Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / :ے2013 بعض اہم واقعات قیام تلنگانہ ریاست کومرکزی کابینہ کی منظوری

:ے2013 بعض اہم واقعات قیام تلنگانہ ریاست کومرکزی کابینہ کی منظوری

حیدرآباد /31 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) سال 2013 ریاست آندھراپردیش کے عوام کیلئے سیاسی، سماجی اور قدرتی اعتبار سے کچھ اہم یادیں چھوڑ کر جارہا ہے ۔ ریاست آندھراپردیش کے عوام سال 2013 کو متحدہ ریاست کی تاریخ کا آخری سال تصور کر رہے ہیں ۔ اس سال کو سیاسی اتھل پتھل و سیاسی ہنگامہ آرائی کے علاوہ نئی سیاسی صف بندی کا سال بھی مانا جاتا ہے ۔ سال 2013 میں ری

حیدرآباد /31 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) سال 2013 ریاست آندھراپردیش کے عوام کیلئے سیاسی، سماجی اور قدرتی اعتبار سے کچھ اہم یادیں چھوڑ کر جارہا ہے ۔ ریاست آندھراپردیش کے عوام سال 2013 کو متحدہ ریاست کی تاریخ کا آخری سال تصور کر رہے ہیں ۔ اس سال کو سیاسی اتھل پتھل و سیاسی ہنگامہ آرائی کے علاوہ نئی سیاسی صف بندی کا سال بھی مانا جاتا ہے ۔ سال 2013 میں ریاست آندھراپردیش کی تاریخ میں کئی اہم واقعات پیش آئے ۔ جن میں دہشت گرد حملوں سے لیکر سیاسی مستقبل کی پیش قیاسی کرنے والے معاملات اور حکومتوں کی تقدیر بدلنے کے واقعات بھی رونما ہوئے ۔ عوام پر آفت کے بادل ٹوٹے اور عوامی قائدین جیل سے رہا بھی ہوئے ۔ علاقہ تلنگانہ کے ساڑھے چار کروڑ عوام کیلئے یہ سال کامیاب قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ اسی سال مرکزی کابینہ نے علیحدہ ریاست تلنگانہ کی جدوجہد کو قبول کیا اور علیحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام کو منظوری دیدی ہے ۔ یہ عمل تقریبا مکمل ہونے جا رہا ہے جب صدر جمہوریہ کے روانہ کردہ تنظیم جدید آندھرا پردیش بل پر 3 جنوری سے اسمبلی میں مباحث ہونگے ۔ تلنگانہ کے ساڑھے چار کروڑ عوام گذشتہ تقریبا چھ دہوں سے علیحدہ تلنگانہ ریاست کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن کسی بھی حکومت نے اس جائز اور واجبی مطالبہ کی تائید نہیں کی تھی ۔ تاہم جب یہ احتجاج عوام کی سطح پر آگیا اور عوام نے اس مسئلہ کو اپنی اولین ترجیح بنالیا ۔ اس جدوجہد میں سماج کے مختلف گوشوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے اور تمام مذاہب کے ماننے والے شامل ہوگئے تو مرکزی حکومت کو اپنے رویہ میں تبدیلی لاتے ہوئے علیحدہ ریاست کے قیام کیلئے آمادہ ہونا پڑا ۔ اس مسئلہ کو ایک طویل عرصہ تک برفدان کی نذر کردیا گیا تھا لیکن تلنگانہ عوام نے اپنی بے تکان جدوجہد کے ذریعہ حکومت کو اپنے رویہ اور موقف دونوں ہی میں تبدیلی پیدا کرنے اور علیحدہ ریاست کے قیام کیلئے مجبور کردیا ۔
دیگر واقعات میں قابل ذکر ماہ فروری میں پیش آیا دہشت گرد حملہ کا واقعہ ہے جو دلسکھ نگر میں پیش آیا ۔

دلسکھ نگر دھماکہ میں جو فروری کے مہینے میں پیش آیا 2 افراد ہلاک اور تقریباً 80 افراد شدید زخمی ہوگئے ۔ ان دھماکوں نے ریاست بھر میں دہشت پھیلادی تھی اور دھماکوں کے بعد سیاسی قائدین کی آمد کا سلسلہ بڑھ گیا تھا ۔ دلسکھ نگر بم دھماکوں کو بھی مسلم نوجوانوں سے موسوم کرتے ہوئے ابتداء میں من گھڑت الزامات عائد کئے گئے تھے ۔ حد یہ ہوگئی کہ دھماکہ میں زخمی ہونے والے نوجوانوں کو بھی شک کی نظر سے دیکھا جا رہا تھا ۔
ان دنوں حیدرآباد کے دہشت گرد حملوں سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے یو پی اے چیرپرسن سونیا گاندھی ، وزیر اعظم منموہن سنگھ اور مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے نے دھماکوں کی مذمت کی ۔

٭٭ اس سال کے دیگر اہم واقعات میں عوام پر آفت بنکر ٹوٹ پرے ان ناگہانی واقعات میں قابل ذکر ’’ فائلین ‘‘ طوفان ہے جس نے ریاست کی عام زندگی کو درہم برہم کردیا تھا ۔ بالخصوص ساحلی علاقوں اور رائلسیما کے علاقوں میں ہزارہا ایکڑ کی فصلیں تباہ ہوچکی تھی اور کئی افراد ہلاک ہوگئے ۔ راحت کاری کے اقدامات میں سرکاری مشنری مفلوج نظر آرہی تھی ۔ کروڑ ہا روپئے مالیت اور کئی ہزار ایکڑ اراضیات پر فصلیں تباہ ہوئیں۔

٭٭ اس سال جاریہ ماہ اننت پور ٹرین حادثہ کے علاوہ محبوب نگر کا بس حادثہ ہے ۔ جہاں بس شعلہ پوش ہونے کے سبب 45 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور انصاف کیلئے آج بھی متاثرین کے ورثا کا احتجاج جاری ہے جو باعث تشویش ہی نہیں بلکہ حکومت کی سنجیدگی کی مثال ہے ۔
٭٭ سال 2013 میں کئی سیاسی قائدین کے خلاف قانونی شکنجہ تنگ کیا گیا اور کئی افراد کو جیل کی سزا کاٹنی پڑی تو جیل سے رہائی بھی عمل میں آئی ۔ مجلس کے رکن اسمبلی اکبر اویسی کو نفرت انگیز تقریر کے الزام میں جیل کی ہوا کھانی پڑی تو دوسری جانب وائی ایس آر کانگریس کے صدر و رکن پارلیمنٹ جگن موہن ریڈی کو اس سال جیل سے راحت نصیب ہوئی ۔ وہ ضمانت پر رہا ہوئے ہیں ۔ وہ ایک سال سے زیادہ وقت سے غیر محسوب اثاثہ جات کے مقدمہ میں چنچلگوڑہ جیل میں محروس تھے ۔

٭٭ سال 2013 میں جگن موہن ریڈی کی بہن شرمیلہ نے اپنے بھائی کے جیل میں ہونے کی وجہ سے پارٹی کے عوامی رابطہ پروگرام کی ذمہ داری سنبھالی ۔ انہوں نے ریاست کے کئی اضلاع میں پد یاترا کرتے ہوئے عوام کے درمیان پہونچ کر اپنی پارٹی اور بھائی کی وکالت کی ۔ انہوں نے کئی موقعوں پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وہ راج شیکھر ریڈی کی ترقیاتی اسکیمات کو ختم کر رہی ہے وہیں وہ جگن کے ساتھ انتقامی رویہ رکھتی ہے کیونکہ وہ جگن کی مقبولیت سے خوفزدہ ہے ۔

٭٭ سال 2013 میں پولیس کیلئے تلخ رہا ۔ ڈی جی پی کے عہدے کیلئے دنیش ریڈی کی جدوجہد ناکام رہی اور انہوں نے اس کا مورد الزام چیف منسٹر کو ٹھہرایا۔سابقہ تجربات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے مسٹر پرساد راؤ کو ڈی جی پی نامزد کردیا ۔

TOPPOPULARRECENT