Monday , December 11 2017
Home / مضامین / یہ کیسی دوڑ ہے کون جیتے گا کس کو نہیں معلوم

یہ کیسی دوڑ ہے کون جیتے گا کس کو نہیں معلوم

 

محمد مصطفے علی سروری
وینکٹ رمنا کالونی پنجہ گٹہ کی رہنے والی خاتون جی انیتا کی عمر 34 برس بتلائی گئی ۔ جی انیتا شادی شدہ ہے اور اپنے اخراجات پورا کرنے اور شوہر کا ہاتھ بٹانے کیلئے گھر پر ہی ایک کرانہ کی دکان چلاتی ہے۔ 12 اکتوبر کے دن دوپہر کے ایک بجے موٹر سائیکل پر سوار دو نوجوان انیتا کی دکان پر آتے ہیں اور پانی کی ایک بوتل خرید کر چلے جاتے ہیں ۔10 تا 15 منٹ کے بعد یہی نوجوان دوبارہ انیتا کی دکان پر آتے ہیں اور اس بار ایک بسکٹ کا پیاکٹ مانگتے ہیں۔ بسکٹ کا پیاکٹ نکال کر دینے کیلئے جیسے ہی انیتا اٹھی بھی نہیں تھی کہ انیتا کے گلے پر اس نوجوان کا ہاتھ پڑتا ہے اور وہ اس کے گلے کے 6 تولے کے منگل سوتر کو پکڑ کر زور سے کھینچتا ہے ۔ منگل سوتر ٹوٹ جاتی ہے اور بسکٹ خریدنے کیلئے آنے والا نوجوان تیزی سے پلٹ کر اپنے ساتھی کی گاڑی پر بیٹھ جاتا ہے ۔ گاڑی تیزی سے وہاں سے چلی جاتی ہے ۔ انیتا اس اچانک حملے اور پھر منگل سوتر چھین جانے کے واقعہ سے پریشان ہوجاتی ہے اور پھر جلد وہ اور اسکے عزیز پنجہ گٹہ پولیس اسٹیشن سے رجوع ہوکر باضابطہ شکایت درج کرتے ہیں۔

13 اکتوبر 2017 ء کے اخبارات میں منگل سوتر چھین کر بھاگ جانے کے اس واقعہ کی خبر کہیں چھوٹی سی چھپی اور پھر دیگر خبروں کی طرح ہماری نظروں سے بھی اوجھل ہوگئی ۔ چین چھین کر بھاگ جانے کے یوں تو ایسے سینکڑوں واقعات ہوتے ہیں۔ بس یہ بھی ایک واقعہ تھا جو ہم پڑھنے کے بعد بھلا بھی دیئے لیکن جب حیدرآباد سٹی پولیس نے 23 اکتوبر 2017 ء کو ایک پریس کانفرنس میں وینکٹ رمنا کالونی کے اس کیس کو حل کر کے تفصیلات میڈیا کے روبرو پیش کیں تو تب بھی ہم نے اس کو ایک معمولی خبر ہی سمجھا مگر جب پولیس کی فراہم کردہ تفصیلات پڑھنے کا موقع ملا تو اس خبر میں ہماری دلچسپی بڑھ گئی ۔ اس کی ایک سے زائد وجوہات بھی تھی۔ اول تو پولیس نے جن دو ملزموں کو گرفتار کیا تھا ، وہ کوئی معمولی ملزم نہیں تھے بلکہ ایک ملزم نے تو باضابطہ طور پر الیکٹرانکس اینڈ کمیونکیشن سے بی ٹیک کی ڈگری حاصل کی تھی۔ سال 2015 ء میں انجنیئرنگ پاس کرنے والے ملزم کو گزشتہ دو برسوں کے دوران کوئی ملازمت نہیں ملی تھی اور وہ اپنے والد کی ہی دکان میں کمپیوٹر ڈیزائیننگ کا کام کر رہا تھا ۔ دوسرا اہم نکتہ جو اس خبر میں ہماری دلچسپی کا یہ کہ پولیس نے جن دو ملزمین کو پکڑا تھا وہ دونوں مسلم کمیونٹی سے تھے ۔ انجنیئرنگ کے کورس کے دوران ہی پہلے ملزم کو پرتعیش زندگی گزارنے کی عادت پڑ چکی تھی ۔ پولیس کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق انجنیئر ملزم کا دوسرا ساتھی اس کا دوست تھا جس سے اس کی ملاقات ملے پلی کے ایک اسنوکر پارلر میں ہوئی تھی ۔ عورتوں کے گلے سے چین چرا کر ان دونوں نے اپنے شوق کی تکمیل کیلئے پیسے جمع کرنے شروع کئے تھے اور پنجہ گٹہ میں واردات انجام دینے سے پہلے ان ملزمان سے اپنی یاماہا گاڑی کو جو کہ لال رنگ کی تھی ، کالے اسٹیکرس لگاکر بدل ڈالا تاکہ کوئی ان کو پہچان نہ پائے۔ کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ انیتا کا منگل سوتر چرانے کے بعد ان دونوں ملزمان نے اپنے گھر والوں سے مدد حاصل کی ۔ ایک ملزم نے اپنی ماں کو بتلایا کہ یہ منگل سوتر اس کے ایک دوست کی ماں کا ہے ۔ بچوں نے گھر میں اس کو توڑ دیا ، اب دوست کی ماں مجبور ہے ، اس کو پیسوں کی ضرورت ہے لہذا وہ (ملزم کی ماں) اس کی مدد کرنے اور یہ ٹوٹا ہوا منگل سوتر کہیں رہن رکھا کر اس کو پیسے لاکر دے ۔ اب ایک ملزم کی ماں اپنی بیٹی کو لیکر ایک ایسے کوآپریٹیو بینک سے رجوع ہوتی ہے جہاں پر سونے کو گروی رکھ کر قرضہ دیا جاتا ہے ۔ یوں انجانے میں کہوں یا کیا مجھے نہیں معلوم لیکن ایک ملزم کی ماں اپنے ہی بیٹے کے چوری کئے ہوئے منگل سوتر کو بینک میں گروی رکھ کر 20,000 روپئے لاکر اپنے بیٹے کو دیتی ہے اور پولیس کے مطابق دونوں ملزمان غلط شوق ، غلط صحبت اور غلط عادتوں کا شکار تھے اور انہیں اپنے ان کاموں کی تکمیل کیلئے پیسے چاہئے ہو تو ہ لوگ چوری اور دیگر غیرقانونی حرکتوں کا ارتکاب کرنے لگے تھے ۔
مسلم سماج میں اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کا رجحان بڑھا ہے ۔ کیا امیر کیا غریب ، ہر کوئی اپنے بچوں کو ڈاکٹر اور انجنیئر بنانے میں لگا ہوا ہے ۔ جن کو سرکاری اسکالرشپ ملی ٹھیک ہے جن کو اسکالرشپ نہیں ملی انہوں نے بھی اپنا پیٹ کاٹ کر لوگوں کے آگے ہاتھ جوڑ کر اپنے بچوں کی فیس کے پیسے جمع کئے اور بچوں کو انجنیئر بنانا ضروری سمجھا۔ انجنیئرنگ کے دوران بچوں کو گاڑی دلانا ضروری سمجھا گیا اور طرح طرح کے تعلیمی اخراجات کے نام پر بچوں نے جب بھی اور جتنے کچھ بھی پیسے مانگے وہ فراہم کئے لیکن بچے انجنیئرنگ کی ڈگری لیکر بھی نوکری نہیں حاصل کرپائے، ہاں ان لوگوں نے اپنی تعلیم کے دوران اسنوکر کھیلنے کے شوق پالے، حقہ پینے ، دوستوں کے ساتھ پارٹیاں کرنا سیکھ لیا اور اگر کچھ سیکھ نہ سکے تو وہ محنت کر کے پیسے کمانا نہیں سیکھا ۔ باپ نے کبھی یہ ضروری نہیں سمجھا کہ اچانک ان کے بچے نے گاڑی کا رنگ کیوں بدل ڈالا اس کے متعلق معلوم کریں۔ بچے کے پاس نیا ماڈل کا فون کہاں سے آیا ، کسی نے نہیں پوچھا اور ماں کے متعلق کیا بتلائیں ؟ یہ کیسا پیار ہے کہ ماں اپنے بچے کے جھوٹ کو ہی نہیں پکڑ پا رہی ہے اور محبت میں اندھی ہوکر اس کے چوری کئے ہوئے سونے کو گروی رکھنے بینک کا سفر کر رہی ہے۔
باپ اس بات کو نہیں سمجھ سکا کہ یہ کیسی انجنیئرنگ کی تعلیم ہے کہ کورس تو پورا ہوگیا مگر بچے کو نوکری ہی نہیں ملی اور بالآخر بیٹے کو باپ ہی کی دکان پر کام کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ انجنیئرنگ تو الیکٹرانک اینڈ کمیونکیشن میں مکمل کی اور دو برس تو نوکری کی تلاش میں لگادیتے، اگر اتنا ہی وقت بیٹا اپنے باپ کے کاروبار میں اور دکان پر لگالینا تو کم سے کم 6 سال کا تجربہ اور بہت سارا کاروباری نفع بھی مل جاتا تھا۔

اب انجنیئرنگ کرنے کے بعد لڑکا پولیس کے ہتھے چڑھ گیا اور چوری کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے تو باپ مارے شرمندگی کے اپنے دوستوں سے چھپتے پھر رہا ہے ۔ ماں اپنے ہی رشتے داروں سے ملنے سے کترا رہی ہے اور بہن شائد یہ سوچ کر ہی پریشان ہے کہ اب اس کے لئے اچھے رشتے کہاں سے آئیں گے۔ غرض ملزمان تو پولیس کی تحویل میں ہیں، باپ وکیلوں کے چکر میں دوڑ رہا ہے ، ماں اپنا گھر بدلنے کیلئے بھاگ دوڑ کر رہی ہے تاکہ ایسے محلہ میں جاکر رہا جائے جہاں انہیں کوئی نہیں جانتا ہو۔ سب بھاگ رہے ہیں اور کسی کو اس بات کا پتہ نہیں کہ یہ دوڑ کب ختم ہوگی۔

ایک دوڑ تو دہلی کے ایک غریب رکشے والے کا بیٹا بھی لگا رہا ہے ۔ 15 سالہ نثار احمد کے والد رکشہ چلاتے ہیں اور وہ پڑھائی کے سا تھ ساتھ کھیل کے میدان میں بھی دوڑ رہا ہے ۔ نثار ایسے دوڑ لگاتا ہے کہ دوڑ کے ہر مقابلے میں اول آتا ہے۔ ستمبر 2017 ء میں ہوئے دوڑ لگانے کے مقابلوں میں نثار احمد نے لگاتار دو ریکارڈ بنائے ۔ 100 میٹر کا مقابلہ نثار (11) سکینڈ میں پورا کرتا ہے اور 200 میٹر کی دوڑ 22 سکینڈ میں مکمل کرنے والا نثار مسلم کمیونٹی کے محنتی لوگوں کی الگ ہی کہانی بیان کرتا ہے ۔ دہلی کے اشوک وہار علاقے میں ایک ریلوے ٹریک کے بازو بنے 8X8 سائز کے کمرے میں رہنے والا نثار حالانکہ 15 برس کا ہے مگر یہ سوچ کر پریشان رہتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے کچھ کام نہیں آسکتا۔ نثار کی ماں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے ۔ نثار کے ہاں نہ تو دوڑ لگانے کیلئے پہنے جانے والے قیمتی Sports شوز خریدنے کے پیسے ہیں اور نہ ہی ایک دوڑ لگانے والے کھلاڑی کو درکار کھا نے کی تغذیہ بخش غذا ، اسے میسر ہے ۔ ماں جن گھروں میں کام کرتی ہے وہیں سے مانگ کر دودھ لاتی ہے تاکہ نثار احمد کو جسم میں اتنی طاقت ملے کہ وہ اور زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ دوڑ سکے ۔ غریب باپ رکشہ چلاکر اور ماں لوگوں کے گھروں میں کام کر کے نثار احمد زندہ رہنے کیلئے درکار کھانا تو فراہم کر رہے ہیں مگر نثار کے کوچ کا کہنا ہے کہ نثار کو اور زیادہ پروٹین اور وٹامن والی غذا چاہئے تاکہ اس کی باڈی کا (Stamina) اور بڑھے ۔ نثار کے دوڑنے کی کہانی بھی عجیب بتلائی جاتی ہے ۔ نثار غریب ماں باپ کا لڑکا ریلوے ٹریک کے بازو ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتا ہے جہاں رہنے والوں کو ہمیشہ ٹریک کراس کرتے وقت دوڑنا پڑتا ہے کہ کہیں ٹرین کی ٹکر نہ ہوجائے۔ ریلوے ٹریک کراس کرنا نثار کی مجبوری تھی لیکن اپنے اس مجبور حالات کو نثار نے ایک مثبت رخ دے ڈالا اور دوڑ نے کی عادت ایسی اپنائی کہ ہر دوڑ میں اول آنے لگا اور 16 سال سے کم عمر دوڑنے والوں کے مقابلے میں دو قومی ریکارڈ بھی بنا ڈالے۔ نثار کے کوچ نے امید ظاہر کی کہ نثار دوڑنے کے مقابلوں میں آگے اور بھی نام روشن کرسکتا ہے اور نئے ریکارڈ: بناسکتا ہے۔ جب والدین اپنے بچوں کی تربیت اور ہمت افزائی صحیح نہیں کرتے تب بچوں کی غلط حرکات والدین کو دوڑنے پر مجبور کردیتی ہے ۔ اب کون بچوں کو دوڑنا سکھاتا ہے اور کون بچوں کی حرکات کے سبب دوڑنے پر مجبور ہوتا ہے ، یہ سوچنے والی بات ہے۔

یقینیاً دعا مومن کا ہتھیار ہے ہم بھی دعا گو ہیں اسے مالک دو جہاں تو ہمارے لئے ہمارے بچوں کی صحیح تربیت آسان فرما اور ان لوگوں کا راستہ چلا جن پر تو نے انعام کیا ہے (آمین)۔ حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ دونوں دوڑ رہے ہیں ، ماں باپ بھی اور بچے بھی لیکن کامیاب کون ہوگا کسی کو نہیں معلوم۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT