Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / یہودی سال نو سے قبل مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی پولیس کی شرانگیزی

یہودی سال نو سے قبل مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی پولیس کی شرانگیزی

مسجد اقصیٰ کے احاطہ میں جھڑپیں‘احتجاجیوں کی سنگباری و آتشبازی سے حملے‘ پرانے شہر یروشلم میں جھڑپیں جاری

یروشلم ۔13ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) یروشلم کے دھماکو صورتحال والے مقام  مسجد اقصیٰ کے احاطہ میں فلسطینیوں اور اسرائیلی پولیس میں جھڑپیں ہوگئی ۔ چند گھنٹے بعد یہودی سال نو کا آغاز ہونے والا تھا  ۔ پولیس اور عینی شاہدین کے بموجب ان جھڑپوں سے کشیدگی میں بیحد اضافہ ہوگیا ۔ وزیر دفاع اسرائیل موشے یالون نے گذشتہ ہفتہ 2مسلم گروہوں کو غیرقانونی قرار دیا تھا کیونکہ انہوں نے مسجد کے احاطہ میں آنے والے یہودی سیاحوں کے ساتھ تکرار کی تھی ۔ مسجد دونوں مذاہب کا مشترکہ مقدس مقام ہے ۔ فلسطین کے عینی شاہدین کے بموجب پولیس مسجد میں داخل ہوگئی جو عالم اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے اور اس کو نقصان پہنچایا ۔ پولیس نے صرف اتنا کہا کہ انہوں نے مسجد کے دروازے بند کردیئے تھے تاکہ سنگباری اور آتش بازی کرنے والے فسادیوں کو اندر بند کردیا جائے ۔ عہدیداروں کے بموجب یہی حکمت عملی ماضی میں بھی اختیار کی گئی تھی ‘ تاکہ امن و سکون بحال کیا جاسکے ۔ عہدیداروں نے پُرزور انداز میں کہا کہ اس سے مفید نتائج برآمد ہوئے تھے ۔ پولیس کے بموجب فسادیوں نے خود ہی راتوں رات مسجد میں رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں جس کا مقصد یہودیوں کے اس مقام پر آمد کو روکنا تھا ۔ شام میں یہودی سال نو کی تقریب منائی جانے والی تھی ۔ احتجاجی نقاب پوش تھے ‘ انہوں نے مسجد کے اندر سے پولیس پر سنگباری کی اور آتش بازیاں پھینکی ۔ پولیس کو شبہ ہے کہ پائپوں میں دیسی ساختہ دھماکو مادے بھرے گئے تھے جو مسجد کے باب الداخلہ کے قریب دستیاب ہوئے ۔ مسلم عینی شاہدین نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے مسجد میں داخلے کو روک دیا تھا اور وقت سے پہلے دروازے بند کردیئے تھے تاکہ مسجد کو  نقصان پہنچایا جاسکے ۔ احتجاجیوں نے کہا کہ جائے نمازوں کو جزوی طور پر نذرآتش کردیا گیا ‘ پولیس نے کہا کہ بعد ازاں مسجد کی عمارت میں امن قائم ہوگیا ۔ حالانکہ یروشلم کے علاقہ پرانے شہر کی تنگ گلیوں اور سڑکوں پر پولیس کے ساتھ جھڑپیں جاری رہی ۔ پولیس نے آنسو گیس اور بے حس کردینے والے دستی بم استعمال کئے ۔ دو مسلم گروپس کو گذشتہ ہفتہ ممنوع قرار دیا گیا تھا ۔ خدیجہ قویص نے جو ان دو تنظیموں میں سے ایک کی رکن ہے کہا کہ پولیس مسجد میں داخل ہوگئی اور مسلمانوں کو اندر داخل ہونے سے روک دیا ۔ پولیس بے حس کردینے والے دستی بموں کے ساتھ احتجاجیوں کا آج صبح سے ہی پیچھا کررہی تھی اور مسجد کی عمارت کے باہر تمام راستوں کی ناکہ بندی کردی گئی تھی ۔

صحافیوں نے دیکھا کہ کئی افراد کو حراست میں لے لیا گیا اور پرانے شہر کے علاقہ میں زبردست پولیس کی جمعیت تعینات کی گئی تھی ۔ گذشتہ ہفتہ وزیر دفاع نے مرادی تاد اور مرابی تون تنظیموں پر امتناع عائد کیا تھا جو اُن کے بموجب مملکت کی صیانت کیلئے اور عوام و نظم نسق عامہ کی بہتری کیلئے ضروری تھا ۔ ان کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گروہ اہم عنصر تھے جنہوں نے مسجد کے احاطہ میں کشیدگی پیدا کی اور پُرتشدد کارروائیاں کی۔ یہودیوں کو گنبد صخرٰی میں داخل ہونے سے روک دیا ۔ غیر مسلموں مسجد کے احاطہ کا دورہ کرنے کی اجازت ہے لیکن یہودیوں کو عبادت کرنے یا اپنی قومی علامتوں کا مظاہرہ کرنے جن سے مسلم عبادت گذاروں میں خوف و کشیدگی پیدا ہوتی ہو مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ مسلمانوں کو خوف ہے کہ اسرائیل اس مقام کیلئے وضع کئے ہوئے قوانین میں تبدیلی کرنا چاہتا ہے ۔ انتہا پسند دائیں بازو کا یہودی گروپ زیادہ رسائی کیلئے زور دے رہا ہے ‘ بعض دیگر تنظیموں نے ایک نئے صومعہ کی تعمیر بھی قریب میں شروع کردی ہے ۔ اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر قبضہ کرلیا تھا جہاں مسجد اقصیٰ قائم ہے ۔ 1967ء کی 6روزہ جنگ کے دوران اس علاقہ پر قبضہ کر کے اسے ملحق کرلیا تھا لیکن اس کارروائی کو بین الاقوامی برادری نے کبھی بھی تسلیم نہیں کیا ۔ پولیس اور مسلم کارکنوں کے درمیان مسجد اقصیٰ کے مقام پر وقفہ وقفہ سے جھڑپیں ہوتی رہی ہے ۔ صدرفلسطین محمود عباس نے آج اسرائیلی عہدیداروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے احاطہ پر حملے کی شدید مذمت کی ‘ جب کہ اسرائیلی پولیس کے ساتھ مسلمانوں کی جھڑپوں کی وجہ سے پورا علاقہ دہل گیا ۔

TOPPOPULARRECENT