Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ۔12 فیصد تحفظات پر محمد محمود علی کا طنزیہ ریمارک افسوسناک

۔12 فیصد تحفظات پر محمد محمود علی کا طنزیہ ریمارک افسوسناک

مسلمانوں کے ملازمتوں سے محروم ہونے کا احساس نہیں ، تلنگانہ مایناریٹی ویلفیر سنگم کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 18 ۔ نومبر : ( پریس نوٹ ) : ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ محمد محمود علی نے تحفظات کے ضمن میں جو بیان دیا ہے وہ انتہائی افسوس ناک ہے ۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا ایم آر او اور آر ڈی اوز کو یادداشتیں پیش کرنے سے تحفظات حاصل ہوجائیں گے ؟ ڈپٹی چیف منسٹر کا اس طرح کا بیان باوقار عہدوں کی اہمیت کو گھٹانے کے برابر ہے ۔ ہندوستان میں آج بھی ضلع کلکٹر کی حیثیت تمام محکمہ جات کے لیے ایک بادشاہ جیسی ہے اور آرڈی اوز اور ایم آر اوز فوج کے کمانڈرس کی حیثیت رکھتے ہیں حکومت کی کوئی بھی پالیسی حکومت کی کوئی بھی اسکیم بغیر کلکٹر کے ممکن نہیں ہے ۔ حکومت کے ہر کام ضلع کلکٹر کی منظوری سے ہی عمل میں آتے ہیں ۔ پرامن احتجاج ، ہندوستانی عوام کا جمہوری حق ہے ۔ عوام کسی بھی مسئلہ پر احتجاج کرنا ہو تو وہ ضلع کلکٹروں پر ہی احتجاج کر کے اپنی نمائندگیاں پیش کرتے ہیں تاکہ وہ حکومت وقت تک عوام کی بات پہنچائیں ۔ کھسیانی بلی کھمبانوچے کے مصداق مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے کبھی سدھیر کمیٹی تو کبھی مرکزی حکومت کو نمائندگی کردینے کا ذکر کر کے خاموش نہیں کیا جاسکتا ۔ ٹی آر ایس حکومت ہر حال میں 12 فیصد تحفظات دینے کی پابند ہے ۔ 12 فیصد تحفظات نہ ملنے کی وجہ سے لاکھوں ہزاروں مسلمان ملازمتوں سے محروم ہوتے جارہے ہیں ۔ اس یہ محض حکومت کی جانبدارانہ پالیسی کی وجہ ہے ۔ لہذا اب حکومت حیلے بہانے ختم کرے ۔ بانی و صدر تلنگانہ میناریٹی ویلفیر سنگھم جناب ایم اے روف خاں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ٹاملناڈو گورنمنٹ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بی سی کمیشن کے ذریعے اپنے مینو فیسٹیو وعدہ کو پورا کرے ۔ حکومت واقعی نیک نیت ہے تو وہ آرڈیننس کے ذریعہ ہی اپنے وعدہ کو پورا کرسکتی ہے ۔ ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT