Tuesday , February 20 2018
Home / عرب دنیا / ۔107ارب امریکی ڈالر مالیتی سمجھوتوں کے بعد مشتبہ افراد کی رہائی

۔107ارب امریکی ڈالر مالیتی سمجھوتوں کے بعد مشتبہ افراد کی رہائی

ولیعہد شہزادہ پر اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کا الزام ‘ سعودی عرب کارباری سرگرمیوں کا احیاء
ریاض ۔11فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) سعودی عرب میں آج بدعنوانیوں کے خلاف مہم کے تین ماہ بعد کاروباری سرگرمیاں بحال ہوگئیں ۔ شاہی خاندان کے افراد کو بدعنوانیوں کے خلاف مہم کے دوران گرفتار کر کے ایک پُرتعیش قید خانہ میں قید کردیا تھا ۔ ان کے خلاف تحقیقات ہنوز جاری ہیں ۔ مملکت کے کئی اشرافیہ کے خلاف بدعنوانی کے الزامات ہیں ۔ یہ پُرتعیش ہوٹل جس میں شاہی خاندان کے افراد قید کئے گئے تھے بند کردی گئیں ۔ قبل ازیں کبھی شاہی خاندان کے افراد کے خلاف تحقیقات نہیں کی گئی تھیں لیکن گذشتہ نومبر میں ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ‘ اُسی وقت سے کاروباری سرگرمیاں پوری مملکت سعودی عرب میں متاثر ہوئی تھیں ۔ محمد بن سلمان جو نائب ولیعہد شہزادہ تھے اپنی گرفت شاہی خاندان کے افراد خلاف سخت کردی اور اپنے ولیعہد کی نامزدگی کے ذریعہ شاہی خاندان کو صدمہ سے دوچار کردیا ۔ ہوٹل کی ایک ریسپشنسٹ سے فون پر ربط پیدا کیا گیا تھا ‘ جب کہ ہوٹل کو عوام کیلئے کھول دیا گیا ۔ ایک اور ذریعہ نے توثیق کی کہ ہوٹل کے احاطہ میں اب کوئی بھی قیدی موجود نہیں ہیں ۔ اعلیٰ سطحی مشتبہ افراد میں سے اکثر بشمول شہزادہ الولید بن طلال جنہیں سعودی عرب کا عرب پتی سمجھا جاتا ہے ‘ حالیہ ہفتوں میں رہا کردیئے گئے ہیں اور عہدیداروں کا خیال ہے کہ مالیتی سمجھوتہ کے بعد یہ اقدام کیا گیا ہے ۔ اٹارنی جنرل شیخ سعود المجیب نے کہا کہ جنوری کے اوآخر میں تحقیقات کی تکمیل کے بعد 381 اعلیٰ سطحی افراد پر بدعنوانی کے الزامات عائد کئے گئے ہیں ۔ 56 افراد ہنوز زیرحراست ہیں اور باقی کو رہا کردیا گیا ہے ۔ باقی مشتبہ افراد کو دوسرے مقام پر منتقل کردیا گیا ہے ۔ مشتبہ افراد کے ساتھ جملہ سمجھوتوںکی مالیت 107ارب امریکی ڈالر ہے ۔ اس میں جائیداد ‘ تمسکات اور نقد رقم بھی شامل ہے۔ ایک اور اعلیٰ سطحی زیر حراست شخص سابق قومی گارڈس کے سربراہ شہزادہ مطیب بن عبداللہ کو رہا کردیا گیا ہے ۔ قبل ازیں عہدیداروں کے ساتھ ان کا سمجھوتہ ہونے کی اطلاع ملی تھی جس کی مالیت ایک ارب امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے ۔ 32سالہ شہزادہ محمد جو بادشاہ کے فرزند ہیں بدعنوانی کے خلاف کارروائی کی قیادت کررہے ہیں ۔ سرکاری عہدیداروں اور شاہی خاندان کے علاوہ گذشتہ تین ماہ سے زیادہ مدت میں کئی افراد کو زیر حراست لیکر سمجھوتہ کے بعد رہا کیا گیا ہے ۔ بعض ناقدین نے شہزادہ محمد کی مہم کو جس کے ذریعہ شاہی خاندان کے ارکان دہل کر رہ گئے ہیں اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کا منصوبہ ظاہر کیا ہے لیکن سرکاری عہدیداروں کا اصرار ہے کہ جن افراد کو نشانہ بنایا گیا وہ لوگ بدعنوانیوں میں ملوث تھے جب کہ سعودی عرب مابعدتیل دور کے لئے تیاری کررہا ہے ۔ نیویارک ٹائمز کو نومبر میں انٹرویو دیتے ہوئے شہزادہ محمد بن سلمان نے اس کارروائی کی اطلاعات کا تقابل اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کی کارروائی سے کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT