Friday , February 23 2018
Home / Top Stories / ۔12فیصد تحفظات ۔ پارلیمنٹ میں ہنگامہ برپا کرینگے : کے سی آر

۔12فیصد تحفظات ۔ پارلیمنٹ میں ہنگامہ برپا کرینگے : کے سی آر

 

مرکز سے مایوسی کی صورت میں سپریم کورٹ سے حاصل کرنے کی اُمید

حیدرآباد ۔9۔ نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے یقین ظاہر کیا کہ مسلمانوں کے 12 فیصد تحفظات کی مرکزی حکومت سے منظوری حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوگی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے مسلم اور ایس ٹی تحفظات پر مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے عمل آوری میں تعاون کا یقین دلایا ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت مسلم تحفظات کو پارلیمنٹ میں منظوری دیتے ہوئے دستور کے نویں شیڈول میں شامل نہیں کرے گی تو ٹی آر ایس حکومت کے پاس سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہے گا۔ اضافی تحفظات کی برقراری کا واحد راستہ دستور کے 9 ویں شیڈول میں شمولیت ہے۔ کے سی آر نے وزیراعظم پر واضح کردیا کہ وہ مسلم تحفظات کو 9 ویں شیڈول میں شامل کریں یا پھر مسترد کردیں تاکہ وہ سپریم کورٹ سے قانونی جدوجہد کا آغاز کریں۔ چیف منسٹر نے اعلان کیا کہ پارلیمنٹ کے مجوزہ سرمائی سیشن میں ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ مسلم تحفظات کے مسئلہ پر پر زور آواز اٹھائیں گے اور مرکز پر دباؤ بنایا جائے گا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر کل جماعتی وفد کے ساتھ وزیراعظم سے نمائندگی کی جائے گی۔کے سی آر نے کہا کہ مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کو تحفظات کے فیصد میں اضافہ کے سلسلہ میں اندیشوں اور شبہات کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ٹی آر ایس کے لئے جدوجہد کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جس طرح تلنگانہ کے حصول کیلئے کامیاب جدوجہد کی گئی ، اسی طرح مسلم اور ایس ٹی تحفظات کے لئے ہر طرح کی جدوجہد اور حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تحفظات کے فیصد میں اضافہ کا واحد راستہ دستور کے 9 ویں شیڈول میں شمولیت ہے۔ سپریم کورٹ نے مجموعی تحفظات کو 50 فیصد سے زائد نہ کرنے کی حد مقرر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام ریاستوں کیلئے ایک ہی قانون ہوتا ہے۔ ہر ریاست کیلئے الگ الگ قانون نہیں ہوسکتا۔ٹاملناڈو میں مجموعی تحفظات 69 تا 70 فیصد ہیں۔ وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ کے دور میں اس وقت کی چیف منسٹر ٹاملناڈو جیہ للیتا نے تحفظات میں اضافہ کی قانون سازی کی تھی جسے مرکزی حکومت نے 9 ویں شیڈول میں شامل کرلیا۔ اس طرح 1994 ء میں پارلیمنٹ نے قانون سازی کے ذریعہ ٹاملناڈو کے تحفظات کو دستوری دائرہ میں شامل کیا۔ کے سی آر نے بتایا کہ وزیراعظم سے ملاقات کے دوران انہوں نے مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کی پسماندگی کا حوالہ دیتے ہوئے مسلمانوں کے موجودہ تحفظات کو 4 سے بڑھاکر 12 فیصد کرنے اور ایس ٹی طبقہ کے تحفظات کو 11 سے 12 فیصد کرنے میں مرکز سے تعاون کی خواہش کی تھی ۔ وزیراعظم نے اس پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا اور مناسب وقت پر اس سلسلہ میں کارروائی کا تیقن دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے پہلے 5 فیصد تحفظات دیئے تھے جسے بعد میں گھٹاکر 4 کردیا گیا ۔ وہ اس طرح کی صورتحال سے بچنے کیلئے تحفظات کو دستوری دائرہ میں شامل کرنے کے خواہاں ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران ہی انہوں نے مسلمانوں کے لئے 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تھا۔

)
چیف منسٹر نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات کے دوران انہوں نے اس بات کی خواہش کی تھی کہ بدلتے حالات میں بعض مسائل کو ریاستوں کے حوالے کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات کسی ریاست کا نہیں بلکہ ملک کا مسئلہ ہے۔ آزادی کی 70 سالہ تاریخ میں بدلتے حالات کو دیکھتے ہوئے بعض اختیارات ریاستوں کو منتقل کئے جانے چاہئیں۔ ریاستوں میں سماجی مساوات اور تناسب تبدیل ہورہا ہے ، لہذا تحفظات کا مسئلہ ریاستوں کے تحت کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹاملناڈو میں دستوری تحفظ کے باوجود اضافی تحفظات ابھی بھی سپریم کورٹ میں زیر تصفیہ ہے۔ اسی بنیاد پر تلنگانہ حکومت بھی سپریم کورٹ سے رجوع ہوسکتی ہے کہ جب ٹاملناڈو کو 69 فیصد تحفظات کی اجازت ہے تو تلنگانہ کو کیوں نہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سیاست دوسری پارٹیوں کیلئے کھیل ہوسکتا ہے لیکن ٹی آر ایس کیلئے یہ ایک ٹاسک ہے۔ تلنگانہ کا حصول ہو یا پھر تحفظات ٹی آر ایس اسے ٹاسک کے طور پر پورا کرے گی۔ مجھے یقین ہے کہ تحفظات کے حصول میں صد فیصد کامیاب رہیں گے۔ کانگریس پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ کانگریس نے کئی دہوں تک مرکز میں اقتدار سنبھالا ، اگر وہ مسلمانوں کی ترقی پر توجہ مرکوز کرتی تو آج مسلمان پسماندہ نہ ہوتے اور وہ تحفظات کا مطالبہ نہ کرتے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات میں اضافہ کا مطالبہ انصاف پر مبنی ہے اور وہ اس کے حصول کیلئے اپنی تمام تر توانائی صرف کردیں گے۔ قائد اپوزیشن جانا ریڈی نے چیف منسٹر کو مشورہ دیا کہ وہ مرکز سے تحفظات کے مسئلہ پر نمٹنے چوکس رہیں کیونکہ وزیراعظم سپریم کورٹ کے مقدمہ کا بہانہ بناکر مسئلہ کو ٹال سکتے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہم ضرور چوکس رہیں گے اور تحفظات کو پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے ۔ کانگریس پارٹی تحفظات کے حق میں ہے ، لہذا پارلیمنٹ کی منظوری کے حصول میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT