Saturday , November 25 2017
Home / مضامین / یہ کس کا لہو ہے کون مرا

یہ کس کا لہو ہے کون مرا

 

کے این واصف
خلیجی ممالک میں لاکھوں ہندوستانی باشندے برسرکار ہیں، جن کی اکثریت یہاں مجرد زندگی بسر کرتی ہے اور ان لاکھوں ہندوستانیوں کے بیوی بچے ، ماں باپ ، بہن بھائیوں کی تعداد کروڑوں میں پہنچتی ہے جو ہندوستان کے مختلف علاقوں میں رہتے ہیں اور گلف میں بسے ان لاکھوں ہندوستانیوں میں اکثریت ان ہندوستانیوں کی ہے جن کا تعلق اقلیتی فرقوں یا دلت کمیونٹی سے ہے ۔ ماہ رمضان کے آخری ایام میں ہندو انتہا پسند عناصر نے دہلی سے پنجاب جانے والی ٹرین میں تین مسلم نوجوانوں پر بلا وجہ تشدد کر کے انہیں شدید زخمی کیا اور ان تین میں سے جنید نامی ایک لڑکا برسر موقع جاں بحق ہوگیا ۔ جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) اقتدار میں آئی ملک میں ایسے واقعات معمول بن گئے ہیں ۔ ملک کی اقلیتیں اور دلت کمیونٹی اپنے آپ کو اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔ اس تہذیب یافتہ اور ترقی یافتہ دور میں ہماری روایتی تہذیب کی دھجیاں اڑتے ہوئے دیکھ کرملک کا ہر مہذب ، ذی شعور اور سیکولر ذہن ہندوستانی حیران ہے۔ ملک کے دانشور ، اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات ، شاعر ، ادیب ، آرٹسٹ ، ملک و قوم سے ہمدردی رکھنے والے اور حق گو صحافی احتجاج کر رہے ہیں۔ ملک میں پھیلی بربریت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ پچھلے ہفتہ معروف صحافی ونود دوا نے اپنے ٹی وی شو میں ملک کے وزیراعظم سے راست سوال کیا کہ آپ نے تو تبدیلی اور اچھے دنوں کا وعدہ کر کے اقتدار حاصل کیا تھا ۔ کیا یہی ہے وہ تبدیلی ، کیا یہی ہے وہ اچھے دن ؟ انہوں نے معروف شاعر ساحر لدھیانوی کے الفاظ میں وزیراعظم نریندر مودی سے پوچھا ’’اے رہبر ملک و قوم بتا یہ کس کا لہو ہے کون مرا‘‘۔

اپنے وطن سے دور بسے این آر آئیز بھی اپنے وزیراعظم سے یہی سوال کر رہے ہیں، کیا یہ لہو لہان ہندوستان آپ کے دکھائے ہوئے خوابوں کی تعبیر ہے ۔ ہم لاکھوں این آر آئیز ملک پر بوجھ بنے بغیر ملک سے باہر محنت کر رہے ہیں۔ اپنے خون پسینے کی کمائی ملک بھیج رہے ہیں جو ملک کے معاشی استحکام کا ایک اہم ستون بنا ہوا ہے ۔ ہم اپنے بیوی بچوں ، ماں باپ ، بہن بھائیوں کو اپنے پیچھے چھوڑ کر ملک سے باہر گئے ۔ اس اطمینان اور بھروسہ پر کہ ہمارے وطن کا قانون جنگلی جانوروں کو تک مارنے کی اجازت نہیں دیتا۔ جنگلی جانوروں کی جان لینے والوں کو سزا دیتا ہے ۔ ہمارے ملک میں قانون کا راج ہے ۔ محبت اور بھائی چارگی ہمارے وطن کی تہذیب ہے ۔ ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرنا اورایک دوسرے کے جذبات و احساس کی قدر کرنا ہماری تاریخ ہے ۔ مندر کے بھجن ، مسجد کی اذان ، گردوارے کا کیرتن اور کلیساؤں کی جرس صدیوں سے ہمارے ملک کی فضاؤں میں ایک دوسرے میں گھل مل کر گونجتے رہے ہیں۔ پھر یہ بین مذاہب تفریق اور ذات پات کا فرق کیا ہے ۔ کیا ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ اس کا نام ہے ۔ حضور اگر آپ ’’وکاس (ترقی) نہیں دے سکتے تو کم از کم ’’وناش (بربادی) تو نہ کیجئے ۔ دلت کمیونٹی اور اقلیت سے تعلق رکھنے والے این آر آئیز لاکھوں کی تعداد میں خلیجی ممالک میں برسرکار ہیں۔ اپنے اہل و عیال ، اپنے افراد خاندان کی جان و مال کے تحفظ کی بھارت سرکار سے ضمانت کے تیقن کی مانگ کرتے ہیں۔ یہ ہمارا دستوری حق ہے اور عوام کے جان و مال کی حفاظت حکومت کا فرض ہے ۔ کیا اب ملک کی ریل گاڑیوں میں اعلیٰ ذات ، دلت کمیونٹی ، مسلمان ، سکھ ، عیسائی کیلئے الگ الگ کوچ (ڈبے) ہوا کریں گے ۔ کیا اب بستیوں میں اکثریتی اور اقلیتی طبقات کے مکانوں کے درمیان فصیلیں تعمیر کی جائیں گی ۔ کیا اب ہماری ریسٹورنٹس ، تفریح گاہیں ، باغ باغیچے بھی الگ الگ ہوں گے ۔ کیا آپ ملک میں کسی زمانے میں ساؤتھ افریقہ میں رائج گورے اور سیاہ فام افراد والے فرق کا راج قائم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ بھی گاندھی کے دیس میں جس نے ساؤتھ افریقہ میں بھی اس نسلی امتیاز کے خلاف آواز اٹھائی تھی ۔ ہمیں اب وطن کو چھٹی گزارنے آتے ہوئے بھی خوف ہونے لگا ہے ۔ ہم بڑے شہروں میں ایر پورٹ سے اُتر کر ٹرینوں کے ذریعہ اپنے اضلاع اور گاؤں جاتے ہیں ۔ آج جو غنڈہ گردی ، قتل و غارت گری کے و اقعات عوامی مقامات ، سڑکوں ریلوے اسٹیشنوں وغیرہ میں دلتوں اور اقلیتوں کے ساتھ پیش آرہے ہیں، اس سے تو لگ رہا ہے کہ این آر آئیز چھٹی پر آئیں گے تو ایرپورٹ سے ا پنے گھر بھی پہنچ پائیں گے کے نہیں۔ کہیں ہمارے لباس ، شکل و صورت کو دیکھ کر اور ہمارے نام اور ذات پوچھ کر یہ انتہا پسند ہمیں موت کے گھاٹ نہ اتاردیں۔ سرکار اور سرکاری ملازمین عوام کی جان و مال کی حفاظت کے ذمہ دار ہوتے ہیں لیکن یہ خبر پڑھ کر حیرت ہوئی کہ بلبھ گڑھ اسٹیشن کے قریب تین نوجوانوں کو زد و کوب کرنے اور ایک نوجوان کو موت کے گھاٹ اتارنے والے سرکاری ملازمین تھے ۔
گائے کو ماتا ماننے والے اور ’’گاؤ رکھشکوں ‘‘ کو یہ نظر نہیں آتا کہ گائے کو گھاس نہ ملنے پر وہ کوڑے دانوں میں کچرا اور کاغذ وغیرہ کھا رہی ہیں۔ گاؤ شالاؤں میں چارا نہ ملنے پرگائیں فاقوں سے مر رہی ہیں۔ پھر گاؤ رکھشک ان گائیوں کی رکھشا کیوں نہیں کرتے ۔ ان کیلئے چارے کا انتظام کیوں نہیں کر تے اور سب سے بڑھ کر یہ گاؤ رکھشک کیا یہ نہیں جانتے کہ بیف ایکسپورٹ میں ہندوستان دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے ۔ یہ دہری پالیسی بند کرو۔ گاؤ رکھشک کیوں نہیں ان بڑے بڑے بیف اکسپورٹ کرنے والی کمپنیوں پر تالے لگاتے۔
صحافی ونود دوا نے اپنے شو میں ساحر لدھیانوی کی طویل نظم ’’اے رہبر ملک و قوم بتا یہ کس کا لہو ہے کون مرا‘‘ پوری پڑھ کر سنائی اور وزیراعظم نریندر مودی سے سوال کیا ’’مودی جی کیا جواب آئے گا ‘‘ ہم این آر آئیز بھی اپنے وزیراعظم سے یہی سوال دہرائیں گے ۔ مودی جی کیا جواب آئے گا۔
[email protected]

 

 

فیملی ٹیکس
پچھلے ہفتہ اسی موضوع پر پورا کالم لکھا گیا اور فیملی ٹیکس سے متعلق ساری تفصیلات درج کی گئیں لیکن پچھلے دو ایک روز میں اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے کچھ اور احکامات جاری ہوئے جو مقامی اخبارات میں شائع ہوئے جس کے مطابق سعودی محکمہ جوازات نے مملکت میں مقیم غیر ملکیوں کے مرافقین اور تابعین پر مقرر کی جانے والی فیسوں سے متعلق مزید تفصیلات واضح کرتے ہوئے کہا کہ فیملی ٹیکس کا فیصلہ جاری ہونے سے قبل بیرون مملکت موجود ان مرافقین اور تابعین کے حوالے سے کوئی ٹیکس نہیں لیا جائے گا جو سعودی عرب واپس نہیں آنا چاہتے ۔ محکمہ جوازات کے عہدیدار نے واضح کیا کہ اگر کسی مقیم غیر ملکی کے مرافقین بیرون مملکت سے سعودی عرب واپس آنا نہیں چاہتے تو غیر ملکی ان کی فیس ادا کرنے کا پابند نہیں ہوگا۔ جوازات کے عہدیدار نے بتایا کہ اس زمرے میں آنے والے تارکین کے معاملات کا تصفیہ خروج و عودہ (Exit, Re-entry) کی میعاد ختم ہونے کے ایک ماہ بعد کیا جائے گا۔ غیر ملکی کو جوازات سے رجوع کرنا ہوگا ، جہاں خانہ ’’خرج و لم یعد‘‘ (چلاگیا واپس نہیں آیا) کے تحت ٹیکس کا تصفیہ ہوگا ۔ جوازات کے عہدیدار نے مزید بتایا کہ اگر کوئی غیر ملکی مستقبل میں اپنے مرافقین اور تابعین کو بلانا چاہے گا تو ایسی صورت میں اسے نئے اقامے بنوانے ہوں گے ۔ محکمہ جوازات نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سعودی ماؤں کی غیر ملکی اولاد ، سعودی شہری کی ماں (بیوہ یا مطلقہ ) کو بھی ٹیکس سے استثنیٰ حاصل رہے گا ۔ علاوہ ازیں جو مرافق اور تابع خرج ولم یعد کے تحت اندراج کراچکے ہوں ، ان پر بھی کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔ ویزٹ ویزا پر رہنے والے افراد خاندان پر بھی کوئی فیس نہیں ہوگی جو شخص بھی خروج وعودہ (Exit Re-entry) یا اقامہ کی تجدید کیلئے جوازات سے رجوع کرے گا اس سے اس وقت مرافقین و تابعین فیس وصول کی جائے گی۔
نیز تفصیلات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقیم غیر ملکیوں پر مرافقین کے حوالے سے عائد فیس مہینے اور دن کے اعتبار سے لی جائے گی ۔ بتایا گیا کہ کوئی خروج و عودہ لگوانے کیلئے رجوع کرے گا تو ایسی حالت میں اس سے خروج وعودہ کی مطلوبہ ایام کی فیس اور مرافق فیس اقامہ کی باقی ماندہ مدت کے حساب سے طلب کی جائے گی ۔ مرافق فیس کی ابتداء یکم جولائی 2017 ء سے ہوئی ہے ۔ اسی تاریخ سے مرافق فیس کا اعتبار ہوگا ۔ مرافق اور تابع کی فیس سے کسی بھی قومیت کے شہریوں کو استثنیٰ نہیں ہوگا ۔ تابعین میں بیوی بیٹیاں، 18 برس سے کم عمر کے بیٹے اور مرافقین کے تحت 18 برس سے زیادہ عمر کے بیٹے ، دوسری ، تیسری اور چوتھی بیوی ، ماں باپ ، ساس ، سسر ، گھریلو ملازم ، ڈرائیور اور ہر وہ شخص جو اس کی کفالت میں ہو شامل رہے گا۔

TOPPOPULARRECENT