Friday , November 24 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ۔12فیصد تحفظات کے حصول تک جدوجہد کا عہد: سی پی ایم

۔12فیصد تحفظات کے حصول تک جدوجہد کا عہد: سی پی ایم

مسلمانوں کے مسائل سے عدم دلچسپی کا حکومت پر الزام، روز نامہ ’سیاست‘ کی تحریک کو آگے بڑھانے پر زور

دنظام آباد:4؍ نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)12فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے روزنامہ سیاست کی جانب سے شروع کردہ تحریک کادن بہ دن اثر ہوتا جارہا ہے۔ سی پی ایم پارٹی تحفظات کی فراہمی کیلئے تحریک میں شامل ہوتے ہوئے آج سی پی ایم آفس  نظام آباد میں گول میز کانفرنس کا اہتمام کیا ۔ اس کانفرنس میں 12 فیصد تحفظات، او بی سی سب پلان تحریک کے سکریٹری محمد عباس، سی پی ایم قائد کے علاوہ ضلع مسلم لیگ کے صدر ایم اے مقیت، ویلفیر پارٹی آف انڈیا کے ضلع صدر انور خان، محمد عبدالقادر ساجد صدر ضلع مجلس بچائو تحریک، محمد احد پاپولر فرنٹ آف انڈیا، رفیق خان، میناریٹی مسلم ویلفیر اسوسی ایشن، سرجیل پرویز ضلع مسلم لیگ سکریٹری، رمیش بابوسی آئی ٹی یوضلع سکریٹری، رفیق احمد رشادی پاپو لر فرنٹ، حیدرآباد سٹی صدر محمد نعیم، مجلس بچائو تحریک ایم اے نعیم، انڈین یونین آف مسلم لیگ ذاکریا، پاپولر فرنٹ کے علاوہ و دیگر نے شرکت کی۔ اس جلسہ کی صدارت سی پی ایم ٹائون سکریٹری گوردھن نے کی۔ اس موقع پر مخاطب کرتے ہوئے 12 فیصد تحفظات ا و بی سی سب پلان تحریک کے سکریٹری محمد عباس نے کہا کہ تحفظات ایک اہم مسئلہ ہے۔ مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے تحفظات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ سچر کمیٹی، رنگناتھ مشرا کمیٹی کی واضح طور پر رپورٹ ہونے کے باوجود بھی حکومت تحفظات کی فراہمی سے گریز کررہی ہے۔ مسلمانوں کے معاشی اور سیاسی و سماجی حالات کو ترقی  دینے کیلئے تحفظات فراہمی کیلئے چلائی جانے والی تحریک کو تمام طبقات کی تائیدناگزیر ہے اور اسی لئے سی پی ایم کی جانب سے یہ تحریک شروع کی گئی تھی اور اس کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے عثمان شہید ایڈوکیٹ کو اس کا کنونیر مقرر کیا گیا ہے اور یہ کمیٹی ریاست کے تمام اضلاع میں تحریک چلائے گی۔

نظام آباد میں تحریک کے چلانے کیلئے دستخطی مہم، کانفرنس،بھوک ہڑتال اور دیگر کئی پروگرامس کو انجام دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔ سماج کے ہر طبقہ کو اس میں شامل کرتے ہوئے حکومت کو سونچنے پر مجبور کرنا پڑیگا اور بی سی کمیشن کے قیام کو عمل میں لاتے ہوئے تحفظات حاصل کئے گئے تو بہتر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان انتہائی ابتر حالت میں ہے اور 22 فیصد مسلمانوں کے بچے مزدوری کررہے ہیں اور 40 فیصد سے زائد آبادی والے علاقوں میں مسلمانوں کے بچے ترک تعلیم کرتے ہوئے مزدوری کررہے ہیں۔ اس بات سے حکومت کے واقف ہونے کے باوجود بھی حکومت مسلمانوں کی ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ مسلمانوں کو دیگر طبقات کی طرح علیحدہ طور پر بجٹ منظور کرنے کی صورت میں ان کی ترقی یقینی ہوگی اور اس بجٹ کی منظوری کیلئے سب پلان کا بھی ہونا ناگزیر ہے۔ سب پلان ہونے کی صورت میں بجٹ خرچ اور مختص پر سوال کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ ریاستی بجٹ میں مسلمانوں کو صرف 1105 کروڑ روپئے مختص کیا گیا۔ تلنگانہ میں اقلیتوں کی 14فیصد آبادی ہونے کے باوجود بھی بجٹ میں آبادی کے تناسب سے بجٹ مختص نہیں کیا گیا اور آبادی کے تناسب سے بجٹ مختص کیا جاتا تو 60 ہزار کروڑ روپئے مختص کرنا تھا اور ہر سال ریاست کے فی خاندان کو 2لاکھ روپئے قرض دینے کی صورت میں 5 سالوں میں تمام افراد کو قرض حاصل ہوسکتا ہے

لیکن حکومت انہیں فائدہ پہنچانے سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتی جس کی وجہ سے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 12 فیصد تحفظات اور سب پلان کے قیام کیلئے تحریک چلانے کی خواہش کی۔ اس موقع پرسی آئی ٹی یو کے سکریٹری رمیش بابو نے اپنی تقریر میں کہا کہ سی پی ایم کی جانب سے شروع کردہ تحریک میں تمام افراد بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور مسلمانوں کی آبادی والے علاقوں میں پروگرامس کے انعقاد کے ذریعہ عوام کو واقف کروانے کی صورت میں یہ تحریک آگے بڑھ سکتی ہے اور آئندہ آنے والے دنوں میں اس کے زبردست نتائج حاصل ہوں گے۔ رفیق خان مسلم ویلفیر اسوسی ایشن نے اپنی تقریر میں روزنامہ سیاست کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک کی زبردست ستائش کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی معاشی اور سیاسی، سماجی، پسماندگی کو نظر میں رکھتے ہوئے مدیر سیاست جناب زاہد علی خان نے اس تحریک کا آغاز کیا تھا اور سی پی ایم کی جانب سے اسے آگے بڑھانے کیلئے ضلع سطح پر کئے جانے والے پروگرامس کو کامیاب بنانے کیلئے تمام افراد کا تعاون ناگزیر ہے اور اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی خواہش کی، سی پی ایم تحریک چلانے والی جماعت ہے اور اس کی کامیابی تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھے گی ۔ اس موقع پر انڈین یونین مسلم لیگ کے ضلع صدر ایم اے مقیت نے کہا کہ تحفظات اب اگر حاصل نہیں ہوئے تو کبھی بھی حاصل نہیں ہوں گے لہذا تحفظات کیلئے چلائی جانے والی تحریک کا زبردست ساتھ دیتے ہوئے اسے آگے بڑھانے اور تحفظات حاصل کرنے کی خواہش کی۔ مجلس بچائو تحریک کے ضلع صدر عبدالقادر ساجد نے اپنی تقریر میں کہا کہ ملک بھر میں فاشسٹ طاقتیں متحد ہورہی ہیں تو مسلمان متحد کیوں نہیں ہورہے ہیں اگر مسلمان متحد ہونے کی صورت میں ہر چیز، ہر مسئلہ پر قابوپایا جاسکتا ہے۔ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے حیدرآباد سٹی صدر رفیق احمد رشادی نے تحریک کو آگے بڑھانے کیلئے علماء اور ائمہ کا تعاون حاصل کرنے کی خواہش کی۔ اس موقع پر ویلفیر پارٹی آف انڈیا کے ضلع صدر انور خان نے تحریک کو منصوبہ بند طریقہ سے آگے بڑھانے کی خواہش کی۔ اس جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے سی پی ایم ٹائون سکریٹری گوردھن نے سی پی ایم کی جانب سے شروع کردہ تحریک کو آگے بڑھانے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے پروگراموں کو چلانے کی خواہش کی۔ اس اجلاس میں 12 ؍ نومبر کے روز ایک کانفرنس کے انعقاد کیلئے کنونیر کی حیثیت سے انور خان ، ایم اے مقیت اور ایم اے احد کو کوکنونیر کی حیثیت سے مقرر کیا گیا۔ 7؍ نومبر کے روز دستخطی مہم کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT