Tuesday , November 21 2017
Home / مضامین / یہ قیامت نہیں تو اور کیا ہے ؟

یہ قیامت نہیں تو اور کیا ہے ؟

ظفر آغا

غضب خدا کا ، بلکہ یوں کہیئے کہ قیامت کے آثار! جی ہاں، مسجد نبویؐ کے احاطے میں بم سے حملہ ہو ، اس کو قیامت نہیں تو آپ اور کیا کہیں گے۔ اگرچہ یہ حملہ کسی دشمن نے کیا ہوتا تو غصہ آتا، یہاں تو حملہ آور مسلمان اور خود کو جہادی کہنے والا تھا۔ اب آپ اس کو کیا کہیں گے؟ اس کو عذابِ الٰہی نہیں تو اور کیا کہا جائے۔ وہ مسجد جس کو رسول کریم ؐ نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے صحابہؓ کے ساتھ مل کر بنائی آج اسی مسجد کو خود مسلمان بم کا نشانہ بناکر مسلمانوں کا خونِ ناحق بہارہا ہے۔ یہ تو وہ مسجد ہے جہاں جبرئیل امینؑ کلام اللہ کا پیغام لے کر نازل ہوئے۔ اسی مسجد سے نبی کریم ؐ نے دنیا کو پیغام اسلام عطا فرمایا۔ اسی مسجد میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور دو خلفائے راشدین آرام فرما ہیں۔ یہ وہ مسجد ہے کہ جس مسجد میں سجدہ رب العالمین کی تمنا ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے،ا س مسجد کی جتنی فضیلت بیان کی جائے کم ہے یہاں جب پہنچیں تو ایک عجیب کیفیت طاری ہوجاتی ہے لگتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری دے رہے ہیں۔ لیکن اللہ کی پناہ اس مسجد میں بم دھماکہ کرنے والا آخر کیا مسلمان تھا اور یہ کونسا جہاد تھا جو مسجد نبویؐ کے اندر کررہا تھا۔ یہ سوال اب ایسا سوال نہیں رہا کہ جس کا جواب ٹالا جاسکے بلکہ یہ سوال برسوں سے دنیا مسلمان سے کررہی ہے۔ اس سوال کی گونج سارے عالم پر 9/11 حملے کے وقت سے دنیا پر طاری ہے لیکن اس سوال کا جواب کسی اور کو نہیں بلکہ خود عالم اسلام کو دینا ہے۔افسوس کہ عالم اسلام اس سوال کے جواب کو اس طرح سے نہیں تلاش کررہا ہے جس طرح کی ضرورت ہے۔

دراصل اس سوال کا جواب بہت سیدھا اور واضح ہے، مسجد نبویؐ ، استنبول اور ڈھاکہ میں یا پھر بروسلز، پیرس اور نیویارک میں 9/11 سے اب تک جو ہوا وہ جہاد نہیں ہوسکتا۔ اس معاملہ میں کسی اجتہاد یا کسی فتویٰ کی قطعاً ضرورت نہیں ہے، جس مذہب کی شروعات ہر معاملہ میں بغیر بسم اللہ الرحمن الرحیم کے نہ ہوتی ہو اس مذہب کے ماننے والے اگر معصوموں کا قتل کریں تو وہ اس مذہب کے بنیادی فرض کی مخالفت کریں گے کیونکہ مسلمانوں کا اللہ رحمن بھی ہے اور رحیم بھی ہے اور وہ محض مسلمانوں پر رحم کرنے والا نہیں بلکہ وہ رب العالمین ہے یعنی تمام عالمین کا رب ہے جو سب کے لئے رحیم ہے۔ بھلا وہ کیونکر آج کے ظالم جہادیوں کا رب ہوسکتا ہے۔ اس لئے عالم اسلام اور عالم اسلام کے باہر جہاد کے نام پر جو خود کو مسلمانوں کا ٹھیکہ دار کہنے والے کررہے ہیں وہ مسلمان نہیں کہے جاسکتے ہیں۔ معصوم لوگوں کا قتل حرام ہے اس لئے بے گناہوں کو مارنے والے جہادی نہ صرف اسلام دشمن بلکہ انسانیت کے دشمن بھی ہیں۔

عالم اسلام میں اس معاملہ میں ایک حیرتناک سکوت ہے جس سے اب ڈرلگتا ہے۔ راقم کو یاد ہے کہ جب امریکہ نے صدربش کی قیادت میں عراق پر حملہ کیا تو دنیا بھر کے مسلمان لاکھوں کی تعداد میں اس حملے کی مخالفت میں سڑکوں پر نکل پڑے تھے۔ آج جب مسجد نبویؐ پر حملہ ہوا ہے تو دس افراد بھی کہیں اکٹھا ہوتے نظر نہیں آئے، چند بیانات مذمت کے اور پھر اس کے بعد خاموشی، آخر یہ مسلمان ’ جہاد ‘ کے مسئلہ پر چپ کیوں ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ 1857 میں جب مسلمان نے ہندوستان میں پہلی مسلم ریاست انگریزوں کے ہاتھ کھویا اور پھر اس کے بعد 1920 کی دہائی تک خلافت ترکی کے زوال تک آہستہ آہستہ سارے عالم اسلام پر مغرب کا قبضہ ہوگیا اور کسی وقت کی گلوبل پاور امت مسلمہ مغرب کی غلام ہوگئی تو ہندوستان سے لیکر مکہ و مدینہ اور مصر تک یہ سوال اُٹھا کہ آخر مسلمانوں کی یہ حالت کیوں بن گئی اور یہ سوال بنیادی طور پر مدرسوں میں گونج اُٹھا۔ ہندوستان میں مدرسہ دیوبند کی بنیاد اسی سوال کے جواب کی تلاش میں ہوئی، اسی طرح آج کے سعودی عرب میں عبدالوہاب نے اسی سوال کے جواب کو تلاش کیا۔ اور یہی گونج مصر میں گونجی اور ہر جگہ سے اس سوال کے جواب میں تین اہم نکات اُبھر کر سامنے آئے اور وہ تین نکات یہ تھے۔ (1) مسلمان بنیادی اسلام سے ہٹ کر کہیں بھٹک گیا ہے اس لئے اس کو بنیادی اسلام پر واپس لانے کی ضرورت ہے اور اس بنیادی اسلام کی اصطلاح  ان مراکز فکر میں ہوئی جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔(2) دوسری اہم فکر جو مغرب سے پسپائی کے بعد عالم اسلام میں اُٹھی وہ یہ تھی کہ ہم اسی مغرب کے غلام ہوگئے جس نے کبھی مسلمانوں کے خلاف مذہبی جنگ کرکے مسلمانوں سے قبلہ اول چھین لیا تھا۔ (3) اس دلیل کے جواب میں یہ فتوے آئے کہ جیسے صلاح الدین ایوبی نے مغرب کے خلاف جہاد کرکے قبلہ اول کو آزاد کرانا چاہا تھا ویسے ہی دور حاضر میں عالم اسلام کو مغرب کی غلامی سے آزاد کروانے کا اب جہاد ایک فریضہ ہے۔

عالم اسلام میں 1857 سے اب تک یہ مکتب فکر نہ صرف برقرار ہے بلکہ اب مدرسوں کی شکل میں ہر جگہ گھر کرچکا ہے۔ ( خدا کا شکر ہے کہ ہندوستان اب لعنت اس سے مبراء ہے ) لیکن  پاکستان، افغانستان، عراق، شام ، مصر ہر مسلم ملک میں یہ طرز فکر ایک بار پھر سے ٹھاٹھیں ماررہا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ 2002 یعنی افغانستان پر مغرب کے حملے کے بعد سے لیکر عراق اور پھر سارے عالم اسلام میں کسی نہ کسی شکل میں امریکہ کی یلغار نے مسلمانوں کا احساس غلامی اس قدر شدید کردیا ہے کہ وہ اس کے خلاف جدوجہد کررہا ہے۔ اس کی یہ جدوجہد دقیانوسی، جاہلانہ جہاد کے دائرے میں پھنسی ہے جس کا نتیجہ موجودہ جہاد ہے جو اس کے دشمن کو نہیں بلکہ نہ صرف مسلمان کو کھارہا ہے بلکہ اسلام کو بھی داغدار بنارہا ہے۔

اسلام اور مسلمان دونوں کو ان جہادیوں کے ہاتھوں سے آزاد کروانے کی ضرورت ہے اور یہ فریضہ اس وقت مدارس کا ہے، وہ دیوبند ہو یا دوسرے اہم مراکز اسلامی فکر کے مدارس ان تمام مدارس اور ان کے زیر نگرانی چلنے والی مساجد ان سب کا فریضہ ہے کہ وہ آج کے جہاد کے خلاف ایک جہاد چھیڑیں۔ ہر مسجد سے جمعہ کو ہونے والے خطبہ میں اس جہاد کے خلاف صدا بلند ہونی چاہیئے۔ دیوبند کے مسلمانوں نے اکثر اس معاملہ میں دہلی کے رام لیلا میدان میں دہشت گردی کے خلاف بڑی بڑی کانفرنس کی ہے لیکن اب محض وقت بے وقت ایک کانفرنس سے کام نہیں چلنے والا ہے۔ عالم اسلام کے ہر مسلک کے دینی اداروں کیلئے اس جاہلانہ جہاد کے خلاف ایک جہاد کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں مسلمان سڑکوں پر نکل کر اس جہاد کی مخالف کریں گے۔

سب سے بڑا خطرہ تو ہندوستانی مسلمان کے سر منڈلا رہا ہے۔ اگر ڈھاکہ یا پیرس جیسے دو تین جہادی حملے ہندوستان میں ہوگئے تو اس ملک میں ہندو ردعمل جو ہوگا اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ پھر اس ملک کے مسلمانوں پر کیا گذرے گی کہنا مشکل ہے۔ اس لئے ہندوستان کے ہر مکتب فکر کے مدارس کو جہاد کے خلاف ایک جنگ چھیڑ دینی چاہیئے، ہر شہر میں جہاد کے خلاف بڑی بڑی ریلیاں ہونی چاہیئے تاکہ مسلمان محفوظ رہیں۔

TOPPOPULARRECENT