۔ 2 جی اسکام : اے راجہ، کنی موزھی سمیت تمام 19ملزمین بری

استغاثہ کوئی بھی الزام ثابت کرنے میں بالکلیہ ناکام ‘ خصوصی سی بی آئی جج سائنی کا فیصلہ۔سی بی آئی ‘ ای ڈی اپیل کریں گے

نئی دہلی، 21 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سابقہ متحدہ ترقی پسند اتحاد(یو پی اے ) حکومت کو ہلاکر رکھ دینے میں اہم رول ادا کرنے والے ایک لاکھ 76ہزار کروڑ روپے کے 2Gاسپیکٹرم الاٹمنٹ اسکام میں سابق وزیر مواصلات اے راجہ، ڈی ایم کے کی رکن پارلیمنٹ کنی موزی سمیت تمام 19ملزمین کو آج سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے بری کردیا۔پٹیالہ ہاؤس میں واقع سی بی آئی کے خصوصی جج او پی سائنی نے اس اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کسی بھی الزام کو ثابت کرنے میں پوری طرح ناکام رہا۔جج نے کہا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ دو فریق کے درمیان رقم کا لین دین ہواہے ۔ اس لئے تمام الزامات سے بری کیا جاتا ہے ۔ تاہم ‘ سی بی آئی اور ای ڈی نے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کرنے کا ارادہ ظاہرکیا ہے ۔سال2010میں کمپٹرولراینڈآڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ میں اس گھپلہ کو ایک لاکھ 76ہزار کروڑ روپے دکھایا گیا تھا۔ سی بی آئی نے اپنے الزام میں اسے تقریباَ 31ہزار کروڑ روپے کا اسکامبتایا تھا۔الزامات منسوبہ سے بری ہونے والوں میںراجہ اورکنی موزی کے علاوہ اُس وقت کے ٹیلی کام سکریٹری سدھارتھ بیہورا، راجہ کے اس وقت کے پرائیوٹ سکریٹری اے کے چندولیا، سوان ٹیلی کام کے پروموٹر شاہد عثمان بلوا اور ونود گوئنکا، یونیٹیک لمیٹیڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر سنجے چندرا، ریلائنس انیل دھیرو بھائی امبانی گروپ کے تین اعلی افسران سریندر پپرا، گوتم دوشی او رہری نائر ، کوسیگاؤں فوڈس اینڈ ویجی ٹیبل پرائیوٹ لمیٹیڈ کے ڈائریکٹر آصف بلوا اور راجیو اگروال، کلائنگر ٹی وی کے ڈائریکٹر شرد کمار اور فلم ساز کریم مورانی شامل ہیں۔ان
کے علاوہ سوان ٹیلی کام پرائیوٹ لمیٹیڈ ، یونیٹیک وائرلیس ٹاملناڈو اور ریلائنس ٹیلی کام لمیٹیڈ بھی اس معاملے میں ملزم تھے جنہیں بری کیا گیا ہے ۔سی بی آئی نیجج سائنی کے سامنے دو کیس اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی )نے ایک کیس دائر کیا تھا۔سی بی آئی کے پہلے کیس میں راجہ اور کنی موزی کو اہم ملزم بنایا گیا تھا۔فیصلہ سنائے جانے سے پہلے عدالت کے احاطے میں زبردست بھیڑکی وجہ سے ملزمین عدالت نہیں پہونچ پائے تھے ، اس
کی وجہ سے کارروائی کچھ دیر کے لئے موخر کردی گئی۔ دوبارہ کارروائی شروع ہوئی تو انہوں نے ایک سطر کے اپنے فیصلے میں کہا کہ سرکاری وکیل الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہے ۔ اس دوران کنی موزی او راے راجہ کے حامی بھی عدالت کے کمرے میں موجود تھے ۔ فیصلہہوتے ہی تالیاں بجنے لگیں۔ ای ڈی نے اپنے چارج شیٹ میں ڈی ایم کے سربراہ کروناندھی کی اہلیہ دیالو امل کو بھی ملزم بنایا تھا ۔ اپنی عبوری رپورٹ میں ای ڈی نے 10 افراد اور9کمپنیوں کو منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت ملزم بنایا تھا ۔2جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ کے تحت 2010سے قبل ’’پہلے آؤ پہلے پاؤ‘‘کے تحت الاٹمنٹ کیا جاتا تھا۔اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد اس طریقے کار کو رد کرنے کے ساتھ ہی کئی الاٹمنٹ لائسنس مسترد کردئے گئے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT