Tuesday , August 21 2018
Home / مضامین / یہ پیسہ اور یہ پیسوں کے بھکاری

یہ پیسہ اور یہ پیسوں کے بھکاری

 

محمد مصطفی علی سروری
ساجد حسب معمول آفس جانے کیلئے گھر سے باہر نکلا ‘ جب وہ اپنی گاڑی اسٹارٹ کررہا تھا تب اُس کی نظر خود اپنے جوتوں پر پڑی ‘ اُس کو احساس ہوا کہ اس کے جوتوں کو آج پالش کروانا ضروری ہے ۔ دوبارہ گھر جاکر پالش کرنے کے بجائے ساجد نے طئے کیا کہ وہ آفس کے راستے میں کسی موچی سے اپنے جوتوں کو پالش کروالے گا ۔ نور خان بازار سے گچی باؤلی کے راستے میں ساجد موچی کو تلاش کرتا رہا ‘ بالآخر ایک جگہ موچی سڑک کے کنارے مل ہی گیا ۔ ساجد نے اپنی گاڑی روک کر جوتوں کوپالش کروایا ‘ جب پیسے دینے کیلئے اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا تو اس کے ہاں چلر نہیں تھا ‘ صرف 100 کی نوٹ تھی ۔ موچی کے پاس بھی چلر نہیں تھا ۔ موچی نے ساجد کے ہاں سے نوٹ لیکر تھوڑی دور دیوار کے سایہ میں بیٹھی ایک عورت سے چلر مانگا ‘ شائد وہ عورت موچی کو جانتی تھی اس نے اپنے بٹوے سے چلر نکال کر موچی کو دے دیا ۔ ساجد کو بقیہ پیسے واپس کرتے ہوئے موچی بڑبڑا رہا تھا ۔ ساجد کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ارے صاحب کیا زمانہ آگیا ہے ‘ ہم محنت کر کے بھی گھنٹے میں 100روپئے نہیں کماسکے اور لوگ بھیگ مانگ کر 100روپیوں سے زائد جمع کرلیتے ہیں ۔ ساجد نے جب شہر حیدرآباد کو بھکاریوں سے پاک کرنے کی مہم کے بارے میں سنا اور اخبارات میں پڑھا تو اس نے حکومت کے اس قدم کا خیرمقدم کیا ۔ اس کے خیال میں لوگ کسی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ ایک پیشہ کے طور پر بھیک مانگنے لگے ہیں اور ساجد نے خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ایسا نہ ہو کہ کل کے دن وہ موچی بھی بھیک مانگنے لگے کیونکہ وہ بوڑھا تو تھا اور اس کو ملال بھی تھا کہ ایک گھنٹے کی محنت میں وہ اتنا نہیں کما سکتا تھا جتنا کہ لوگ اسی وقت کے دوران بھیک مانگ کر جمع کررہے تھے ۔

اب تلنگانہ حکومت نے شہر حیدرآباد کو بھکاریوں سے پاک کرنے کی مہم چھیڑی ہے تو یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ حکومت کی اس مہم کی قانونی حیثیت کیا ہے ؟ اور سب سے اہم سوال کہ کیا حکومت کو اس مہم میں کامیابی بھی مل سکتی ہے یا نہیں ۔ قارئین سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ صرف ریاست تلنگانہ ہی نہیں بلکہ ملک کی 20ریاستیں ایسی ہیں جہاں بھیک مانگنا جرم ہے اور بھیک مانگنے والوں کو گرفتار کر کے جیل بھیجا جاسکتا ہے ۔ ( بحوالہ اخبار ہندوستان ٹائمز ‘ یکم اپریل 2017)
تلنگانہ ریاست میں بھی یہ قانون نافذ ہے سال 2016 میں ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے کئے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ شہر حیدرآباد میں بھکاریوں کی تعداد اندازاً 25ہزار ہے اور یہ پچیس ہزار بھکاری ہر روز اوسطاً 500روپئے کمالیتے ہیں اور ان بھکاریوں کی سالانہ آمدنی کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ یہ بھکاری سال بھر میں 456 کروڑ روپئے کمالیتے ہیں ۔ (بحوالہ روزنامہ ’’سیاست ‘‘ 28جون 2016) ۔ سروے میں یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ 25 ہزار بھکاریوں میں سے 90سے 95 فیصد بھکاری بازآبادکاری (Rehabilitation) کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ یہ حقیقی ضرورت مند نہیں بلکہ لوگوں کے روبرو ڈرامہ کر کے ان سے پیسے لیتے ہیں ۔ بھکاریوں کا مسئلہ صرف شہر حیدرآباد تک محدود نہیں ہے ۔ 2011ء کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں چار لاکھ لوگوں کی بھکاریوں کی حیثیت سے درجہ بندی کی گئی ہے اور متحدہ آندھراپردیش بھکاریوں کی فہرست میں مغربی بنگال اور اترپردیش کے بعد تیسرے نمبر پر ہے ۔ مغربی بنگال میں بھکاریوں کی حوصلہ شکنی کیلئے انہیں غیر معینہ مدت تک کیلئے گرفتار کیا جاسکتا ہے اور ان کی رہائی اسی وقت ممکن ہے جب وہ کسی روزگار کو حاصل کرلیں ۔

ملک میں بھکاریوں کے متعلق اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ ہندوستان میں بھیک مانگنے والا ہر چوتھا بھکاری مسلمان ہے ۔ جی ہاں مردم شماری کے 2011ء کے مطابق ہندوستان میں تقریباً 4لاکھ بھکاری ہیں اور ان میں کا ہر چوتھا بھکاری مسلمان ہے اور ان مسلم بھکاریوں میں سے بھی اکثریت مسلم خواتین کی ہے جو بھیک مانگنے والوں کی فہرست میں شامل ہیں ۔ مسلم بھکاریوں میں مرد حضرات کا فیصد (43.61) ریکارڈ کیا گیا اور مسلم عورتوں کا فیصد (56.38) رہا ۔ ( بحوالہ اخبار انڈین ایکسپریس ‘29 جولائی 2016)
بھکاریوں کو روزآنہ کتناپیسہ مل جاتا ہے ‘اس کا صرف اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور بھکاریوں کے خلاف مہم صرف تلنگانہ نہیں بلکہ ملک کے مختلف مقامات پر اور مختلف ریاستوں میں وقتاً فوقتاً چلائی جاتی ہے ۔ پونہ شہر میں وہاں کی پولیس نے بھی بھکاریوں کے خلاف مہم چلائی 31اکٹوبر تا 3نومبر 2017ء کے دوران چلائی گئی ۔ مہم کے دوران کھانڈوا پولیس اسٹیشن کے عملہ نے بھی ستائیس (27) بھکاریوں کو گرفتار کرلیا اور انہیں پولیس اسٹیشن لیکر گئے ۔ ان ستائیس بھکاریوں کی گرفتاری پر کھانڈوا پولیس بڑی خوش تھی لیکن ان پولیس والوں کی خوشی جلدہی کافورہوگئی کیونکہ شام ہونے سے پہلے پہلے پہلے ان 27 بھکاریوں نے اپنی ضمانت (Bail)کی فی کس 5ہزار کی رقم جمع کروا دی اور پولیس کی حراست سے ہنستے کھیلتے باہر نکل گئے ۔ اب پولیس والے پریشان ہیں کہ آخر ان سڑک پر بھیک مانگنے والے بھکاریوں نے بروقت 5ہزار کی ضمانت کی رقم کہاں سے جمع کری ۔ ( بحوالہ اخبار ہندوستان ٹائمز 10نومبر 2017)

ایک ایک روپیہ بھی ہم بھکاریوں کو دیتے ہیں تو اس روپئے کی طاقت کو بھول جاتے ہیں لیکن یہی ایک ایک روپیہ جب جئے پور راجستھان کے 13برس کے یش (Yash) نے جمع کرنا شروع کیا تو کیا ہوا اس کے متعلق 25اکٹوبر 2017ء کو اخبار ٹائمز آف انڈیا نے ایک رپورٹ شائع کی ۔ رپورٹ کے مطابق جئے پور کے ایک گرنی چلانے والے شخص کا 13سالہ یش کو اس کے والد ہر روز کچھ نہ کچھ پیسے جیب خرچ کے طور پر دیا کرتے تھے لیکن یش اپنے والد کی طرف سے دیئے جانے والے سکوں (چلر) کو خرچ نہیں کرتا تھا بلکہ جمع کرتا تھا ۔ سکے جمع کرنے کا شوق یش کو اتنا بڑھ گیا تھا کہ اگر کوئی اس کو نوٹ بھی دیتا تو وہ نوٹ کے بدلے لوگوں سے سکے حاصل کرلیتا اور اس کو جمع کرتا تھا ۔ یش کی عمر صرف 13برس ہے اور جب 19اکٹوبر 2017 کو جئے پور میں شام کے وقت ہونڈا گاڑیوں کا شورم بند ہونے کے قریب تھا یش اپنی بہن کے ساتھ شوروم پہنچتا ہے اور ایک گاڑی خریدنے میں دلچسپی ظاہر کرتا ہے ۔ شوروم کا مالک یش کو گاڑی کی قیمت بتاتا ہے اور یش اپنی بہن کے ساتھ گاڑی بھی پسند کرلیتا ہے اور جب یش کو گاڑی کی قیمت 62,000 بتائی جاتی ہے اور رقم دے کر گاڑی لے جانے کو کہا جاتا ہے ۔ تب یش نے دو تھیلے آگے بڑھا دیئے ۔ ابتداء میں تو سب تعجب میں پڑگئے مگر ایک چھوٹے بھائی کی اپنی بہن کیلئے محبت اور خلوص کو دیکھ کر ان تھیلوں میں موجود سکوں کو گننے کیلئے آمادگی ظاہر کردی تھی ۔ دو تا ڈھائی گھنٹے تک شوروم کا سارا اسٹاف سکوں کی گنتی کرتا رہا ‘ تب کہیں جاکر 62ہزار کی گنتی مکمل ہوئی ۔ یوں ایک 13برس کے بھائی نے دیوالی کے موقع پر اپنی جیپ کی بچت سے اپنی بہن کیلئے ایک اسکوٹر خریدی ۔ (بحوالہ انڈیا ٹوڈے ‘13نومبر 2017)
1956 میں حیدرآباد کو آندھراپردیش کا دارالحکومت قرار دیا گیا تو اس وقت کی ایک رپورٹ کے مطابق حیدرآباد میں بھکاریوں کی تعداد پانچ ہزار بتائی گئی تھی ۔ 2008ء میں حیدرآباد کونسل آف ہیومن ویلفیر کی رپورٹ کے مطابق شہر حیدرآباد میں بھکاریوں کی تعداد 10,466 پہونچ گئی ۔ اس طرح 1956تا 2008 کے دوران شہر میں بھکاریوں کی تعداد میں 400گنا اضافہ ہوگیا ہے ۔ ( بحوالہ اخبار انڈین ایکسپریس‘ 13نومبر 2017)
شہر حیدرآباد میں بھکاریوں کی بازآبادکاری کے کام میں (ANAA) نام کی ایک غیر سرکاری تنظیم بھی مصروف ہے ۔ آنا کے سکریٹری جی گری کے مطابق شہر حیدرآباد میں بھیک مانگنا اتنا پُرکشش کام بن گیا ہے کہ ایسے لوگ بھی یہاں آکر بھیک مانگ رہے ہیں جن کی اپنے گاؤں اور آبائی مقامات پر باضابطہ زمینات ہیں ‘ شہر میں بھیک مانگ کر یہ لوگ ایک ہزار روپئے تک جمع کرلیتے ہیں جو شراب نوشی اور دیگر منشیات کیلئے خرچ کردی جاتی ہے ۔

غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق شہر میں بھیک مانگنے والوں کی اکثریت ڈھونگی ہے اور صرف پانچ فیصد ہی حقیقی ضرورت مند ہیں جو بھیک مانگنے کیلئے مجبور ہیں ۔ اب تو مجلس بلدیہ کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں بھیک مانگنے والے لکھ پتی ہوسکتے ہیں اور جو شخص غریب ضرورت مند ہیں ان کے لئے سرکاری اسکیمات سے استفادہ کے راستے نکالے جائیں گے ۔
اس لئے قارئین اکرام آپ جب کسی بھکاری کو کچھ خیرات دے رہے ہوں تو سوچ لیجئے کہ کیا واقعی کسی ضرورت مند کو آپ کا عطیہ جارہا ہے یا کوئی ڈھونگی بھکاری آپ کے عطیہ سے اپنے نشہ یا کسی اور دوسری بری عادت کیلئے پیسے اکھٹا کررہا ہے ۔ ایک چینی کہاوت ہے کہ اگر کسی بھوکے کو کھانا کھلانا چاہتے ہو تو اس کو مچھلی کھلانے کے بجائے ‘ مچھلی کا شکار کرنا سکھلادو تاکہ وہ عمر بھر بھوکا نہ رہے ۔
اگر واقعتاً ہم کسی ضرورت مند کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو اس بات کا پتہ چلانا بھی ہمارا ہی فریضہ ہے کہ ہم ضرورت مند کی ہی مدد کررہے ہیں اور کسی ڈھونگی کے جال میں نہیں پھنس رہے ۔ اگر اب بھی کسی مسجد کے باہر کوئی خاتون اپنے بچوں کی فیس کے پیسے مانگے تو آپ کو کیا کرنا ہے یہ آپ ہی کی ذمہ داری ہے ۔
ایسا بھی ہوسکتا ہے آپ جس بھکاری کو خیرات کر رہے ہوں وہ اپنا خود کا ذاتی مکان بھی رکھتا ہو۔ آپ کو ہرمہینہ کرایہ کی ادائیگی کی منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے اور بھکاری لوگوں سے پیسے جوڑ جوڑ کر ایک نیا فلیٹ خریدنے کا بجٹ جمع کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی خیرات و صدقات اس کے صحیح مستحقین تک پہنچانے کی توفیق دے ۔ آمین
[email protected]

TOPPOPULARRECENT