Tuesday , November 20 2018
Home / شہر کی خبریں / یکم اپریل سے رئیل اسٹیٹ شعبہ جی ایسٹی کے دائرہ کار میں آئے گا

یکم اپریل سے رئیل اسٹیٹ شعبہ جی ایسٹی کے دائرہ کار میں آئے گا

اراضیات کی خرید و فروخت کو شفاف بنانے کے اقدامات، تعمیراتی اشیاء پر ٹیکس
حیدرآباد۔21جنوری(سیاست نیوز) رئیل اسٹیٹ شعبہ کو یکم اپریل سے جی ایس ٹی کے دائرہ کار میں شامل کرلیا جائے گا۔ ماہرین کا کہناہے کہ حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں فوری طور پر اقدامات کئے جائیں گے تاکہ اراضیات و جائیدادوں کی تمام منتقلی اور فروخت کے معاملات کو شفاف بنایا جاسکے اور اس کی قیمت کے تعین کے سلسلہ میں اقدامات ممکن بنائیں جا سکیں۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حکومت نے آئندہ ماہ شروع ہونے والے بجٹ سیشن کے دوران اس سلسلہ میں قانون میں ترمیم کا منصوبہ تیار کرلیا ہے اور کہا جارہاہے کہ اس قانونی ترمیم کے بعد یکم اپریل سے تمام جائیدادوں و اراضیات کے علاوہ مکانات کی فروخت پر جی ایس ٹی عائد کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے تیار کردہ منصوبہ کے مطابق حکومت نے جی ایس ٹی کونسل سے اس سلسلہ میں مشاورت کرنے کے بعد 12فیصد کے زمرہ میں اراضیات ‘ مکانات اور جائیدادوں کی فروخت کو رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلہ کے مطابق حکومت کی جانب سے سمنٹ اور دیگر تعمیری اشیاء پر وصول کئے گئے جی ایس ٹی کے متعلق بھی حکمت عملی کی تیاری کی جا رہی ہے ۔شعبہ رئیل اسٹیٹ کو جی ایس ٹی کے زمرہ میں شامل کئے جانے کی مختلف گوشوں سے مخالفت کی جا رہی ہے لیکن حکومت کی جانب سے اس حکمت عملی کو قطعیت دے دی گئی ہے اور اس پر عمل آوری کے ذریعہ حکومت جائیدادوں کی خرید و فروخت کے معاملا ت کو شفاف بنانے کے لئے تیار ہے۔ بتایاجاتاہے کہ رئیل اسٹیٹ شعبہ کو جی ایس ٹی میں شامل کرنے کے فیصلہ کے بعد ایک مرتبہ پھرکرنسی تنسیخ جیسی صورتحال پیدا ہوگی اور غیر محسوب کرنسی سے جس طرح لوگ پریشان ہوئے تھے اسی طرح بے نامی جائیدادیں رکھنے والوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ جی ایس ٹی میں رئیل اسٹیٹ شعبہ کو شامل کئے جانے کے بعد تمام کاروبار کو شفاف کرنا لازمی ہوجائے گا۔

TOPPOPULARRECENT