Thursday , December 14 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ۔12فیصد تحفظات مسلمانوں کی ترقی کیلئے ناگزیر

۔12فیصد تحفظات مسلمانوں کی ترقی کیلئے ناگزیر

سنگاریڈی میں اتوار کو اجلاس ، جناب عامر علی خاں مدعو، ایم جی انور کا بیان

سنگاریڈی۔/6جنوری، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) جناب ایم جی انور صدر ایم پی جے ضلع میدک نے جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر روز نامہ ’سیاست‘ سے ملاقات کرتے ہوئے 10جنوری بروز اتوار صبح 10:30 بجے سے اسلامک سنٹر ، جلال باغ سنگاریڈی میں ایم پی جے ضلع میدک کے زیر اہتمام منعقد شدنی اجلاس بعنوان ’’ مسلمانوں کی ترقی اور 12فیصد تحفظات‘‘ میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کرنے مدعو کیا جسے جناب عامر علی خاں نے قبول کرلیا۔ اتوار کی صبح اسلامک سنٹر سنگاریڈی میں منعقد ہونے والے اس اجلاس میں جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر روز نامہ ’سیاست‘ اور جناب ملک معتصم خان سکریٹری ملی و ملکی مسائل جماعت اسلامی ہند مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کریں گے۔ جبکہ ضلع میدک کے دانشوران، سماجی اور ملی تنظیموں کے ذمہ داران بطور اعزازی مہمانان شرکت کریں گے۔ جناب ایم جی انور صدر ایم پی جے ضلع میدک نے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ تلنگانہ کے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے چونکہ 12فیصد تحفظات مسلمانوں کی ترقی کیلئے ناگزیر ہیں۔  تحفظات کے ذریعہ مسلمانوں کی سیاسی، سماجی، معاشی اور تعلیمی پسماندگی کو دور کیا جاسکتا ہے

اور ان کی ترقی کی راہیں کھل سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ تقریباً 15سال پرانا ہے۔ ٹی آر ایس پارٹی کے قیام کے فوری بعد جاری کردہ پارٹی پالیسی میں 12 فیصد تحفظات دینے کا وعدہ کیا تھا۔2014 انتخابات میں ٹی آر ایس پارٹی نے اس وعدہ کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کیا۔ ٹی آر ایس پارٹی سربراہ اور وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ نے سابق میں متعدد مرتبہ اس وعدہ کو دہرایا تھا۔ جماعت اسلامی ہند کے نظام کالج جلسہ عام میں بھی بطور خاص 12فیصد مسلم تحفظات کا وعدہ کیا تھا۔ تلنگانہ حکومت قائم ہوکر دیڑھ سال کا عرصہ گذر گیا لیکن 12فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے جو ٹھوس کام ہونا چاہیئے وہ نہیں ہوا۔ تلنگانہ حکومت نے سدھیر کمیٹی تشکیل دی جو ریاست تلنگانہ کے اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے مسلمانوں کی پسماندگی کا جائزہ لے رہی ہے جو ایک اچھا اقدام ہے، لیکن 12فیصد مسلم تحفظات  فراہم کرنے کا اختیار سدھیر کمیشن کو نہیں ہے۔ ہمارے ملک کے دستور میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ ملک کی کسی بھی ریاست میں کسی بھی طبقہ کو بی سی قرار دیتے ہوئے تحفظات فراہم کرنے کیلئے بی سی کمیشن کی سفارشات لازم ہیں، اس حقیقت کے تناظر میں تلنگانہ حکومت فوری بی سی کمیشن قائم کرتے ہوئے کمیشن کے ذریعہ مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کیلئے مثبت، مدلل و تقابلی رپورٹ و سفارشات حاصل کرے اور اسی بنیاد پر تحفظات فراہم کئے جائیں تو دستور کے مطابق ہوگا اور عدالتوں میں چیلنج بھی نہیں کیا جاسکتا۔ بی سی کمیشن کی رپورٹ کی تیاری میں سدھیر کمیٹی رپورٹ بہترین معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ 31ہزار سے زائد سرکاری ملازمتوں پر تقررات کا عمل شروع ہوچکا ہے۔

اگر تلنگانہ حکومت فوری 12فیصد مسلم تحفظات فراہم کرتی ہے تو مسلمانوں کو کم و بیش 20ہزار سرکاری نوکریاں حاصل ہوں گی۔ نچلی سطح سے اعلیٰ عہدوں تک ہر جگہ مسلمانوں کو نمائندگی حاصل ہوگی۔ متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں مسلمانوں سے کی گئی ناانصافیوں کا ازالہ تلنگانہ حکومت 12فیصد تحفظات کے ذریعہ کرسکتی ہے۔1960 تک سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب تقریباً 20فیصد تھا جو گھٹ کر آج ایک فیصد سے بھی کم ہے اگر 12فیصد تحفظات مل جائیں تو پھر ایک مرتبہ سرکاری ملازمتوں میں ہماری حصہ داری بڑھے گی۔ 12فیصد تحفظات کا مطالبہ حکومت یا کسی بھی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہے بلکہ حکومت کو اپنا وعدہ یاد دلوانا اور اس وعدہ کی تکمیل کیلئے متوجہ کرنا ہے۔ یہ مسئلہ مسلمانوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کا ہے  چنانچہ ہمیں اپنی سیاسی وابستگیوں سے اوپر اُٹھ کر اس کو دیکھنا چاہیئے۔12فیصد کیلئے تمام مسلمانوں کو متحدہ طور پر جدوجہد کرنی چاہیئے، ہمیں اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھانی ہوگی۔ انہوں نے 10جنوری بروز اتوار صبح ساڑھے 10 بجے اسلامک سنٹر سنگاریڈی میں 12فیصد تحفظات اجلاس میں کثیر تعداد میں شرکت کی اپیل کی۔

TOPPOPULARRECENT