Thursday , January 17 2019

۔ 99 فیصد اشیاء کو جی ایس ٹی کے 18 فیصد سے کم زمرہ میں لانے کی کوشش

جدید ٹیکس نظام سے تجارتی مارکٹ کے تضادات کا خاتمہ، معیشت میں شفافیت : مودی

ممبئی 18 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج اشارہ دیا کہ گڈس اینڈ سرویسس ٹیکس (جی ایس ٹی) کو مزید سہل بنانے کے اقدامات جاری ہیں اور کہاکہ ان کی حکومت چاہتی ہے کہ 99 فیصد اشیاء کو ذیلی 18 فیصد جی ایس ٹی زمرہ کے تحت لانے کو یقینی بنایا جائے۔ مودی نے ریپبلک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جی ایس ٹی پر عمل آوری سے قبل رجسٹرڈ کاروباری اداروں کی تعداد 65 لاکھ تھی جس میں اب مزید 55 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ’جی ایس ٹی نظام اب بری حد تک لاگو اور مستحکم ہوچکا ہے اور ہم اس موقف میں پہونچنے کی کوشش کررہے ہیں جہاں 99 فیصد اشیاء 18 فیصد سے تحت کے سلاب (زمرہ) میں لائی جائیں‘۔ انھوں نے اشارہ کیاکہ جی ایس ٹی کا 28 فیصد سلاب محض اشیاء تعیش جیسی چند مخصوص و منتخب اشیاء تک محدود رہے گا۔ وزیراعظم نے کہاکہ عام آدمی کے زیراستعمال تقریباً تمام 99 فیصد اشیاء کو 18 فیصد سے نیچے کے زمرہ میں لانے کو یقینی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ’’ہمارا نظریہ ہے کہ جی ایس ٹی کو تجارتی، صنعتی و کاروباری اداروں کے لئے ممکنہ حد تک سہل، آسان اور اطمینان بخش بنایا ہے‘۔ مودی نے کہاکہ ’اس سے پہلے موجودہ ویاٹ یا اکسائز ٹیکس ڈھانچوں کی بنیاد پر مختلف ریاستوں میں جی ایس ٹی کی حد مقرر کی جاتی تھی۔ وقفہ وقفہ سے غور و خوض اور تبادلہ خیال کے بعد اس میں بہتری پیدا کی جاتی رہی ہے‘۔ وزیراعظم نے کہاکہ ’ملک کئی دہائیوں سے جی ایس ٹی جیسے نظام کا مطالبہ کررہا تھا۔ مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ جی ایس ٹی پر عمل آوری سے تجارتی مارکٹ میں پائے جانے والے تضادات کا خاتمہ ہوا ہے اور اس نظام کی کارکردگی مزید بہتر ہورہی ہے۔ معیشت بھی شفاف ہورہی ہے‘۔ اُنھوں نے کہاکہ ترقی یافتہ ممالک میں چھوٹے اور معمولی ٹیکس اصلاحات بھی کوئی آسان عمل نہیں ہوتا۔ مودی نے ملک سے کرپشن کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کیلئے ان کی حکومت کے عزم و عہد کا اعادہ کیا اور کہاکہ ’ہندوستان میں کرپشن روز مرہ کی زندگی کا ایک نیا معمول بن گیا تھا۔ اس کو ’چلتا ہے‘ کہا جانے لگا تھا۔ جب کبھی آپ کرپشن کے بارے میں کچھ کہتے تو آپ سے یہی کہا جاتا رہا کہ یہ ہندوستان ہے۔ یہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔ مودی نے سوال کیاکہ ’لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے‘‘۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT