Wednesday , December 19 2018

۔۲۰۰۹ کے انتخابات میں 85 فیصد امیدواروں کی ضمانتیں ضبط

نئی دہلی ۔ 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مابعد آزادی لوک سبھا انتخابات کے دوران ایسے امیدواروں کی تعداد میں ہمیشہ اضافہ ہی ہوا جو نہ صرف انتخابی شکست سے دوچار ہوئے بلکہ ان کا ڈپازٹ بھی ضبط ہوگیا لیکن اس کے باوجود بھی انتخابات لڑنے عوام کے جوش و خروش میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق اگر کوئی امیدوار اپنے حلقہ انتخ

نئی دہلی ۔ 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مابعد آزادی لوک سبھا انتخابات کے دوران ایسے امیدواروں کی تعداد میں ہمیشہ اضافہ ہی ہوا جو نہ صرف انتخابی شکست سے دوچار ہوئے بلکہ ان کا ڈپازٹ بھی ضبط ہوگیا لیکن اس کے باوجود بھی انتخابات لڑنے عوام کے جوش و خروش میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق اگر کوئی امیدوار اپنے حلقہ انتخاب میں ڈالے گئے جملہ جائز ووٹس کی تعداد کا ایک چھٹواں حصہ حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے تو اس کا ڈپازٹ سرکاری خزانے میں جمع ہوجاتا ہے۔ عام نشست کیلئے اتنخاب لڑنے والے امیدوار کو سیکوریٹی ڈپازٹ کے طو پر 25000 روپئے جمع کروانا پڑتے ہیں جبکہ ریزوڈ نشستوں پر مقابلہ کرنے والے امیدواروں کو ڈپازٹ کے طور پر 12,500 روپئے جمع کروانا پڑتے ہیں۔ 1951-52ء میں پہلے لوک سبھا انتخابات کے دوران تقریباً 40 فیصد امیدواروں کے ڈپازٹس ضبط ہوگئے تھے۔

اس کے بعد سے لیکر آج تک لوک سبھا کے جتنے بھی انتخابات منعقد ہوئے ان میں اپنے ڈپازٹس سے محروم ہونے والے امیدواروں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوا۔ الیکشن ڈاٹا کے مطابق 11 ویں عام انتخابات میں ڈپازٹس سے محروم ہونے والے امیدواروں کی تعداد عروج پر تھی جہاں 13952 امیدواروں کے منجملہ 12688 امیدوار اپنے ڈپازٹ سے محروم ہوگئے اور انتخابات کا یہی گیارہواں ایڈیشن اس بات کیلئے بھی یاد رکھا جائے گا کہ اس انتخاب میں امیدواروں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ 2009ء میں جب 13 ویں لوک سبھا کی تشکیل کیلئے انتخابات ہوئے تھے تو اس وقت 85 فیصد امیدوار اپنے ڈپازٹس سے محروم ہوگئے تھے۔ تناسب کے لحاظ سے امیدواروں کے ڈپازٹ سے محروم ہوجانے کا وہ تیسرے سب سے بڑے انتخابات تھے جبکہ 1996ء میں 91 فیصد اور 1991ء میں 86 فیصد امیدوار اپنے ڈپازٹس سے محروم ہوئے تھے جس سے یہ بات بھی ظاہر ہوجاتی ہیکہ انتخابات کے دوران اپنے ڈپازٹ سے محروم ہوجانے کے باوجود بھی انتخابی میدان میں اپنی قسمت آزمانے والوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔

TOPPOPULARRECENT