کی خواہش ہے کہ وہ ان کی زرخرید تھیں اس لئے وہ ان کو دی جانی چاہئے ۔ شرعاً کیا حکم ہے ؟
عبداللہ ۔چارمینار
جواب : شوہر نے اپنے سرمایہ کے زیورات خریدکر بیوی کو بطور تملیک دیدیا تھا تو وہ بیوی کی ملکیت ہوگئے اور بیوی کے انتقال پر وہ بیوی کے متروکہ میںشامل ہے ۔ اس میں شوہر صرف ایک چوتھائی حصہ کا حقدار ہے ، مابقی تین حصے تینوں لڑکو ں میں مساوی تقسیم ہونگے ۔ شوہر کا ادعاء از روئے شرع معتبر نہیں۔

مہر کی عدم ادائیگی اور بیوی کا اختیار
سوال : شوہر نے اپنی بیوی کو افراد خاندان کے روبرو تین مرتبہ طلاق دیدیا ، بعد ازاں بیوی اپنے گھر لوٹ گئی ، شوہر سے بارہا مہر کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا ، شوہر نے تاحال مہر ادا نہیں کیا ۔ اس سلسلہ میں بیوی کو کیا حقوق و اختیارات حاصل ہیں؟
نام ندارد
جواب : اگر میاں بیوی میں بذریعہ طلاق علحدگی ہوجائے تو شوہر پر فی الفور مہر ادا کرنا لازم ہوجاتا ہے ۔ اگر شوہر بعد طلاق مہر ادا نہ کرے تو مطلقہ بیوی مہر کے حصول کے لئے اس کو قید کرواسکتی ہے ۔ اگرمطلقہ مہر کی ادائیگی کے لئے مہلت دیتی ہے تو اس کو اختیار ہے ۔

ختنہ کے بعد غسل
سوال : ہمارے پوترے کی ختنہ آئندہ ہفتہ کی جانے والی ہے ۔ آپ سے اہم مسئلہ دریافت کرنا یہ ہے کہ ختنہ کے کتنے دن بعد بچے کو غسل دینا چاہئے ۔ سات دن ، چودہ دن ، اکیس دن ، اس میں شریعت کے کیا احکام ہیں۔
سبحان ۔ محبوب نگر
جواب : ختنہ مسنون ہے ، شریعت میں ختنہ کا کوئی غسل نہیں حسب سہولت و مناسب حال غسل دیا جاسکتا ہے ۔ شریعت مطہرہ میں ختنہ کے بعد غسل کے لئے کوئی مخصوص ایام کا کوئی تعین نہیں ۔

دینار شرعی و دینار سرخ
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شوہر اپنی بیوی کی مہر کی رقم کو لائف انشورنس میں ماہانہ اقساط میں ادا کرنا چاہتا ہے ۔ شریعت مطہرہ میں اس کی کہاں تک گنجائش ہے براہ کرم وضاحت فرماتے ہوئے کتابچہ عقد نکاح میں مذکورہ مہر کی قیمت فی زمانہ کیا ہوگی رہنمائی فرمائیںو نیز دینار سُرخ و دینار شرعی میں کیا فرق ہے جواب عنایت فرمائیں تو بڑی مہربانی ۔
عبدالشکور ۔ ٹولی چوکی
جواب : ایک دینار شرعی تین ماشے ایک رتّی سونے کے مساوی ہوتا ہے ۔ ایک دینار سرخ ایک اشرفی قدیم بارہ ماشے فی تولہ سونے کے مساوی ہے ۔ لہذا شوہر حسب صراحت بالا مہر ادا کرے ۔ اگر وہ مہر کی رقم لائف انشورنس میں ماہانہ اقساط کے طورپر ادا کرنا چاہے اور بیوی راضی ہے تو شرعاً کوئی ممانعت نہیں ۔
زچگی کا خرچہ
سوال : علمائے دین متین اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں :
(۱) ستواسہ یعنی یہ کام حمل قرار پانے کے ساتویں مہینہ میں کیا جاتا ہے پہلے تو یہ بتائیے کہ یہ کام کہاں تک درست ہے اور یہ کام کیا گیا تو عذاب کے مستحق تو نہیںبنیں گے ۔ لڑکے والے اس کام کے کروانے پر مصر ہیں۔ از روئے شریعت کیا حکم ہے ؟
(۲) دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ عام لوگوں میں یہ رواج چل پڑا کہ پہلا کام یعنی ڈیلیوری کا ذمہ لڑکی والوں پر اور ابتداء میں دوا وغیرہ کا خرچ تمام لڑکی والوں کے ذمہ ہوتا ہے اور لڑکی والوں کو دواخانہ کا نام بھی بتلایاجاتا ہے یا پھر گورنمنٹ دواخانہ کے علاوہ کوئی اور دواخانہ پر زور دیا جاتا ہے کیا ایسا کرنا اور کہنا و اصرار کرنا شریعت میں کہاں تک درست ہے ؟

ایک قاری
جواب : لڑکی پہلی مرتبہ حامل ہونے کے بعد ، لڑکی والے عموماً زچگی تک آرام کی خاطر لڑکی کو میکہ لیجاتے ہیں ۔ اس خوشی میں بلاطلب و زیربار ہوئے کوئی تقریب کریں تو شرعاً کوئی مضائقہ نہیں۔ عذاب کا کوئی محل نہیں۔
(۲)لڑکی حاملہ ہو تو علاج و معالجہ کیلئے جو خرچہ ہوگا اس کا ذمہ دار معالج کے پاس لیجانے والا ہے ۔ علاج کروانے والا اپنی مرضی اور سہولت سے دواخانہ کا انتخاب کرے گا اگر کوئی بہتر دواخانہ کا مشورہ دیتا ہے تو قبول کرنا یا نہ کرنا علاج کروانے والوں پر ہوگا ۔ زبردستی کسی بھی جانب سے درست نہیں ۔ باہمی مشورہ سے یکسوئی کرلی جائے ۔

شوہر کے ساتھ بدسلوکی
سوال : میری بیوی میری نافرمان نماز اور دیگر عبادت سے بے پروہ اور میرے ساتھ گالی گلوج بدتمیزی اور میری والدہ کے ساتھ بدتمیزی اور میری بیٹی کے علاج کے بہانے شرکیہ اعمال کرتی ہے دو تین بار میں نے ان کے والد والدہ سے شکایت بھی کی تھی مگر ان کے والد والدہ بھی اس کام میں ان کی بیٹی کے ساتھ شامل ہے۔ مسلسل سمجھانے کے باوجود کوئی بات بھی ماننے تیار نہیں اور میری بغیر اجازت کے اپنے والد کے کہنے پر گھر سے چلی گئی ہے۔ کیا ایسی بیوی کے ساتھ زندگی گزارنا صحیح ہوگا ؟
نام مخفی

جواب : بیوی پر شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری اور اس کی تعظیم و تکریم لازم ہے ۔ شوہر کی بلاوجہ شرعی بات نہ سننا ، نافرمانی کرنا رحمت الٰہی سے دوری اور لعنت کا موجب ہے ۔ عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اذا دعی الرجل امراتہ الی فراشہ فابت فبات غضبان لعنتھا الملائکۃ حتی تصبح ۔ ( بخاری و مسلم )
بیوی کو چاہئے کہ وہ اپنے شوہر کا احترام کرے ، بدتمیزی اور گالی گلوج سے قطعاً پیش نہ آئے ، نماز ، روزہ ، گوشہ پردہ کا اہتمام کرے اور شوہر سے کوئی تکلیف ہو تو اس کو دور کرنے کے لئے عمدہ و بہتر طریقہ اپنائے۔ اور جو بیوی شوہر کی بلا اجازت اس کے گھر سے چلی جائے تو تاواپسی اس کا نفقہ شوہر پر لازم نہیں ۔

بدگمانی و الزام تراشی ؟
سوال : آج کل بدگمانی اور الزامات کا بڑا رواج ہے ۔ ایک دوسرے پر شک و شبہ حد سے بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے آپس میں محبت ختم ہوچکی ہے ۔ بھائی بھائی سے جدا ، میاں بیوی میں اختلاف ، باپ بیٹے میں نفرت ، ساس بہو ، نند بھاوج وغیرہ ۔ سسرالی رشتہ داریاں تو بہت زیادہ اس سے متاثر ہے ۔ عملیات ، کرنے کرانے کے عنوان سے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں ۔ برائے کرم بدگمانی اور الزام تراشی کے نقصانات بتلائیں اور اس کا حل بیان فرمائیں ۔
محمد مرتضی ، جگتیال ضلع کریم نگر

جواب : شریعت میں بدگمانی سے اجتناب کرنے کا حکم ہے۔ ارشاد ہے : یا یھاالذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن، ان بعض الظن اثم۔ اے ایمان والو ! تم زیادہ گمان سے بچو اور یقیناً بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ (سورۃ الحجرات 49 ) جس چیز کے بارے میں کوئی قطعی علم نہیں ہے ۔ بعض بدگمانی و شک و شبہ سے کسی پر الزام لگانا سخت منع ہے ۔ ارشاد ہے : ولاتقف مالیس لک بہ علم ان السمع والبصر الفواد کل اولٰئک کان عنہ مسؤلا (اور اے انسان ! تو اس بات کی پیروی نہ کر جس کا (صحیح) علم نہ ہو، بے شک کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہرایک سے باز پرس ہوگی۔ جھوٹا الزام لگاکر کسی مومن کو تکلیف دینا بڑا گناہ ہے۔ ارشاد ہے : والذین یؤذون المؤمنین والمؤمنت بغیر مااکتسبوا فقد احتملوا بھتانا واثما مبینا ۔ اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت دیتے ہیں بغیر اس کے کہ انہوں نے کچھ کیا ہی نہیں تو بیشک انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ (اپنے سر) لے لیا ہے (سورۃ الاحزاب 58/33 )
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی مومن مرد اور مومن عورت پر بہتان باندھے یا اس کے بارے میں وہ بات کہے جو اس میں نہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن دوزخ کے ٹیلے پر اٹھائے گا ۔ یہاں تک کہ وہ اس بات سے نکل جائے جو اس نے کہا ہے ۔
کسی پر بے بنیاد الزام لگانا شرعاً گناہ ہے اور اس کو اپنے الزام سے رجوع کرنا اور توبہ کرنا لازم ہے جس پر جھوٹا الزام لگایا جارہا ہے ان کو چاہئے کہ غلط فہمی اور شک و شبہ کو دور کرنے کی خاطر حسنِ سلیقہ سے اپنی براء ت کا اظہار کردیں اور ان کی وضاحت کے بعد بھی اپنے جھوٹے الزام پر قائم رہنا مذموم ہے۔

TOPPOPULARRECENT